دو سگے بھائیوں کے قتل کی سپاری لینے والا اجرتی قاتلوں کا گینگ اپنے انجام کو پہنچ گیا ۔ایک بھائی ارشاد اپنی بیٹیوں کے سامنے قتل ہو گیا جبکہ راولپنڈی پولیس کی بروقت اور مؤثر حکمت عملی سے دوسرے بھائی شہزاد کے قتل ہونے سے پہلے ہی ملزمان اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔
یکم دسمبر ۲۰۲۵ کو راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی کی حدود میں دن کو ۲ بجے کے قریب اڈیالہ روڈ پر پیٹرول پمپ کا مالک ارشاد اپنی ڈبل کیبن سفید ویگو پر اپنی ۳ چھوٹی معصوم بیٹیوں کو سکول سے لے کر واپس گلی کے اندر داخل ہوا تو 4 اجرتی قاتلوں نے پیچھا کرتے ہوئے موٹرسائیکل ساتھ جوڑ کر اندھا دھند فائرنگ کر کے ارشاد کو 3 معصوم بیٹیوں کے سامنے قتل کر کے فرار ہو گئے ۔
زیر نظر تصویر میں ارشاد اپنی بیٹیوں کے ساتھ موجود ہے اور ویڈیو میں قتل کرنے اور بعد میں مقتول کی 3 بیٹیاں اپنے باپ کو اپنے سامنے قتل ہوتے دیکھ کر روتے اور چیختے گھر کی طرف بھاگ رہی ہیں جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی باپ کو اپنے سامنے قتل ہوتا دیکھ کر خوف سے گرتی پڑتی ،کبھی گھر اور کبھی باپ کی طرف دوڑتی نظر آ رہی ہے ۔۔۔۔ٹارگٹ کلنگ کا یہ انتہائی سفاک ، پیچیدہ ،پراسرار اور مشکل کیس کو راولپنڈی پولیس نے ٹیکنیکل اور ہیومن ریسورس سے نہ صرف 30 یوم کے اندر حل کیا بلکہ ملزمان بھی اپنے انجام کو پہنچے جسکا سہرا بلا شک اور شبہ راولپنڈی پولیس کے مصمم فیصلہ کرنے والے اور مضبوط اعصاب کے مالک CPO خالد محمود ہمدانی کو جاتا ہے ۔راولپنڈی پولیس بلا شک شبہ تعریف کی حقدار بنتی ہے ۔۔
واضح رہے کہ اس کار سنیچر اور شوٹر گینگ کو کسی دوسرے ملک سے کنٹرول اور آپریٹ کیا جا رہا تھا ۔جسکے تانے بانے جوڑتے ہوئے پولیس انٹرپول سے رابطے بھی کر رہی ہے۔جسکے بارے میں مزید سنسنی خیز انکشاف کی توقع ہے ۔۔۔