ایٹمی پاکستان، دفاعِ وطن کی لازوال داستان

پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی ضرورت کو سمجھنے کیلئے برصغیر کی تاریخ، بالخصوص پاک ، بھارت تعلقات کے پیچیدہ نشیب و فراز کا گہرا ادراک ناگزیر ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جس تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی خلیج کو وسیع تر کیا، وہ مسئلہ کشمیر تھا۔ ایک ایسا دیرینہ اور سلگتا ہوا قضیہ، جو گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے خطے کے امن و استحکام کو مسلسل اپنی گرفت میں لئےہوئے ہے۔1948ء، 1965ء اور 1971ءکی جنگیں اس امر کی واضح عکاس ہیں کہ یہ کشمکش محض ایک سرحدی تنازع نہیں، بلکہ ایک ہمہ جہت نظریاتی ، تزویراتی اور جغرافیائی تصادم ہے ۔

جس کی جڑیں تاریخ کی تہوں میں گہرائی تک پیوست ہیں۔ بالخصوص 1971ءکا سانحہ ، پاکستان کے قومی شعور میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے جہاں جغرافیائی وحدت کو پارہ پارہ کیا، وہیں یہ تلخ حقیقت بھی پوری شدت سے عیاں ہوئی کہ صرف روایتی عسکری قوت پر انحصار ایک غیر یقینی اور کمزور دفاعی حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سانحے نے پالیسی سازوں کو ازسرنو سنجیدہ غور و فکر پر آمادہ کیا کہ اگر ریاست کو مستقبل میں کسی بڑے خطرے سے محفوظ رکھنا ہے تو اسے ایسے مو¿ثر ، فیصلہ کن اور دوراندیش ذرائع اختیار کرنا ہوں گے

جو دشمن کے عزائم کو آغاز ہی میں مفلوج کر دیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کو جنم لینے سے پہلے ہی سدِ راہ بن سکیں۔خطے میں عددی و عسکری برتری رکھنے والا بھارت جس کے پاس دنیا کی دوسری بڑی زمینی فوج، چوتھی بڑی فضائیہ اور پانچویں بڑی بحریہ موجود ہے جب 1974ءمیں Operation Smiling Buddha کے تحت اپنے پہلے ایٹمی دھماکے کی جانب بڑھا تو یہ محض ایک سائنسی پیش رفت نہ تھی بلکہ جنوبی ایشیا کے تزویراتی توازن کو یکسر بدل دینے والا ایک فیصلہ کن اور دور رس اثرات کا حامل اقدام تھا۔

اس پیش رفت نے طاقت کے توازن کو یک طرفہ طور پر بھارت کے حق میں جھکا دیا اور خطے میں بظاہر ایک ایسی غیر متوازن صورتِحال کو جنم دیا جس نے نہ صرف دفاعی توازن کو متاثر کیا بلکہ مستقبل کے سیکیورٹی منظرنامے کو بھی غیر یقینی اور گہرے تشویش ناک خدشات سے دوچار کر دیا۔اس مرحلے پر پاکستان کے سامنے عملاً دو ہی راستے رہ گئے تھے وہ بھارت کی بالادستی کو خاموشی سے تسلیم کر لیتا یا پھر اپنے وجود، وقار اور سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو اس مقام تک لے جاتا کہ طاقت کے تزویراتی توازن میں برابری کی سطح پر کھڑا ہو سکے۔

اس موقع پر پاکستان نے دانشمندی کے ساتھ دوسرا راستہ اختیار کیا۔یہی وہ نازک موڑ تھا جہاں ایک قوم کے پختہ عزم، دوراندیش قیادت کے استقلال اور اجتماعی شعورِ خودی نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ نامساعد حالات، معاشی مشکلات اور بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود یہ سفر نہ صرف جاری رہا بلکہ بتدریج ایک واضح، مربوط اور پائیدار منزل کی جانب گامزن ہوتا گیا۔ یوں ایک ایسا خواب، جو ابتدا میں محض ایک جرات مندانہ تصور تھا، قومی عزم و ارادے کی قوت سے ایک ناقابلِ تردید حقیقت میں ڈھلنے لگا۔

