
نوید ملک عصر حاضر کے نامور شاعر ہیں جو جڑواں شہروں کے شعری افق پر چھائے ہوئے ہیں اور اپنی خوب صورت شاعری کے رنگ بکھیرتے نظر آتے ہیں. سبز اڑان آپ کی حال ہی میں شائع ہونے والی ایک ایسی شعری تصنیف ہے جس میں زیادہ تر کلام آپ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم سے محبت و عقیدت پر مبنی شاعری پر مشتمل ہے اس کے علاوہ حمد باری تعالیٰ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا،حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا،خلفائے راشدین وغیرہ کے مناقب بھی بیان کئے گئے ہیں،
سبز اڑان سے پہلے نوید ملک کی غزلوں کے دو مجموعے،ایک سفر اندھیرے میں اور تاب دان، نظموں کے دو مجموعے،کامنی اور ارتعاش، ایک طویل نظم منقوش اور اوزان ڈائری اشاعت پذیر ہو چکی ہے .اوزان ڈائری میں شعری اوزان کی تفصیل بیان کی گئی ہے . آپ کی نئی شعری تصنیف،سبز اڑان کا نام ہی اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ شاعر کا دل حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مزار مبارک اور گنبد خضریٰ کے دیدار کے لیے تڑپ رہا ہے آخر کار اس کی یہ خواہش بر آتی ہے اور اس کی دعائیں قبولیت کی سند حاصل کر لیتی ہیں اور وہ گنبد خضریٰ کے مہمان بننے کی سعادت حاصل کر لیتے ہیں
ہم گنبد خضریٰ کے مہمان رہے اک دن
آئینوں میں سبز اب تک سب عکس ہمارے ہیں
نوید ملک کے اندر کی کیفیت میں تغیر آنا فطری بات تھی اور غزل لکھتے لکھتے ان کے قلم سے نعتیہ اشعار صفحات پر منتقل ہونا شروع ہو گئے
دل کی شاخوں سے الجھتے ہوئے پل چھوڑ کے ہم
نعت لکھنے کی طرف آئے غزل چھوڑ کے ہم
نوید ملک جب نعت رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کہنے کی طرف آئے تو پھر جو الفاظ آپ کے اندر سے باہر نکلنے کے منتظر تھے انہوں نے نعتیہ اشعار کا روپ دھار لیا اور شاعر کو خسارے سے بچا لیا
بادبانوں کی ضرورت نہیں رہتی ان کو
جو ترے ہو گئے ان کے ہیں کنارے سارے
میرے اندر کے ورق پر تھے کئی لفظ وبال
روح سے دھل گئے اک پل میں خسارے سارے
اسی ضمن میں ایک اور خوب صورت شعر ملاحظہ فرمائیں
نشر ہونے کی تڑپ تھی کئی حرفوں میں نوید
اور پھر لفظ صدا کار ہوئے ان کے لیے
نوید ملک کے حساس دل نے جب انہیں اپنے آس پاس نگاہ دوڑانے کی جانب راغب کیا تو آپ کو چرند، پرند،شجر و حجر حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کی شان میں نعت خوانی کرتے نظر آئے
پرندے اس لئے بھی چہچہائیں
سناتا ہے انہیں ہر اک شجر نعت
شاعر حضورِ اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم پر درود بھیجتے رہتے ہیں تو اس عمل میں پنچھی بھی آپ کے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں
جب بھی پڑھیں درود، تو پنچھی بھی ہوں شریک
جھک کر کریں سلام، یہ سارے شجر ہمیں
درود پڑھتے ہوئے کھولتے ہیں دروازے
ہم اپنے گھر سے نکلتے ہیں اعتماد کے ساتھ
جب سے درود پاک کو وظیفہ بنا لیا
میرے رسول نے مجھے اپنا بنا لیا
نوید ملک نے مدحت رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کے طفیل الگ اسلوب اپنایا ورنہ شاعری میں رنگ جمائے رکھنا آسان نہیں تھا
تیری مدحت کے طفیل اپنا جدا ہے اسلوب
ورنہ مشکل تھا یہاں رنگ جمائے رکھنا
ہر اک صفحے پر کھلتے حرفوں کی خوشبو
بوسے میرے لفظوں کے ان پر ہیں قربان
ایک اور خوب صورت شعر ملاحظہ فرمائیں
شاعروں سے نہیں کرتا میں حسد بھی نوید
نعت میں ہو مرا ہر ایک سے معیار الگ
اسی طرح اس شعر کو دیکھیں
نعت لکھتا ہوں تو صفحوں پہ نوید
حرف ہو جاتے ہیں تازے سارے
نوید ملک نے سبز اڑان میں حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کے دنیا میں تشریف آوری کا ذکر بھی بڑے خوبصورت انداز میں کیا ہے
آپ آئے تو بشارت سے یہ دنیا مہکی
اور پھر ہونے لگی سب پہ ہویدا رحمت
نوید آقا کی آمد پر یہ سرشاری کا عالم ہے
پرندے نعت پڑھتے ہیں تو پتھر رقص کرتے ہیں
حضور اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم اللّٰہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اس کا ذکر بھی شاعر اس کتاب میں کرتے ہیں
سلسلہ ختم نبوّت کا ہوا
اب نبی کوئی نہیں آپ کے بعد
سبز اڑان نوید ملک کی ایسی کتاب ہے جس میں تمام اشعار حضورِ اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کی محبت و عقیدت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور شاعر کے دل کی کیفیت بیان کر رہے ہیں ،اس شعری مجموعے میں شاعر کے دل میں موجزن حضورِ اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کی محبت،مدینہ منورہ جا کر در اقدس پر حاضری کی تمنّااور حاضری کی سعادت حاصل کرنے کے بعد کے تاثرات وخیالات کا بیان ہے،
حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کے اوصاف کا بیان بہت کم ہے،امید ہے کہ شاعر اپنے اگلے شعری مجموعے میں اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے سبز اڑان کا مطالعہ عاشقانِ رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کے ذوقِ مطالعہ کی تشنگی کو ختم کرنے کا باعث اور نوید ملک کی شعری گرفت کی مضبوطی کا ثبوت ہے،اللّٰہ تعالیٰ آپ کے زور قلم میں مزید نکھار پیدا فرمائے آمین