جب ریاست موبائل فون کے ذریعے عوام تک پہنچے

معزز قارئین، آج کا کالم جو آپکی سیمابِ نظر ہے اس میں عوامی ریلیف، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل گورننس کے ایک نیئے باب کی بات آپ تمام قارئین کو گوش گزار کی گئی ہے۔کسی بھی ریاست کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب معیشت دباؤ میں ہو، عالمی حالات غیر یقینی کا شکار ہوں اور عام آدمی کے لیے روزمرہ زندگی کا بجٹ سکڑنے لگے۔ ایسے لمحوں میں حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا پیمانہ صرف اعداد و شمار نہیں ہوتا؛ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ ریاست اپنے شہری تک کتنی تیزی، شفافیت اور وقار کے ساتھ پہنچتی ہے۔

پاکستان بھی آج اسی نوعیت کے معاشی اور عالمی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، خطے کی کشیدہ صورتحال، سپلائی چین کے مسائل اور مجموعی معاشی دباؤ نے ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اخراجات کو متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کی جانب سے وزیرِاعظم خصوصی ریلیف اسکیم کا آغاز اس بنیادی سوال کا عملی جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے کہ محدود وسائل کے باوجود عام شہریوں کو فوری اور براہِ راست ریلیف دیا جاسکتا ہے۔حکومت نے اس اسکیم کے لیے 25 ارب روپے ماہانہ مختص کیے ہیں۔ یہ رقم اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس اقدام کا ایک اور پہلو شاید اس سے بھی زیادہ اہم ہے: ریلیف کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال۔یہیں سے یہ اسکیم محض ایک مالیاتی پیکیج سے آگے بڑھ کر پاکستان میں جدید طرزِ حکمرانی کی بحث کا حصہ بن جاتی ہے۔
اصل سوال: ریلیف کا اعلان یا ریلیف کی رسائی؟

ہماری تاریخ میں عوامی فلاح کے کئی منصوبے ایسے رہے ہیں جن کے مقاصد بلاشبہ قابلِ ذکر تھے، لیکن ان کے نفاذ میں پیچیدہ طریقۂ کار، کاغذی کارروائی، طویل انتظار اور درمیانی مراحل رکاوٹ بنتے رہے۔ایک عام مزدور، موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور یا محدود آمدن رکھنے والے شخص کے لیے سرکاری دفتر کے چکر لگانا صرف وقت کا مسئلہ نہیں ہوتا؛ اس کا مطلب ایک دن کی مزدوری، سفری اخراجات اور ذہنی پریشانی بھی ہو سکتا ہے۔اسی لیے جدید ریاست کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ حکومتی سہولت شہری کو دفتر میں تلاش نہ کرے بلکہ ریاستی نظام شہری تک پہنچے۔وزیرِاعظم خصوصی ریلیف اسکیم میں موبائل فون اور ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن و ٹوکن کا طریقۂ کار اسی تصور کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

جب موبائل فون سرکاری سہولت کا دروازہ بن جائےپاکستان میں موبائل فون اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا۔ یہ مالیاتی لین دین، تعلیم، کاروبار، روزگار، معلومات اور سماجی روابط کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ایسے میں اگر ریاست بھی شہری خدمات کی فراہمی کے لیے اسی پلیٹ فارم کو استعمال کرے تو یہ ڈیجیٹل گورننس کی فطری توسیع ہے۔

فراہم کردہ اسکیم کے طریقۂ کار کے مطابق شہری اپنے موبائل فون سے مخصوص معلومات ایس ایم ایس کے ذریعے 9771 پر بھیج کر رجسٹریشن کا عمل مکمل کرتے ہیں۔ بعد ازاں پیٹرول حاصل کرنے سے قبل TOK بھیجنے کے ذریعے ٹوکن کوڈ حاصل کیا جاتا ہے، جسے متعلقہ پیٹرول پمپ پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ طریقۂ کار ایک اہم اصول کو اجاگر کرتا ہے:جس ٹیکنالوجی تک عام آدمی کی رسائی ہو، عوامی خدمت کا نظام اسی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈیزائن ہونا چاہیے۔ یہی شہری مرکز گورننس ہے۔

