اسلام آباد کو بچاؤ

پانی بچاؤ، جنگل بچاؤ، ماحول بچاؤ اسلام آباد کی روح بچاؤ
اسلام آباد صرف دارالحکومت نہیں، یہ پاکستان کے حسن، تہذیب، روحانیت، تاریخ اور قدرتی ماحول کی علامت ہے۔ اسے صرف سیکٹرز، سڑکوں، پلازوں اور سرکاری عمارتوں سے نہیں پہچانا جا سکتا۔
یہ وہ خطہ ہے جہاں بری امام حضرت شاہ عبداللطیف کاظمیؒ کی روحانی نسبت ہے، جہاں پیر مہر علی شاہؒ کی علمی و روحانی میراث ہے، جہاں گولڑہ شریف کی تہذیبی شناخت ہے اور خانانِ گولڑہ کی تاریخ موجود ہے۔ چراہ، علی پور، نیو کٹاریاں، مہرآبادی اور دیگر قدیم آبادیوں نے بھی اس خطے کی سماجی شناخت تشکیل دی ہے۔
راجگان، کھوکھروں، اعوانوں، گوجروں، قاضیوں اور دیگر مقامی خاندانوں کو اسلام آباد کی تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ خان خدابخش، ملک باری، لوہربھیر کے اعوان اور بے شمار مقامی خاندانوں نے اس خطے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔


جدید اسلام آباد کی سیاسی تاریخ میں میاں محمد اسلم کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے، جنہوں نے شہری مسائل کو سیاسی سطح پر اجاگر کیا اور اسلام آباد کو ایک الگ سیاسی شناخت دینے میں اپنا حصہ ڈالا۔
لیکن آج سب سے بڑا سوال یہ ہے:
کیا ہم اس تاریخی، تہذیبی اور قدرتی اسلام آباد کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کر دیں گے؟


اسلام آباد ہر مون سون میں کیوں ڈوبتا ہے؟
مسئلہ صرف بارش نہیں۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے پانی کے راستے بند کر دیے ہیں۔
جہاں قدرتی نالے تھے، وہاں تعمیرات ہوئیں۔ جہاں پانی زمین میں جذب ہوتا تھا، وہاں کنکریٹ بچھ گیا۔ جہاں برساتی پانی کی قدرتی گزرگاہیں تھیں، وہاں دیواریں، سڑکیں اور مکانات بن گئے۔


پھر بارش آتی ہے تو پانی اپنا راستہ تلاش کرتا ہے۔
اسے معلوم نہیں ہوتا کہ سامنے مکان کس کا ہے، سوسائٹی کس کی ہے یا زمین کا مالک کون ہے۔
پانی اپنا راستہ لے کر رہتا ہے۔
آج جو نالہ بند ہوگا، کل وہ سیلاب بن کر واپس آئے گا۔
گھر بنانے سے پہلے زمین کی سطح، قدرتی نالوں، پانی کے بہاؤ، نکاسیٔ آب اور گزشتہ برسوں کے سیلابی ریکارڈ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
صرف پلاٹ خرید لینا اور نقشہ منظور کرا لینا منصوبہ بندی نہیں؛
قدرت کے نظام کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
مارگلہ کو کاروبار نہیں، امانت سمجھو
اسلام آباد کا اصل حسن بلند عمارتیں نہیں۔


اس کا اصل حسن مارگلہ کی پہاڑیاں، جنگلات، درخت، چشمے، وادیاں اور جنگلی حیات ہیں۔
اگر پہاڑوں کو کاٹا جائے، درخت فروخت ہوں، پتھر نکالے جائیں، تعمیرات پھیلتی جائیں اور ہر خوبصورت مقام کو کمرشل منصوبہ بنا دیا جائے تو پھر اسلام آباد کی وہ شناخت کہاں باقی رہے گی جس کے لیے دنیا اسے جانتی ہے؟
مارگلہ اسلام آباد کا قدرتی تاج بھی ہے اور قدرتی محافظ بھی۔
اس لیے مارگلہ کے حساس علاقوں میں تعمیرات، غیر ضروری درختوں کی کٹائی اور پہاڑوں سے پتھر نکالنے پر سخت پابندی ہونی چاہیے۔
مارگلہ کو حقیقی معنوں میں ایک محفوظ قدرتی پارک بنایا جائے۔
یہ پہاڑ آج کی حکومتوں یا آج کے سرمایہ داروں کی ملکیت نہیں؛
یہ آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔
جنگلی حیات اسلام آباد کی پہچان ہے
بندر، ہرن، نیل گائے، جنگلی سور اور دیگر مقامی جنگلی حیات اسلام آباد کے قدرتی ماحول کا حصہ ہیں۔