یہی وہ تاریخی پس منظر ہے جس میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام پروان چڑھا اور بالآخر ایک مضبوط، موثر اور قابلِ اعتماد دفاعی حقیقت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آیا۔بھارت نے پوکھران ٹیسٹ رینج میں 11 مئی 1998ءکو تین اور 13 مئی 1998ءکو مزید دو ایٹمی دھماکے کر کے اپنی عسکری برتری کا کھلم کھلا اظہار کیا تو جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ایک بار پھر شدید طور پر متاثر ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ اس موقع پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے دنیا بھر کے جو خدشات و اندیشے تھے ، وہ مزید گہرے اور سنگین سوالات کی صورت اختیار کر گئے۔

اس نازک صورتحال میں پاکستان پر شدید عالمی دباو ڈالا گیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے اور کسی بھی جوابی اقدام سے گریز کرے ، تاہم پاکستان نے اپنے قومی مفاد، سلامتی اور دفاعی تقاضوں کو مقدم رکھتے ہوئے وہ جرات مندانہ اور تاریخ ساز فیصلہ کیا جس نے تاریخ کے رخ کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔28 مئی 1998ئ، بروز جمعرات، سہ پہر 3 بج کر 40 منٹ پر بلوچستان کے ضلع چاغی کے راس کوہ کے سنگلاخ پہاڑوں میں یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکوں اور پھر 30 مئی 1998ءکو چھٹے ایٹمی دھماکے کی گونج نے نہ صرف زمین کو لرزا دیا، بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی ایک واضح اور دوٹوک پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی بیرونی دباو کے سامنے جھکنے والا نہیں۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق ان تجربات کے دوران ریکٹر اسکیل پر 5.0 شدت کے زلزلہ نما جھٹکے محسوس کیے گئے ، جو اس تاریخی لمحے کی غیر معمولی شدت اور اہمیت کا واضح ثبوت تھے۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت کے طور پر ابھرا اور عالمِ اسلام کے پہلے جوہری ملک کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔یہ امر پیشِ نظر رہے کہ طاقت کے تواز کا اصول عالمی اور علاقائی سیاست میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق پائیدار امن اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب طاقت کا پلڑا کسی ایک فریق کے حق میں اس حد تک نہ جھک جائے کہ وہ دوسروں کے لیے خطرہ بن جائے ، بلکہ فریقین کے درمیان ایک ایسا متوازن نظام قائم رہے

جس میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں فوری اور دندان شکن جواب کا خوف موجود ہو۔جنوبی ایشیا کے تناظر میں اگر اس اصول کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں نے خطے میں بگڑے ہوئے اسٹریٹجک توازن کی بحالی میں ایک کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ یہ اقدام محض ایک وقتی ردِعمل نہیں تھا بلکہ ایک سوچا سمجھا، دوراندیش اور تزویراتی فیصلہ تھا جس نے خطے کو ایک نئے اور نسبتاً مستحکم اسٹریٹجک توازن سے ہمکنار کیا۔اگر پاکستان اس مرحلے پر یہ جرات مندانہ قدم نہ اٹھاتا تو بھارت کی ایٹمی برتری ایک ایسی یک طرفہ اور غالب قوت بن جاتی جو نہ صرف علاقائی عدم استحکام کو بڑھاتی بل کہ طاقت کے زعم میں بھارت کی طرف سے کسی بھی ممکنہ مہم جوئی اور جارحانہ طرزِ عمل کی راہ ہموار کر سکتی تھی ،

جس کے خطے کے امن پر اثرات طویل المدتی اور نہایت سنگین ہو سکتے تھے۔پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے خطے میں ایک ایسی اسٹریٹجک فضا کو جنم دیا جسے تزویراتی اصطلاح میں Deterrence یعنی توازنِ خوف کہا جاتا ہے، جس میں جنگ ایک قابلِ عمل انتخاب کے بجائے ناقابلِ تصور تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ اس کیفیت نے باہمی اندیشے اور احتیاط پر مبنی ایک ایسی فضا قائم کی جو ایک غیر مرئی مگر مو¿ثر ضمانتِ امن کے طور پر ابھری اور بتدریج ایک مضبوط نفسیاتی و عسکری حصار کی صورت اختیار کر گئی۔اس تناظر میں اگرچہ کسی بھی ممکنہ عسکری آزمائش یا جارحانہ اقدام کے جواب میں موجود جوابی صلاحیت نے خطے میں طاقت کے استعمال کے امکانات کو مزید محدود کر دیا تاہم اس کے باوجود بھارت کو اپنی عسکری اور عددی برتری کا جو گمان لاحق تھا ، معرکہ حق میں، 10 مئی کو محض چند گھنٹوں کے اندر پاکستان نے اس خوش فہمی کا بھی بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے کر اس کی بھرپور تسلی کروا دی۔

