کہوٹہ کا بیوٹیفیکیشن منصوبہ: آزمائش کب ختم ہوگی؟


ارسلان اصغر کیانی
کہوٹہ ایک تاریخی، اہم اور حساس شہر ہے، جہاں شہری سہولیات، کاروباری سرگرمیوں اور ٹریفک کا دارومدار چند اہم شاہراہوں اور مرکزی بازار پر ہے۔ ایسے شہر میں جب کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کا آغاز ہوتا ہے تو عوام بجا طور پر توقع کرتے ہیں کہ اس سے ان کی زندگی آسان ہوگی، کاروبار کو فروغ ملے گا، شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا اور بنیادی سہولیات بہتر ہوں گی۔ لیکن اگر یہی منصوبہ طویل عرصے تک نامکمل رہے، اہم سڑکیں اکھاڑ دی جائیں، راستے محدود ہوں، بارش کا پانی کھڑا ہو، گرد و غبار شہریوں کو متاثر کرے اور تاجر بھاری کرائے ادا کرنے کے باوجود کاروباری مشکلات کا شکار ہوں تو پھر سوال اٹھانا عوام کا حق ہے۔
کہوٹہ میں جاری کروڑوں روپے کے بیوٹیفیکیشن منصوبے کے حوالے سے آج سب سے اہم سوال یہی ہے کہ یہ منصوبہ آخر کب مکمل ہوگا؟
تھانہ روڈ اور مین بازار کہوٹہ شہر کی وہ اہم شاہراہیں ہیں جہاں روزانہ ہزاروں شہری، تاجر، طلبہ، ملازمین، مریض، مسافر اور گاڑیاں گزرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہیوی ٹریفک کی آمدورفت بھی اسی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے میں سڑکوں کو کھود کر طویل عرصے تک نامکمل چھوڑ دینا صرف ایک تعمیراتی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ پورے شہری نظام کو متاثر کرتا ہے۔
ترقیاتی منصوبہ یقیناً ضروری ہے، لیکن ترقی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کام بھی ہو اور عوام کے لیے متبادل سہولت بھی موجود ہو۔ اگر ایک سڑک اکھاڑی جائے تو اسے مرحلہ وار مکمل کیا جائے، اگر فٹ پاتھ توڑا جائے تو پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستہ بنایا جائے، اگر نکاسیٔ آب متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو بارش سے پہلے اس کا حل نکالا جائے۔ بدقسمتی سے کہوٹہ کے شہری موجودہ صورتحال میں ان بنیادی اصولوں کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔
بارش کے دنوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے۔ جہاں تعمیراتی کام نامکمل ہو، زمین اکھڑی ہوئی ہو اور نکاسیٔ آب کا نظام متاثر ہو، وہاں بارش کا پانی سڑکوں اور بازار کے مختلف حصوں میں جمع ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ لیکن اس کا خمیازہ عام شہری اور تاجر بھگتتا ہے۔ دکان تک پہنچنے والا گاہک مشکل راستے کی وجہ سے واپس چلا جاتا ہے، پیدل چلنے والا کیچڑ اور پانی سے گزرتا ہے اور دکاندار اپنی دکان کے سامنے کھڑے پانی کو دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو تاجروں کا ہے۔ کاروباری طبقہ پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بلوں، ٹیکسز اور دیگر اخراجات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود تاجر دکانوں کے بھاری کرائے ادا کرتے ہیں۔ جب کاروباری علاقے میں طویل عرصے تک تعمیراتی سرگرمی جاری رہے، راستے متاثر ہوں، گاہکوں کی آمدورفت کم ہو اور گرد و غبار کا ماحول ہو تو کاروبار براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا منصوبہ بنانے والوں نے تاجروں کے اس نقصان کو بھی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا تھا؟
اگر نہیں بنایا تو آئندہ کے لیے اس سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔
اس معاملے میں صرف متعلقہ تعمیراتی ادارہ ہی جواب دہ نہیں۔ منتخب نمائندگان کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ عوامی مسائل کو سنجیدگی سے اٹھائیں۔ عوام اپنے نمائندگان کو اس امید پر منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کی آواز متعلقہ فورمز تک پہنچائیں گے۔ اگر شہر میں کروڑوں روپے کا منصوبہ زیرِ تعمیر ہو اور شہری مسلسل مشکلات کا شکار ہوں تو نمائندگان کو موقع پر جا کر صورتحال دیکھنی چاہیے، متعلقہ محکموں سے پیش رفت معلوم کرنی چاہیے اور عوام کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ منصوبہ کب تک مکمل ہوگا۔
