سیکرٹری بار ایسوسی ایشن کلرسیداں، راجہ سمیر حسن ایڈووکیٹ نے تھانہ کلرسیداں کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مبینہ غیر قانونی کارروائیوں پر شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے کرایہ داری رجسٹریشن کے نام پر علاقے کے شہریوں کو بلاجواز ہراساں کرنا معمول بنا دیا ہے۔
پولیس کی جانب سے رہائشی مکان مالکان اور ان کے کرایہ داروں کے خلاف من گھڑت مقدمات درج کیے گئے، جبکہ بازاروں میں بیٹھے مزدور اور تاجر بھی اس بلاجواز پکڑ دھکڑ کا شکار ہوئے۔ کئی گھروں میں گھس کر ملازمین اور کام کرنے والوں کو بھی مالکان سمیت گرفتار کیا گیا، جو کہ شہری حقوق اور انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
راجہ سمیر حسن ایڈووکیٹ نے کہا کہ “حکومت پنجاب کے دباؤ پر تھانہ کلرسیداں نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے۔ شہریوں کو نہ کوئی نوٹس دیا گیا، نہ کوئی قانونی ضابطہ پورا کیا گیا، اور تھانہ میں درجنوں مقدمات درج کئے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ معزز علاقہ مجسٹریٹ نے زیادہ تر مقدمات میں ملزمان کو ڈسچارج کر دیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پولیس کارروائی سراسر بے بنیاد اور غیر منصفانہ تھی۔
انہوں نے حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ اس بلاجواز ہراسانی کو فی الفور روکا جائے، اور شہریوں کی عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، ورنہ بار ایسوسی ایشن اور عوام شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
سیکرٹری بار نے کہا کہ غریب عوام کو بلاوجہ تنگ کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے، اور اس کی ہر سطح پر مذمت کی جاتی ہے۔