پاکستان اور بھارت کی ایٹمی صلاحیت کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو بظاہر بھارت وسائل، معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ایک وسیع تر دائر اثر کا حامل دکھائی دیتا ہے، تاہم دفاعی حکمتِ عملی محض عددی برتری یا وسائل کی فراوانی تک محدود نہیں ہوتی، بل کہ اس کا حقیقی جوہر مو¿ثر، متوازن اور بروقت ردِعمل کی صلاحیت میں مضمر ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں اگر پاکستان کی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود اس نے ایک ایسا ایٹمی ڈھانچہ تشکیل دیا ہے جو نہ صرف مو¿ثر ہے بل کہ اپنی ساکھ، اعتبار اور قابلِ اعتماد تزویراتی افادیت کے اعتبار سے بھی مستحکم سمجھا جاتا ہے۔

یہ ایک ایسا دفاعی نظام ہے جو ممکنہ خطرات کا بروقت ادراک کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو قبل از وقت ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یوں خطے میں ایک متوازن اور قابلِ اعتماد اسٹریٹجک توازن کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔پاکستان کی ایٹمی پالیسی Minimum Credible Deterrence کے اصول پر استوار ہے، جو طاقت کے اندھا دھند ذخیرے کے بجائے اس کے بامقصد، متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال پر پر مبنی ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ جنگ کے امکان کو مو¿ثر انداز میں روکنا ہے یعنی ایک ایسی دفاعی صلاحیت قائم کرنا جو ممکنہ خطرات کو آغاز ہی میں غیر مو¿ثر بنا دے اور کسی بھی جارحیت کے امکانات کو محدود کرکے کم سے کم سطح تک لے آئے۔یہ پالیسی ایک باشعور اور ذمہ دار ریاست کے طرزِ عمل کی عکاس ہے، جو اپنی عسکری صلاحیت کو محض طاقت کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ اپنی بقا، سلامتی اور امن کے تحفظ کیلئے بروئے کار لاتی ہے۔ یوں پاکستان کی یہ حکمتِ عملی طاقت کے استعمال میں مقصدیت، توازن اور احتیاط کی ایک واضح مثال پیش کرتی ہے،

جو خطے میں استحکام اور پائیدار امن کے فروغ میں معاون ثابت ہوتی ہے۔دوسری جانب بھارت کی “No First Use” کی پالیسی بظاہر ایک پرامن اور ذمہ دارانہ عزم کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی ہے، تاہم وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے سرکاری بیانات ، دفاعی مباحث اور اسٹریٹجک اشارے اس پالیسی کے تسلسل اور عملی نفاذ کے حوالے سے مختلف سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ جب کسی اعلان کردہ پالیسی اور عملی رویئے کے درمیان کوئی واضح فاصلہ پیدا ہو جائے تو اس سے نہ صرف شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا ہے

بلکہ خطے میں اعتماد کی عمومی فضا بھی متاثر ہوتی ہے، جو کسی بھی وقت کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جہاں بھارت کی قوت کا انحصار اس کے حجم، وسائل اور وسعتِ اثر پر ہے، وہیں پاکستان کی اصل طاقت اس کی حکمتِ عملی، توازن اور بروقت دفاعی تیاری میں پوشیدہ ہے۔ یہی تزویراتی بصیرت ہے جس نے طاقت کے نازک توازن کو برقرار رکھتے ہوئے جنوبی ایشیا میں ایک ایسا ماحول تشکیل دینے میں مدد دی ہے، جہاں امن مکمل طور پر مستحکم نہ سہی مگر ایک نازک اور قابلِ برداشت سطح پر موجود ہے، جو خطے کے استحکام کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