محض یہ کہنا کہ کام جلد مکمل ہو جائے گا، اب کافی نہیں۔ شہری واضح ٹائم لائن چاہتے ہیں۔
اسی طرح اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ اور مقامی انتظامیہ بھی اس معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ انتظامیہ کا کردار صرف دفتر تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ شہر میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے عوامی مسائل کا جائزہ لینا، متعلقہ اداروں کو متحرک کرنا اور شہریوں کے لیے کم سے کم مشکلات کو یقینی بنانا انتظامی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
اگر کسی منصوبے میں تاخیر ہو رہی ہے تو عوام کو بتایا جائے کہ وجہ کیا ہے۔ اگر ٹھیکیدار کی طرف سے تاخیر ہے تو کیا کارروائی ہوئی؟ اگر فنڈز یا تکنیکی مسئلہ ہے تو اسے کب حل کیا جائے گا؟ اگر منصوبے کی مدت ختم ہو چکی ہے تو توسیع کیوں دی گئی؟ یہ سوالات کسی فرد کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ عوامی جواب دہی اور شفافیت کے لیے ضروری ہیں۔
کہوٹہ کے شہری اب یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کے مسائل پر وقتی طور پر یقین دہانیاں تو بہت ملتی ہیں، مگر عملی پیش رفت کم دکھائی دیتی ہے۔ عوام کو بار بار لالی پاپ دینے کے بجائے انہیں نتائج دیے جانے چاہئیں۔ سیاسی نمائندگی ہو یا انتظامی اختیار، دونوں کا اصل امتحان یہی ہے کہ عام شہری کو اپنے روزمرہ مسائل میں کتنی سہولت ملتی ہے۔
یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ عوام ترقیاتی منصوبے کے مخالف نہیں ہیں۔ کوئی بھی باشعور شہری شہر کی خوبصورتی، بہتر سڑکوں، خوبصورت فٹ پاتھوں اور جدید شہری سہولیات کی مخالفت نہیں کرے گا۔ عوام صرف یہ چاہتے ہیں کہ ترقی منظم، شفاف، بروقت اور عوام دوست ہو۔
اگر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تو اس کے معیار پر بھی سوال اٹھے گا۔ منصوبے کی لاگت کیا ہے؟ کام کا معیار کون جانچ رہا ہے؟ نگرانی کون کر رہا ہے؟ مکمل ہونے کے بعد اس کی پائیداری کیسے یقینی بنائی جائے گی؟ اور کیا شہریوں کو اس منصوبے کی تکمیل کے بعد واقعی وہ سہولیات ملیں گی جن کا وعدہ کیا گیا ہے؟
کہوٹہ کو اس وقت سیاسی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نمائندگان کو میدان میں آنا ہوگا، انتظامیہ کو متحرک ہونا ہوگا اور متعلقہ محکمے کو کام کی رفتار تیز کرنا ہوگی۔ مین بازار کی اکھڑی ہوئی سڑکوں، متاثرہ فٹ پاتھوں، پانی کے نکاس، ٹریفک اور تاجروں کے مسائل کو ایک ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں سوال صرف ایک منصوبے کا نہیں بلکہ شہری ترجیحات اور حکمرانی کے معیار کا ہے۔
کیا کہوٹہ کے شہریوں کو بنیادی سہولیات کے لیے مسلسل انتظار کرنا ہوگا؟ کیا ہر بار وعدہ ہی کافی سمجھا جائے گا؟ کیا نمائندگان عوام کے سامنے منصوبے کی تکمیل کی حتمی تاریخ رکھیں گے؟ کیا انتظامیہ اس منصوبے کی رفتار، معیار اور شہری مشکلات کا باقاعدہ جائزہ لے گی؟
کہوٹہ کے عوام ترقی چاہتے ہیں، مگر ایسی ترقی نہیں جو سہولت آنے سے پہلے ہی شہریوں کے لیے آزمائش بن جائے۔
اب وقت آگیا ہے کہ وعدوں کا مرحلہ ختم ہو اور عملی کام سامنے آئے۔ کروڑوں روپے کا منصوبہ اپنی مقررہ مدت میں مکمل ہو، سڑکیں بحال ہوں، بارش کے پانی کا مؤثر نکاس ہو، تاجروں کو مزید نقصان سے بچایا جائے اور شہریوں کو بتایا جائے کہ آخر اس منصوبے کی تکمیل کی حتمی تاریخ کیا ہے۔
کہوٹہ سوال کر رہا ہے، اور اس سوال کا جواب صرف تقریروں سے نہیں بلکہ مکمل شدہ منصوبے کی صورت میں ملنا چاہیے۔