ایک فکری و اصلاحی کالم ۔۔ از قلم رانا غلام صفدر
حج اسلام کا عظیم رکن، روحانی تربیت کا مرکز اور بندۂ مومن کی زندگی کا ایسا مبارک سفر ہے جہاں انسان اپنے رب کے حضور سراپا عاجزی بن کر حاضر ہوتا ہے حج صرف چند اعمال ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی پاکیزگی، اخلاق کی اصلاح اور ادب و احترام کا عملی درس بھی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حج کے ارکان کے ساتھ ساتھ ان مقدس مقامات کے ادب کو بھی سمجھیں، کیونکہ عبادت کی قبولیت میں ادب کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
حج کے بنیادی ارکان میں احرام باندھنا، وقوفِ عرفہ، طوافِ زیارت، سعی بین الصفا والمروہ اور دیگر مناسک شامل ہیں۔ جب ایک حاجی لبیک اللّٰہم لبیک کی صدا بلند کرتا ہے تو گویا وہ دنیا کی ہر نمود و نمائش کو چھوڑ کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور خانہ کعبہ شریف میں طواف کے دوران انسان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ دنیا کے سب سے مقدس مقام میں کھڑا ہے، جہاں ہر لمحہ رحمتیں نازل ہورہی ہیں۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کل بعض لوگ ان مقدس مقامات کی روحانیت کو نظر انداز کرکے دنیاوی مشاغل میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ کوئی موبائل سے مسلسل سیلفیاں بنا رہا ہوتا ہے، کوئی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر بھیجنے میں مشغول ہوتا ہے، اور بعض لوگ دورانِ عبادت بلند آواز میں کالیں کرکے دوسروں کی عبادت میں خلل ڈال رہے ہوتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اپنی توجہ کو عبادت سے ہٹاتا ہے بلکہ دوسروں کے خشوع و خضوع کو بھی متاثر کرتا ہے۔
مسجد نبوی شریف میں حاضری کے وقت تو ادب اور بھی بڑھ جاتا ہے، کیونکہ یہ وہ مقدس مقام ہے جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آرام فرما ہیں۔ وہاں بلند آواز میں گفتگو کرنا، ہنسی مذاق کرنا یا غیر ضروری ویڈیو سازی میں مصروف رہنا ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ قرآنِ مجید نے بھی ادبِ رسول ﷺ کا خصوصی حکم دیا ہے کہ اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو۔ جب قرآن یہ تعلیم دیتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ روضۂ رسول ﷺ کے قریب انتہائی عاجزی، خاموشی اور احترام کا مظاہرہ کریں۔
حج دراصل نفس کی تربیت کا نام ہے۔ اگر انسان وہاں جا کر بھی دکھاوے، شہرت اور دنیاوی مصروفیات میں گم رہے تو پھر اس روحانی سفر کا مقصد کمزور پڑ جاتا ہے۔ موبائل فون ایک ضرورت ضرور ہے، لیکن اسے عبادت پر غالب کردینا درست نہیں۔ حاجیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ ذکر، دعا، تلاوت اور استغفار پر مرکوز رکھیں۔ مقدس مقامات کو سیاحتی مقام نہیں بلکہ عبادت اور روحانیت کا مرکز سمجھیں۔
آج علماء، خطباء اور دینی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حاجیوں کو صرف مناسکِ حج ہی نہ سکھائیں بلکہ ادبِ حرمین شریفین کی تعلیم بھی دیں۔ لوگوں کو یہ شعور دیا جائے کہ وہاں کا ہر لمحہ قیمتی ہے، ہر قدم عبادت ہے اور ہر ادا میں عاجزی ہونی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ تمام حاجیوں کو حجِ مبرور نصیب فرمائے اور ہمیں حرم مکہ شریف اور اور مسجد نبوی شریف کے ادب و احترام کو دل و جان سے اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