وزارتِ آئی ٹی کا کرداراس پورے عمل میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کی قیادت میں وزارت نے ڈیجیٹل نظام کو عوامی ریلیف کے نفاذ کے ساتھ جوڑنے کی سمت میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔یہاں ایک بنیادی تبدیلی کو سمجھنا ضروری ہے۔

ماضی میں آئی ٹی کو اکثر کمپیوٹر، سافٹ ویئر، ویب سائٹس یا ٹیلی کمیونیکیشن کے دائرے تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ آج جدید ریاست میں وزارتِ آئی ٹی کا دائرۂ کار اس سے کہیں وسیع ہے۔آئی ٹی اب صرف ٹیکنالوجی نہیں؛ یہ گورننس کا انفراسٹرکچر ہے۔اگر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شہری کی شناخت، اہلیت، رجسٹریشن، ٹوکن، ادائیگی یا ریلیف کو مربوط کیا جا سکے تو ٹیکنالوجی براہِ راست ریاستی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔

100 روپے فی لیٹر رعایت: گھر کے بجٹ میں ایک قابلِ ذکر سہارااس اسکیم کے فراہم کردہ خدوخال کے مطابق مستحق صارفین کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جا رہی ہے۔موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی صارفین کے لیے 5 لیٹر فی ہفتہ، یعنی ماہانہ 20 لیٹر تک کی حد مقرر کی گئی ہے۔ اس حساب سے ماہانہ ممکنہ بچت 2,000 روپے تک بنتی ہے۔اسی طرح 800cc تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے 10 لیٹر فی 10 دن، یعنی ماہانہ 30 لیٹر تک کا کوٹہ بنا یا گیا ہے۔ اس حساب سے ممکنہ ماہانہ ریلیف 3,000 روپے تک بنتا ہے۔ ایک متوسط یا کم آمدن رکھنے والے گھرانے کے لیے 2,000 یا 3,000 روپے محض ایک عدد نہیں۔ یہ رقم کسی بچے کی کتابیں، گھر کا راشن، روزانہ آمدورفت یا کسی ضروری خرچ میں استعمال ہو سکتی ہے۔یعنی پالیسی کی اصل قدر صرف اس کی مجموعی لاگت میں نہیں، بلکہ اس کے گھریلو بجٹ پر پڑنے والے عملی اثر میں بھی دیکھی جانی چاہیے۔

شفافیت: ڈیجیٹل نظام کا اصل امتحان تاہم ہر ڈیجیٹل نظام کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔کسی بھی عوامی ریلیف اسکیم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ رجسٹریشن کا عمل واضح ہو، اہلیت کے معیار قابلِ فہم ہوں، ڈیٹا محفوظ رکھا جائے، جعلی یا غیر مجاز استعمال کی روک تھام ہو اور شہریوں کی شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام موجود ہو۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی شفافیت کے امکانات ضرور بڑھاتی ہے، لیکن شفافیت خودکار طور پر پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مضبوط نگرانی، آڈٹ، ڈیٹا گورننس اور مسلسل مانیٹرنگ ضروری ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک عارضی ریلیف اسکیم کو مستقبل کے ڈیجیٹل پبلک سروس ماڈل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور منسٹری آف آئی ٹی کنٹرول روم جسے وار روم کا نام دیا گیا ہے جس میں معزز سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان کی قیادت میں جملہ اعلیٰ سطحی قیادت جس میں اسپیشل سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری و ڈپٹی سیکرٹری بشمول اسفند یار خان (ممبر ڈیجٹل ایمرجنگ ٹیکنالوجی)، وجاہت منصور (ڈی جی آئی ٹی)،محمد شیراز (ڈائیریکٹر انٹرنٹ گورننس) یاور جلیل (ڈائیریکٹر آے آئی سی یو-فوکل پرسن کنٹرول روم) جملہ 15 سے زائید سٹیک ہولڈر کے ہمراہ 7/24 پورے پروگرام کی کڑی نگرانی رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع آج دنیا میں حکومتیں صرف آن لائن خدمات فراہم کرنے تک محدود نہیں رہیں۔ Digital Public Infrastructure کے ذریعے شناخت، ادائیگی، ڈیٹا اور عوامی خدمات کو ایک دوسرے سے مربوط کیا جا رہا ہے۔پاکستان کے لیے بھی یہ ایک بڑا موقع ہے۔اگر ایک موبائل فون کے ذریعے شہری اپنی اہلیت کی تصدیق، ریلیف کا اندراج، ٹوکن کا حصول اور سہولت کے استعمال تک پہنچ سکتا ہے تو یہی بنیادی سوچ مستقبل میں دیگر شعبوں تک پھیلائی جا سکتی ہے۔

