لاہور (پنڈی پوسٹ نیوز)لاہور کے علاقے شادمان میں 26 اگست کی شام ٹریفک پولیس اہلکار کی جانب سے موٹرسائیکل سوار کو روکنے کی کوشش کے دوران پیش آنے والے حادثے میں زخمی ہونے والا نوجوان پانچ روز بعد دورانِ علاج دم توڑ گیا۔شادمان مارکیٹ یوٹرن پر شام تقریباً ساڑھے 5 بجے ٹریفک پولیس اہلکار معمول کے مطابق ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ ایک نوجوان موٹرسائیکل سوار تیز رفتاری سے وہاں سے گزرا۔ نوجوان نے ہیلمٹ بھی نہیں پہن رکھا تھا۔ڈیوٹی پر موجود ٹریفک اسسٹنٹ نے اسے رکنے کا اشارہ کیا، تاہم موٹرسائیکل سوار کے نہ رکنے پر ٹریفک اسسٹنٹ نے اسے ہینڈل سے پکڑنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں دونوں اہلکار اور نوجوان سڑک پر گر کر زخمی ہوگئے۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے بعدازاں واقعے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی، جس میں حادثے کے لمحات دیکھے جا سکتے ہیں۔
حادثے کے فوراً بعد دونوں زخمیوں کو سرکاری گاڑی کے ذریعے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ٹریفک اسسٹنٹ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا، تاہم موٹرسائیکل سوار نوجوان، جو لاہور کی تحصیل ساندہ کا رہائشی بتایا جاتا ہے، کی حالت تشویش ناک ہونے کے باعث اسے اسپتال میں داخل کرلیا گیا۔
نوجوان پانچ روز تک زیرِ علاج رہا، تاہم منگل کے روز دورانِ علاج دم توڑ گیا، واقعے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حادثے کے فوراً بعد نوجوان کے خلاف تھانہ شادمان میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔لاہور ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق واقعے میں موٹرسائیکل سوار کا بغیر ہیلمٹ ہونا، تیز رفتاری اور رکنے کے اشارے کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب واقعے کے بعد ٹریفک وارڈن کی جانب سے چلتی موٹرسائیکل کو سڑک پر روکنے کی کوشش کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹریفک اہلکاروں کو گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو روکنے کے محفوظ طریقۂ کار پر سختی سے عمل کرایا جائے تاکہ معمول کی کارروائی کسی جانی نقصان کا سبب نہ بنے۔