راولپنڈی تھانہ دھمیال میں تعینات پولیس اہلکاروں پر کرپشن، بوگس منشیات مقدمے کے اندراج کے سنگین الزامات، مبینہ طور پر تین لاکھ کی ڈیمانڈ،50 ہزار روپے لے کر بیٹے کو چھوڑ دیا،بھائی پر منشیات ڈال دی۔ ڈائریکٹر پنجاب اینٹی کرپشن راولپنڈی ریجن کو دی گئی درخواست میں گرجا روڈ کی رہائشی خاتون مسماۃ ساجدہ بی بی نے تھانہ دھمیال پولیس کے اہلکاروں فرحت محمود، مظہر پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مؤرخہ 24 اپریل 2026 کو سادہ کپڑوں میں ملبوس آتشیں اسلحہ سے لیس دو افراد حقیقی بھائی شہزاد کو زبردستی مار پیٹ کرتے ہوئے لے کر جارہے تھے، بیٹے جہانزیب ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے اسکو بھی ساتھ گرجا چوکی تھانہ دھمیال لے گئے،جہاں انہوں نے لوہے کے راڈ سے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اطلاع پر گرجا چوکی پہنچی تو پولیس اہلکار فرحت محمود نے
بدتمیزی کرتے ہوئے لوہے کے راڈ اور ڈنڈوں سے حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکاروں سے بھائی اور بیٹے کا جرم پوچھا تو انہوں نے 03 لاکھ روپے رشوت ڈیمانڈ کی، نہ دینے کی صورت میں دونوں پر منشیات ڈالنے کی دھمکی دی،50 ہزار لے کر بیٹے جہانزیب کو چھوڑ دیا جبکہ بھائی شہزاد خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کرلیا،بھائی بے قصور اور اسکے خلاف پہلے کوئی مقدمہ درج نہیں،۔ مقدمے کے اندراج بعد پولیس اہلکاروں نے دھمکی دی کہ فوراً مکان چھوڑ کر چلے جاؤ ورنہ سی سی ڈی سے کہہ کر تم کو جان سے مروا دیں گے. خاتون نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن راولپنڈی سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ اہلکاروں خلاف انسداد رشوت ستانی تحت مقدمہ درج کرکے انصاف فراہم کیا جائے اور بھائی کے خلاف جھوٹے مقدمے کو خارج کیا جائے۔