واشنگٹن (پنڈی پوسٹ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے مذاکرات کا اگلا دورآئندہ 2 روز میں پاکستان میں ہوسکتا ہے۔ نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے بات چیت کیلئے ہمارے وفد کا پاکستان جانے کا امکان ہے، ایران سے مذاکرات کا اگلا دورآئندہ 2 روز میں پاکستان میں ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں مذاکرات کا اگلا دور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کررہے ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر زبردست ہیں اس لئے امکان ہے کہ ہم دوبارہ پاکستان جائیں۔ ہم ایسے ملک میں کیوں جائیں جس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کررہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے صحافی کو مشورہ دیا کہ آپ کو وہاں رہنا چاہیئے اگلے دو دنوں میں کچھ ہوسکتا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کیلئے پاکستان جانے کا امکان زیادہ ہے ، پتا کیوں؟ کیونکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بہت اچھا کام کررہے ہیں۔
مزید برآں امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ یورپ توانائی کیلئے بے حد پریشان ہے، برطانیہ شمالی سمندر سے تیل نکالنے سے انکار کررہا ہے، برطانیہ کا یہ اقدام بالکل پاگل پن ہے۔ ڈرل بے بی ڈرل۔ شمالی سمندر دنیا کے بہترین ذخائر میں سے ایک ہے۔ ناروے اپنا خام تیل برطانیہ کو دگنی قیمت پر فروخت کررہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مزید ونڈملز کی ضرورت نہیں، برطانیہ فوری طور پر تیل نکالنا شروع کرے۔
یاد رہے کہ اس قبل 12 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ختم نہیں ہوئے اور ایرانی وفد ‘‘ابھی بھی مذاکرات کی میز سے نہیں اٹھا’’۔ایک ٹی وی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ایران دوبارہ مذاکرات میں واپس آئے گا اور وہ امریکہ کی تمام شرائط تسلیم کرے گا۔ ان کے مطابق، ‘‘میں نے اپنے لوگوں سے کہا ہے کہ مجھے 100 فیصد چاہیے، 90 یا 95 فیصد نہیں۔ہراتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ایران کے توانائی کے ڈھانچے اور بجلی گھروں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کے بقول، ‘‘میں ایک دن میں ایران کو مکمل طور پر نشانہ بنا سکتا ہوں۔’’انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے جوہری عزائم امریکہ کے لیے ناقابل قبول ہیں اور ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کئی نکات پر پیش رفت ہوئی، تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