جنگلی حیات کے مسکن محفوظ کیے جائیں۔ ان کے قدرتی راستے اور خوراک کے ذرائع برقرار رکھے جائیں اور انسانی آبادی کے پھیلاؤ کو جنگلی حیات کے علاقوں سے دور رکھا جائے۔
اسلام آباد ایسا ماڈل سٹی بن سکتا ہے جہاں:
انسان بھی محفوظ ہو، جنگل بھی محفوظ ہو اور جنگلی حیات بھی محفوظ ہو۔
اگر درست منصوبہ بندی کی جائے تو اسلام آباد کا قدرتی خطہ ایشیا کے بہترین شہری قدرتی پارکوں میں شمار ہو سکتا ہے اور پاکستان کی عالمی شناخت بن سکتا ہے۔
راول ڈیم کو آلودگی سے بچاؤ
اسلام آباد کے لیے پانی زندگی ہے۔


راول ڈیم اور اس کے کیچمنٹ ایریا کو آبادی، سیوریج اور آلودگی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
بنی گالہ، بری امام، بہارہ کہو اور گردونواح میں آبادی بڑھ رہی ہے۔ اگر سیوریج کا گندا پانی قدرتی گزرگاہوں کے ذریعے آبی ذخائر تک پہنچتا ہے تو یہ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی صحت کا مسئلہ بھی ہے۔
صاف پانی عیاشی نہیں، بنیادی ضرورت ہے۔


راول ڈیم کے کیچمنٹ ایریا میں سیوریج، تعمیرات اور آلودگی کے بارے میں واضح پالیسی، مسلسل نگرانی اور سخت عمل درآمد ضروری ہے۔
آبادی بڑھی، منصوبہ بندی کہاں ہے؟
اسلام آباد آج صرف اسلام آباد کی آبادی کا شہر نہیں رہا۔
پورے پاکستان سے لوگ یہاں روزگار، تعلیم، علاج، کاروبار اور بہتر زندگی کی تلاش میں آتے ہیں۔
یہ شہر کی کامیابی بھی ہے، لیکن ایک بڑا انتظامی چیلنج بھی۔
آبادی بڑھی تو کیا پانی، سیوریج، ہسپتال، سڑکیں، پارکنگ، پبلک ٹرانسپورٹ اور شہری سہولتیں بھی اسی رفتار سے بڑھیں؟
پمز اور پولی کلینک جیسے بڑے ہسپتالوں پر بڑھتا ہوا بوجھ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صحت کے نظام کو آبادی کے تناسب سے وسعت دی جائے۔


صرف نئی عمارتیں کافی نہیں؛ مکمل شہری منصوبہ بندی چاہیے۔
الیکٹرک بسیں اچھی شروعات ہیں
اسلام آباد میں الیکٹرک بسوں کا آغاز ایک مثبت قدم ہے۔
لیکن جدید پبلک ٹرانسپورٹ صرف چند بسوں کا نام نہیں۔
الیکٹرک بسوں کو میٹرو، فیڈر روٹس، راولپنڈی کے ٹرانسپورٹ نظام، پیدل راستوں اور پارک اینڈ رائیڈ سہولتوں کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔
ایسا نظام ہونا چاہیے کہ شہری کو ہر چھوٹے کام کے لیے اپنی گاڑی نکالنے کی ضرورت نہ پڑے۔


