صاف ستھرا پنجاب: سوال شفافیت کا!

تحصیل کہوٹہ میں جاری صاف ستھرا پنجاب پروگرام بلاشبہ اہم عوامی منصوبہ ہے، جس کا بنیادی مقصد شہری علاقوں کو صاف، صحت مند اور بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتِ پنجاب نے اس منصوبے کو خصوصی اہمیت دی اور اس کیلئے سرکاری وسائل، افرادی قوت اور مالی وسائل مختص کیے لیکن ہر عوامی منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف اعلانات اور دعوﺅں پر نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ اس منصوبے میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد کس حد تک موجود ہے۔

تحصیل کہوٹہ میں اس منصوبے کے حوالے سے کئی سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ٹی ایم اے کی جانب سے ہر ماہ صاف ستھرا پنجاب پروگرام کو کتنی رقم ادا کی جا رہی ہے، اب تک کتنی ادائیگیاں ہو چکی ہیں اور ان اخراجات کا مکمل سرکاری ریکارڈ کیا ہے؟اسی طرح ایک اہم سوال زیرِ استعمال کتنی گاڑیاں موجود ہیں،

ان گاڑیوں کے کرایوں کی مد میں ماہانہ کتنی رقم خرچ ہو رہی ہے، یہ گاڑیاں کن افراد یا کمپنیوں کی ملکیت ہیں، کون سی گاڑی کس یونین کونسل میں ڈیوٹی انجام دے رہی ہے اور ان کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟ چونکہ یہ تمام اخراجات بالآخر عوامی وسائل سے پورے کیے جاتے ہیں اس لیے ان تفصیلات کا عوام کے سامنے آنا ضروری ہے۔کتنے ملازمین کی تنخواہیں براہِ راست ٹی ایم اے ادا کر رہا ہے؟

ٹی ایم اے کے مستقل صفائی ملازمین میں سے کتنے اس وقت آر ڈبلیو ایم سی کے تحت خدمات سرانجام دے رہے ہیں؟ ہر یونین کونسل میں کتنے ملازمین اور ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ ان تمام امور میں شفافیت نہ صرف انتظامی بہتری لاتی ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مضبوط کرتی ہے۔عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کچرے کے وزن کا تعین کس طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے؟ کارکردگی کی جانچ کے معیارات کیا ہیں

اور بونس کی منظوری کن پیمانوں پر دی جاتی ہے؟ ایسے تمام معاملات میں شفاف اور قابلِ تصدیق نظام کا ہونا ناگزیر ہے ۔اگر ملازمین کو درپیش مسائل، انتظامی مشکلات یا رویوں سے متعلق تحفظات موجود ہیں تو ان کی بات بھی سنی جانی چاہیے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی صرف مشینری یا بجٹ سے نہیں بلکہ اس افرادی قوت سے جڑی ہوتی ہے جو عملی میدان میں خدمات سرانجام دے رہی ہوتی ہے۔

اگر تمام معاملات قانون اور قواعد کے مطابق چل رہے ہیں تو مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے لانے سے اعتماد مزید بڑھے گا۔ صاف ستھرا پنجاب صرف ایک صفائی مہم نہیں بلکہ ایک امتحان بھی ہے، امتحان اس بات کا کہ کیا ہم عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت، جوابدہی اور اعتماد کی وہ مثال قائم کر سکتے ہیں جس کی ایک جمہوری اور فلاحی معاشرے سے توقع کی جاتی ہے۔ کیونکہ عوام کا پیسہ، عوام کی امانت ہے، اور امانت کا حساب دینا ہی اچھی حکمرانی کی بنیاد ہے۔