
ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف ذکر مصطفی ﷺ کی محافل کا اہتمام کیا جاتاہے درود و سلام کی مجالس کے انعقاد میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے مسلمان اپنی محبت عقیدت الفت اور جذبات کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں درود وسلام کا اہتمام کرتے ہیں محافل میں نعت رسول مقبول ﷺ پڑھتے ہیں آقا علیہ السلام کی صورت و سیرت پر لاجواب بے مثال خطابات ہوتے ہیں لوگ اس عنوان پر سنتے ہیں سناتے ہیں ہر مسلمان بڑھ چڑھ کر آقا دو جہاں حضور نبی کریم رؤف الرحیم فخر کائنات وجہ تخلیق کائنات محبوب خدا محسن انسانیت نبی رحمۃ للعالمین شہنشاہ نبوت پیکر جود و سخا تاجدار ختم نبوت امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کی آمد کا تذکرہ کرتا نظر آتا ہے آپکی آمد و ولادت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہر مسلمان اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے روئے زمین پر سب سے بابرکت سب سے مقدس اور کامل ترین شخصیت حضرت محمد ﷺکی ذات اقدس پر شروع دن سے لیکر آج تک بلکہ تخلیق کائنات سے کی آمد سے لیکر آج تک لاکھوں کتابوں تحریر کیں گئیں مضامین شائع کئے گئے
لیکن ان سب نے اپنی زندگیاں وقف کردی لکھتے چلے گئے بلآخر آپﷺ کی سیرت و صورت پر لکھنے کے بعد یہی لکھا کہ ہم نے آقا کی سیرت پر تو لکھا مگر ہم لکھنے کا حق اداء نا کرسکے آقا علیہ السلام کی سیرت و صورت کردار و گفتار علم وعمل پر لکھنے کا حق کوئی کیسے اداء کرسکتا ہے کیونکہ آقا علیہ السلام کی سیرت و صورت پر خود اللہ رب العزت نے وہ تعریف بیان کی جو قرآن کریم کا حصہ ہے اور اس کو پڑھنے والے کے لئے اجر وثواب کا وعدہ ہے آپﷺ کی آمد سے قبل بھی آپکے تذکرے موجود تھے تخلیق کائنات کے بعد بھی انبیاء کرام علیہم السلام نے آپکے تذکرے کئے آپﷺ کی آمد کی خوشخبری سنائی پہلی آسمانی کتابوں میں بھی آپکے تذکرے موجود ہیں
آپ کی آمد سے قبل آسمانی کتب جیساکہ توراۃ انجیل زبور میں بھی آپکا تذکرہ ملتا ہے انبیاء کرام علیہم السلام نے آپکی آمد کی بشارت سنائی آپ کا نام احمد محمد کے ساتھ ساتھ آپکی صفات آپکا کا کردار گفتار حلیہ مبارک سب کچھ موجود تھا تاکہ جس وقت آپﷺ تشریف لائیں سب بآسانی آپ کو پہچان لیں انبیاء کرام علیہم السلام نے ناصرف آپکی آمد کی خوشخبری سنائی بلکہ آپ پر ایمان لانے کی ترغیب بھی دی آپ کی آمد سے قبل حضرت ابرہیم علیہ السلام نے جب بیت اللہ کی دیواریں بلند کیں تو دعا مانگی حضرت عیسی علیہ السلام نے آپکی آمد کی خوشخبری سنائی عرب کے نامور موحدین اور یہود ونصاریٰ اپنی محافل میں آپ کی آمد کا تذکرہ کرتے
حضورﷺ کی آمد سے قبل تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے جیساکہ اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا آتش کدے بجھ گئے فارس کی جھیل خشک ہوگئی جہاں شرک کی بھرمار ہوتی تھی اسی طرح ایران کے بادشاہ کے محل میں زلزلہ آیا جس سے اسکے محل کے چودہ کنگرے زمین بوس ہو گئے جو اسکے خاتمہ کی واضح نشانی تھی اسی طرح بہت سارے اہل علم آسمانی کتابوں کی راہنمائی میں آپ کا شدت سے انتظار کررہےتھے آپ کی ولادت باسعادت ربیع الاول میں ہوئی ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے اس ماہ مبارک کی مسلمانوں کے ہاں عظیم تاریخی اور مذہبی حیثیت ہے کیونکہ اس میں نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی ربیع کے معنی موسم بہار کے ہیں اول کے معنی پہلا کے ہیں