نئی ہاؤسنگ اسکیمیں، مگر اسلام آباد کے مزاج کے مطابق
ہم ترقی کے مخالف نہیں۔
ہم جدید ہسپتال چاہتے ہیں۔
اچھی سڑکیں چاہتے ہیں۔
روزگار چاہتے ہیں۔
تعلیمی ادارے چاہتے ہیں۔
جدید ٹرانسپورٹ چاہتے ہیں۔
لیکن ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ:
درخت ختم، پہاڑ زخمی، نالے بند، جنگلی حیات بے گھر اور تاریخ فراموش کر دی جائے۔
نئی ہاؤسنگ اسکیمیں بنانی ہیں تو انہیں اسلام آباد کے قدرتی ماحول اور شہری مزاج کے مطابق بنایا جائے۔


ہر سبز میدان کو پلاٹ،
ہر پہاڑی کو کمرشل زون،
ہر نالے کو تعمیراتی زمین
اور ہر قدرتی مقام کو کاروبار سمجھنے کا رویہ ختم کرنا ہوگا۔
اسلام آباد کی اصل قیادت کو دیوار سے نہ لگایا جائے
اسلام آباد صرف حکمرانوں، سرکاری افسران اور سفارت خانوں کا شہر نہیں۔
یہ یہاں کے عام شہری، مقامی آبادی، تاجر، مزدور، استاد، وکیل، ڈاکٹر، علماء اور نوجوانوں کا بھی شہر ہے۔


اسلام آباد کے مستقبل کے فیصلوں میں مقامی لوگوں، ماہرین ماحولیات، شہری نمائندوں اور حقیقی اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔
جماعت اسلامی، الخدمت فاؤنڈیشن اور دیگر فلاحی و سماجی اداروں کو بھی شہری مسائل پر منظم عوامی مہم کا حصہ بننا چاہیے۔
ایک جامع ماسٹر پلان وقت کی ضرورت ہے
اسلام آباد کو بچانے کے لیے ایسا ماسٹر پلان چاہیے جس میں:
قدرتی نالے محفوظ ہوں۔
برساتی گزرگاہیں محفوظ ہوں۔
جنگلات محفوظ ہوں۔
مارگلہ محفوظ ہو۔
گرین بیلٹس محفوظ ہوں۔
راول ڈیم کا کیچمنٹ محفوظ ہو۔
جنگلی حیات محفوظ ہو۔
تاریخی مقامات محفوظ ہوں۔
مقامی آبادیوں کے حقوق محفوظ ہوں۔
اور نئی تعمیرات ماحول دوست ہوں۔


غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی سیاسی وابستگی، اثر و رسوخ یا مالی طاقت دیکھ کر نہیں بلکہ قانون کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
اسلام آباد کو بچانا ہے تو آج فیصلہ کرنا ہوگا
کل بہت دیر ہو سکتی ہے۔
جو درخت آج کاٹا جائے گا، اسے واپس آنے میں دہائیاں لگیں گی۔
جو نالہ آج بند ہوگا، وہ کل سیلاب بن سکتا ہے۔
جو پہاڑ آج کاٹا جائے گا، وہ دوبارہ اپنی اصل شکل میں شاید کبھی واپس نہ آئے۔
جو جنگل آج ختم ہوگا، اس کے ساتھ ایک پورا ماحولیاتی نظام ختم ہو جائے گا۔
اس لیے:
پانی بچاؤ۔
جنگل بچاؤ۔
مارگلہ بچاؤ۔
قدرتی نالے بچاؤ۔
راول ڈیم بچاؤ۔
جنگلی حیات بچاؤ۔
اسلام آباد کی تاریخ بچاؤ۔
اسلام آباد کی روح بچاؤ۔
اسلام آباد کو صرف دارالحکومت نہ رہنے دیں۔
اسے پاکستان کی خوبصورتی، تہذیب، روحانیت اور قدرتی حسن کی عالمی علامت بنائیں۔
کیونکہ شہر صرف اینٹ، پتھر اور سیمنٹ سے نہیں بنتے؛
شہر اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، اپنے لوگوں اور اپنی فطرت سے پہچانے جاتے ہیں۔
اور یاد رکھیے:
اسلام آباد بارش سے نہیں ڈوبتا، ہماری غلط منصوبہ بندی سے ڈوبتا ہے۔
اسلام آباد کو بچاؤ!
پانی بچاؤ!
جنگل بچاؤ!
ماحول بچاؤ!