
آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ فیس بک، یوٹیوب، واٹس ایپ، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز نے دنیا کو ایک گلوبل گاوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان بھی اس تبدیلی سے الگ نہیں۔ ہماری عوام، خصوصاً نوجوان نسل، سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کے حالات، معلومات اور رجحانات سے لمحوں میں آگاہ ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے بے شمار مثبت مواقع پیدا کیے ہیں۔ اس کے صحیح استعمال سے پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں، آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کاروبار شروع کر رہے ہیں اور سماجی مسائل پر آواز بلند کر رہے ہیں۔ بہت سے نوجوانوں نے سوشل میڈیا کی بدولت روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں اور پاکستان کا مثبت تشخص دنیا تک پہنچایا ہے۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کو صرف تفریح تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے ملک و قوم کی خدمت کا ذریعہ بھی بنائیں۔ پاکستان کو درپیش مسائل، جیسے تعلیم، صفائی، پانی کا ضیاع، شجرکاری، فلاحی سرگرمیاں اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوان اپنی تحریروں، ویڈیوز اور پیغامات کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کر سکتے ہیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وطن سے محبت صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی خدمت سے ثابت ہوتی ہے۔
لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ جھوٹی خبریں، نفرت انگیز مواد، کردار کشی، وقت کا ضیاع اور غیر ضروری تنازعات سوشل میڈیا کے بڑے نقصانات میں شامل ہیں۔ بغیر تصدیق کے خبریں آگے پہنچانا نہ صرف افراد بلکہ ملک اور معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا کو دشمن نہیں بلکہ ایک طاقتور ذریعہ سمجھا جائے۔ والدین، اساتذہ، تعلیمی ادارے اور حکومت نوجوانوں میں ڈیجیٹل شعور پیدا کریں۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال اور اخلاقی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ نوجوان ذمہ دار شہری بن سکیں۔
پاکستان کی نوجوان نسل ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر یہی نسل سوشل میڈیا کو علم، تحقیق، کردار سازی، قومی خدمت اور ملکی ترقی کے لیے استعمال کرے تو پاکستان ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر ایسی سرگرمیوں کو فروغ دیں جو اتحاد، بھائی چارے، محبت اور قومی ترقی کا پیغام دیں۔ یہی رویہ ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے مثبت سوچ، قومی خدمت اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان کے روشن مستقبل کی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو جدید علوم اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے آراستہ بھی کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر میں مفت کمپیوٹر اور آئی ٹی تعلیم کے مراکز قائم کرے تاکہ نوجوان جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔ اس حوالے سے حافظ نعیم الرحمن کی سرپرستی میں چلنے والا “بنو قابل” پروگرام ایک کامیاب مثال بن کر سامنے آیا ہے، جس نے ہزاروں نوجوانوں کو مفت آئی ٹی اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تعلیم فراہم کی ہے۔ اس پروگرام کی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے نوجوان سیکھنے اور آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتے ہیں، ضرورت صرف مواقع فراہم کرنے کی ہے۔ اور ابھی تک 66 ملک پاکستان کے شہروں میں اس کی ٹریننگ جاری ہے۔ یہ پروگرام کراچی سے شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول و عرض میں پھیل گیا۔ اور نوجوانوں کا جذبہ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان میں ہنر سیکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اگر حکومت، تعلیمی ادارے اور فلاحی تنظیمیں مل کر ایسے پروگراموں کو فروغ دیں تو نوجوان سوشل میڈیا کو محض تفریح کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعلیم، روزگار، کاروبار اور قومی ترقی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہی نوجوان مستقبل میں پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے، ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے اور قومی خدمت کے نئے راستے کھولنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