عام الفیل کے سال ربیع الاول کی آٹھ یا بارہ تاریخ کو571ء بروز پیر صبح صادق کے وقت مکہ مکرمہ میں آپ ولادت باسعادت ہوئی آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت آمنہ والد محترم کا نام حضرت عبداللہ اور دادا کا نام حضرت عبد المطلب ہے آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلہ بنو ہاشم سے ہےآپ کی ولادت باسعادت تاریخ انسانی میں بہت اہمیت رکھتی ہے آپ کی ولادت تاریخ اسلام کا ایک عظیم بابرکت واقعہ ہے آپ تمام جہانوں کے لئے رحمت بن کر آئے انسان جنات حیوانات فرشتے آپ کے آنےسے جھوم اٹھے آپ نے آنے کے بعد علم وعمل کردار و گفتار سیاسی و سماجی مذہبی و روحانی نظریاتی و فکری معاشی و معاشرتی حتی کہ دنیا کہ تمام شعبہ جات میں آپ نے انقلاب برپا کردیا آپﷺ کے آنے سے معاشرے سے جہالت کا خاتمہ ہوا علم کا نور پوری دنیا میں پھیلا آپ کے آنے سے انسانیت کو عروج ملا بیٹیوں کا عزت و عظمت ملی ان کو نئی زندگی ملی غلاموں کو حقوق ملے جانوروں پر رحم کیا جانے لگا آپ ﷺکے آنے سے معاشرے میں شرم و حیا حق سچ امانت دیانت شرافت صداقت عدالت سخاوت شجاعت جیسے اوصاف کو فروغ ملا آپ ﷺکی بعثت کی برکت سے زمین کو بابرکت بنا دیا گیا
آپ نے اعلان نبوت چالیس سال کی عمر میں کیا لیکن آپﷺ نے ارشاد فرمایا میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام کی روح جسم میں داخل نہیں ہوئی تھی ایک حدیث قدسی ہے کہ اے محبوب اگر آپ پیدا ہوتے تو یہ کائنات ہی نا بنائی جاتی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کو پیدا کرنے مبعوث کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی ایک ایک اداء کو ایک ایک وصف کو سیرت و صورت کے ایک ایک پہلو کو قرآن مجید میں ذکر کیا قرآن مجید کا حصہ بنایا آپکی رحمت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہم نے آپکو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں آپﷺ سے التماس کی گئی کہ مشرکین کے لئے بدعا کیجئے تو آپ نے ارشاد فرمایا میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں
پھر اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر احسان کرتے ہوئے اپنے محبوب نبی کے لئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا بے شک اللّٰہ نے ایمان والوں پر احسان کیا ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا اس آیت کی روشنی سے یہ بات واضح ہو گئی کہ پوری انسانیت پر اللہ نے کس قدر احسان کیا احسان عظیم کیا ایسے رسول کو بھیجا جو آیات پڑھ کہ سناتے ہیں تاکہ لوگوں کے دلوں کو اور نفوس کو پاک کریں تعلیم و تربیت کریں حکمت و دانائی کی باتیں سکھائیں ظاہری و باطنی کیفیات کو بدل دیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائیں گمراہی کی راہ سے نکال کے ہدایت کی راہ پر چلائیں اللہ نے اپنے محبوب نبی کے جلیل القدر اوصاف کو حسن اخلاق کو قرآن مجید کی آیات میں نہایت عمدہ بیان فرمایا آپ کے کمالات کو سراہتے ہوئے ارشاد فرمایا بے
شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں آپﷺ کے بارے میں قرآن مجید نے مبشر اور نزید کہا آپ کو حق و سچ کا چراغ کہا آپ کو قرآن نے نہایت شفیق و مہربان کہا آپ کی ذات کو قرآن مجید نے بہترین نمونہ قرار دیا سب سے بڑھ کر آپکے ختم نبوت کی گواہی قرآن مجید نے دی نبی کریم رؤف الرحیم ﷺنے اپنے حسن اخلاق سے علم وعمل سے حکمت و دانائی سے شفقت و مہربانی سے ہمدردی و تربیت سے صبر وتحمل سے برداشت و جہدوجہد سے حلم و بردباری سے عزت و عظمت سے حیاء و پاکدامنی سے سخاوت و شجاعت سے صعوبتیں اور مشکلات برداشت کرکہ 23 سالہ جہدوجہد سے دنیا کے اندر ایسا عظیم انقلاب برپا کیا جسکی تاقیامت کوئی نظیر پیش کرنا ناممکن ہے ایسا نظام قائم کیا کہ امیر غریب کا فرق مٹا دیا ایسی تربیت کی کہ جو کل تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے وہ ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے والے بن گئے جو بھٹکے ہوئے تھے وہ دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بن گئے جنکی کل تک کوئی پہچان نہیں تھی وہ میرے نبی کے ہاتھ پر اسلام لانے کے بعد صحابی رسول کے رتبہ پر فائز ہو گئے اسی لئے اکبر الہ آبادی نے کہا تھا
جو خود نا تھے راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا