
پیر طریقت رہبر شریعت حضرت قبلہ صوبیدار مسنجف علی سرکارؒ ایک درویش، ایک عہد اور ایک روحانی روایت
کوٹلی ستیاں صرف قدرتی حسن، بلند و بالا پہاڑوں، گھنے جنگلات اور صحت افزا موسم کا نام نہیں، بلکہ یہ خطہ صدیوں سے مذہبی، روحانی اور صوفیانہ روایات کا بھی امین چلا آ رہا ہے۔ اس خطے کے مختلف دیہات اور مواضعات میں قائم خانقاہیں، دربار اور مساجد آج بھی اہلِ علاقہ کے روحانی اور مذہبی تشخص کی علامت ہیں۔ انہی روحانی مراکز میں دربارِ عالیہ بلاوڑہ شریف کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے، جہاں حضرت پیر صوبیدار مسنجف علی سرکارؒ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ دین، تصوف، اصلاحِ احوال اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کیا۔
حضرت پیر صوبیدار مسنجف علی سرکارؒ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے صرف عقیدت کافی نہیں، بلکہ ان کی زندگی، تربیت، فوجی خدمات، روحانی سفر اور اپنے مرشدِ کامل سے وابستگی کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلاوڑہ شریف کی روحانی روایت آج بھی اپنے عقیدت مندوں کے ساتھ ساتھ اہلِ تحقیق اور اہلِ علاقہ کے لیے بھی ایک موضوعِ مطالعہ بنی ہوئی ہے۔
روایات کے مطابق حضرت پیر صوبیدار مسنجف علی سرکارؒ 1932ء میں بلاوڑہ شریف، تحصیل کوٹلی ستیاں میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد محترم حضرت میر خان ستی اور والدہ ماجدہ حضرت بی بی امیرالنساء تھیں۔ آپ کا تعلق ایک ایسے ماحول سے تھا جہاں مذہبی اقدار، بزرگوں کی نسبت اور روحانی روایات کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔
بلاوڑہ شریف کا نام بھی مقامی روایات کے مطابق حضرت بلاول خان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ خطہ اپنی روحانی نسبتوں، خانقاہی روایت اور بزرگانِ دین سے وابستہ تاریخ کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتا ہےحضرت مسنجف علی سرکارؒ نے ابتدائی تعلیم مقامی سطح پر حاصل کی۔ بعد ازاں افواجِ پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور فوجی زندگی میں اپنی ذمہ داریاں نہایت نظم و ضبط کے ساتھ ادا کیں۔ آپؒ صوبیدار میجر کے منصب سے ریٹائر ہوئے۔ فوجی زندگی کے ساتھ ساتھ دینی اور روحانی جستجو بھی آپ کی شخصیت کا اہم حصہ رہی۔مرشدِ کامل کی تلاش حضرت مسنجف علی سرکارؒ کے روحانی سفر کا ایک اہم باب حضرت پیر صوفی صدیق اکبرؒ سے وابستگی ہے۔ روایات کے مطابق آپؒ نے اپنے مرشدِ کامل کی خدمت میں طویل عرصہ گزارا اور روحانی تربیت کے مراحل طے کیےتصوف کی روایت میں مرشد و مرید کا تعلق محض عقیدت تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس میں اصلاحِ نفس، تزکیہ، صبر، خدمت، شریعت کی پابندی اور کردار سازی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
حضرت مسنجف علی سرکارؒ کی زندگی کے حوالے سے بھی یہی پہلو نمایاں طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے مرشد کی صحبت اور تربیت سے فیض حاصل کیا اور بعد ازاں مخلوقِ خدا کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایاان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ روحانیت کے ساتھ عملی زندگی کے تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا۔ فوج میں خدمات انجام دینا، تعلیم کا حصول اور پھر روحانی و سماجی خدمت کا سلسلہ جاری رکھنا ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے۔حضرت مسنجف علی سرکارؒ سے منسوب روایات میں عشقِ رسول ﷺ، شریعت کی پابندی، اصلاحِ معاشرہ اور خدمتِ انسانیت کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔ یہی وہ پہلو ہے جو کسی بھی صوفیانہ روایت کو محض کرامات اور حکایات سے نکال کر عملی زندگی سے جوڑتا ہے۔
بلاوڑہ شریف آنے والے عقیدت مندوں کی بڑی تعداد آج بھی اس روحانی روایت کو حضرت مسنجف علی سرکارؒ کی نسبت سے دیکھتی ہے۔ ان کے نزدیک دربار صرف ایک زیارت گاہ نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں وہ اپنے دکھ، پریشانیاں اور دعائیں لے کر آتے ہیں یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بزرگوں سے منسوب کرامات اور روحانی واقعات کے بارے میں مختلف روایات موجود ہوتی ہیں ان روایات کو بیان کرتے ہوئے عقیدت اور تحقیق کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اصل اہمیت اس پیغام کی ہے جو کسی بزرگ کی زندگی سے معاشرے تک پہنچتا ہے: اللہ تعالیٰ سے تعلق، رسولِ اکرم ﷺ سے محبت، عبادت، اخلاق، خدمت اور انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہونا۔
17 ستمبر 2004 کو حضرت قبلہ پیر صوبیدار مسنجف علی سرکارؒ کے وصال کے بعد بلاوڑہ شریف کی روحانی مسند ان کے صاحبزادہ حضرت صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار کے پاس آئی۔ انہوں نے اپنے بزرگوں کی روحانی روایت کو آگے بڑھایا اور بلاوڑہ شریف کو ایک وسیع روحانی مرکز کی صورت دینے میں کردار ادا کیا۔وقت کے ساتھ ساتھ بلاوڑہ شریف آنے والے زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ راولپنڈی، اسلام آباد، پنجاب کے مختلف اضلاع، ملک کے دیگر علاقوں اور بیرونِ ملک سے بھی عقیدت مند اس دربار سے وابستہ ہوتے رہے۔
دربار کی انتظامیہ نے سماجی رابطوں کے ذرائع کو بھی استعمال کیا، جس کے باعث بلاوڑہ شریف کی سرگرمیوں اور روحانی پیغام تک دور دراز علاقوں کے لوگوں کی رسائی ممکن ہوئی۔بلاوڑہ شریف کی طرح ہر بڑی مذہبی یا روحانی نسبت کے بارے میں مختلف آراء پائی جا سکتی ہیں۔ کسی بھی شخصیت یا ادارے کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ سنی سنائی باتوں کے بجائے مشاہدہ، تحقیق اور معتبر معلومات کو بنیاد بنایا جائے۔
قرآنِ کریم ہمیں بھی یہی اصول سکھاتا ہے کہ خبر کی تحقیق کی جائے تاکہ نادانستہ طور پر کسی قوم یا فرد کے بارے میں ناانصافی نہ ہواسی اصول کے تحت حضرت مسنجف علی سرکارؒ اور بلاوڑہ شریف کی روایت کا مطالعہ کرتے ہوئے عقیدت کے ساتھ ساتھ تحقیق اور مشاہدے کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حصہ ہے، لیکن اختلاف کو الزام، تعصب یا ذاتی رنجش میں تبدیل کرنا کسی طور مناسب نہیں۔حضرت پیر صوبیدار مسنجف علی سرکارؒ کا وصال 17 ستمبر 2004ء بروز جمعہ بلاوڑہ شریف میں ہوا۔ آپؒ کے وصال کو بائیس برس مکمل ہونے پر رواں سال بھی 17 ستمبر کو دربارِ عالیہ بلاوڑہ شریف میں 22ویں سالانہ ختمِ پاک برائے ایصالِ ثواب منعقد کیا جا رہا ہے۔
یہ موقع صرف ایک سالانہ مذہبی اجتماع نہیں بلکہ ان عقیدت مندوں کے لیے اپنے بزرگوں کی یاد تازہ کرنے، قرآن خوانی، ذکر و اذکار، درود و سلام اور ایصالِ ثواب کا ذریعہ بھی ہے جو حضرت مسنجف علی سرکارؒ سے روحانی نسبت رکھتے ہیں۔
17 ستمبر کا دن بلاوڑہ شریف کی روحانی تاریخ میں اس لیے بھی اہم ہے کہ یہی وہ تاریخ ہے جب اس خطے کے ایک معروف روحانی بزرگ نے اس دنیا سے پردہ فرمایا۔ آج ان کی یاد ان کے مزار، ان کے خاندان، ان کے عقیدت مندوں اور اس روحانی روایت کی صورت میں موجود ہے جو وقت گزرنے کے باوجود جاری ہے۔
ایک بزرگ کی اصل میراث کسی بزرگ کی عظمت صرف ان سے منسوب واقعات کی کثرت سے نہیں ناپی جاتی۔ اصل میراث وہ فکر، کردار اور خدمت ہے جو ان کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہےحضرت پیر صوبیدار مسنجف علی سرکارؒ کی زندگی کو اسی زاویے سے دیکھا جائے تو ایک ایسے انسان کا نقش سامنے آتا ہے جس نے فوجی نظم و ضبط سے لے کر روحانی تربیت تک زندگی کے مختلف مراحل طے کیے، اپنے مرشد سے وابستگی اختیار کی اور بعد ازاں مخلوقِ خدا کی خدمت اور اصلاح کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔
بلاوڑہ شریف آج بھی اسی نسبت کی علامت ہے۔17 ستمبر کو ہونے والا 22واں سالانہ ختمِ پاک برائے ایصالِ ثواب اسی روحانی نسبت کی تجدید کا ایک موقع ہے۔ یہ اجتماع عقیدت مندوں کو اپنے بزرگ کی یاد کے ساتھ قرآن، درود، دعا، ذکر اور ایصالِ ثواب کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت پیر صوبیدار مسنجف علی سرکارؒ کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، ان کی روحانی نسبت سے وابستہ تمام افراد کو دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے اور دربارِ عالیہ بلاوڑہ شریف میں منعقد ہونے والے 22ویں سالانہ ختمِ پاک کو خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔اور شاید کسی درویش کی زندگی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اس کی نسبت کو تعصب نہیں، تحقیق؛ اختلاف نہیں، اخلاق؛ اور عقیدت کو محض دعوے کے بجائے خدمتِ خلق کے ذریعے زندہ رکھا جائے۔