
میں وولی میمتھ ہوں۔ میں ایک بہت بڑا، طاقتور اور حیرت انگیز جانور تھا جو ہزاروں سال پہلے برفانی دور (Ice Age) میں زمین پر رہتا تھا۔ میرا جسم لمبے اور گھنے بالوں سے ڈھکا ہوا تھا تاکہ میں سخت سردی میں بھی زندہ رہ سکوں۔ میرے بڑے بڑے مڑے ہوئے دانت (دانتوں کو tusks کہتے ہیں) تھے، جن کی مدد سے میں برف ہٹا کر نیچے سے خوراک تلاش کرتا تھا۔
میں زیادہ تر ٹھنڈے اور برفیلے علاقوں جیسے سائبیریا اور شمالی امریکہ میں رہتا تھا۔ اس وقت زمین پر ہر طرف برف پھیلی ہوئی تھی اور درجہ حرارت بہت کم ہوتا تھا۔ میرے جیسے جانور اسی ماحول کے مطابق بنے ہوئے تھے۔میری خوراک زیادہ تر گھاس، پودے، جھاڑیاں اور درختوں کی چھال ہوتی تھی۔ سردیوں میں جب سب کچھ برف کے نیچے چھپ جاتا تھا تو میں اپنے مضبوط دانتوں سے برف کو ہٹا کر خوراک نکالتا تھا۔
میں اکیلا نہیں رہتا تھا بلکہ اپنے خاندان کے ساتھ جھنڈ کی شکل میں رہتا تھا۔ ہم ایک دوسرے کی حفاظت کرتے تھے، خاص طور پر چھوٹے بچوں کا خیال رکھتے تھے۔ جب کوئی خطرہ ہوتا، جیسے درندے یا انسان، تو ہم سب اکٹھے ہو کر مقابلہ کرتے یا محفوظ جگہ کی طرف چلے جاتے تھے۔وقت کے ساتھ ساتھ زمین کا موسم بدلنے لگا۔ برفانی دور ختم ہونے لگا اور زمین گرم ہونے لگی۔ برف پگھلنے سے ہمارے رہنے کے علاقے کم ہوتے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانوں نے بھی ہمارا شکار شروع کر دیا، جس کی وجہ سے ہماری تعداد تیزی سے کم ہونے لگی۔
آخرکار ایک وقت ایسا آیا جب ہم وولی میمتھ زمین سے ختم ہو گئے۔ آج ہماری باقیات (ہڈیاں اور دانت) برف میں محفوظ ملتی ہیں، جن سے سائنسدان ہماری زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ہم آج بھی انسانوں کے لیے ایک دلچسپ اور حیرت انگیز مخلوق ہیں، اور ہماری کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ماحول کی تبدیلی اور بے جا شکار کسی بھی جاندار کو ختم کر سکتا ہے۔