سوچیے، یہی اصول اگر تعلیم، صحت، کسانوں کے لیے سبسڈی، طلبہ کے وظائف، روزگار کی خدمات یا دیگر سماجی تحفظ کے پروگراموں میں مؤثر انداز سے اپنایا جائے تو ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی نوعیت کتنی بدل سکتی ہے۔تب حکومت کا تصور صرف “دفتر” نہیں رہے گا؛حکومت ایک “ڈیجیٹل سروس” بن جائے گی۔

آگاہی بھی کامیابی کی کلید ہےاسکیم کے مؤثر نفاذ کے لیے صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں۔ عوامی آگاہی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔اگر کسی دور دراز علاقے کا شہری اسکیم کے طریقۂ کار سے واقف نہیں، اگر اسے درست ایس ایم ایس فارمیٹ معلوم نہیں یا وہ یہ نہیں جانتا کہ شکایت کی صورت میں کہاں رابطہ کرنا ہے تو بہترین ٹیکنالوجی بھی اس کے لیے مؤثر سہولت نہیں بن سکتی۔ اسی لیے آگاہی مہم، سادہ زبان میں ہدایات، پیٹرول پمپس پر رہنمائی اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام اس اسکیم کے کامیاب نفاذ میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ڈیجیٹل شمولیت کا مطلب صرف انٹرنیٹ فراہم کرنا نہیں؛ شہری کو ڈیجیٹل خدمت استعمال کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔

ایک اسکیم، کئی بڑے سبق وزیرِاعظم خصوصی ریلیف اسکیم سے پاکستان کو کم از کم تین بڑے انتظامی اسباق حاصل ہو رہےہیں۔پہلا، ریلیف کو براہِ راست شہری تک پہنچایا جا رہا ہے۔دوسرا، ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی مداخلت اور غیر ضروری مراحل کو کم کیا جا رہا ہے۔اور تیسرا، ڈیجیٹل ریکارڈ مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے قابلِ قدر معلومات فراہم کر رہا ہے۔جس موثر طریقے سے منسٹری آف آئی ٹی تینوں پہلوؤں کو مضبوط ادارہ جاتی نظام، شفافیت اور مؤثر نگرانی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے تو یقیناً یہ محنت و تجربہ مستقبل کے کئی عوامی منصوبوں کے لیے بنیاد بن رہا ہے۔

اختتامیہ: ٹیکنالوجی کا اصل چہرہایک جدید ریاست کی پہچان صرف اس کی بلند عمارتیں، تیز رفتار انٹرنیٹ یا جدید مشینری کے ساتھ ساتھ اس کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے شہری کے لیے کتنی قابلِ رسائی، شفاف اور جواب دہ ہے۔وزیرِاعظم خصوصی ریلیف اسکیم میں عوامی فلاح اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی جو کوشش سامنے آئی ہے، وہ پاکستان کے گورننس ماڈل میں ایک اہم تجربہ ہے۔یہ تجربہ ہمیں ایک بنیادی حقیقت یاد دلاتا ہے:ٹیکنالوجی اس وقت حقیقی ترقی بنتی ہے جب وہ عام آدمی کی زندگی آسان کرے۔

اور ریاست اس وقت حقیقی خدمت گار بنتی ہے جب اس کی سہولت شہری کو اپنے دروازے سے باہر نکلنے پر مجبور نہ کرے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خود شہری تک پہنچے۔ آج اگر ایک عام پاکستانی اپنے موبائل فون کے ذریعے ریاستی ریلیف تک رسائی حاصل کر سکتا ہے تو یہ صرف ایک ایس ایم ایس نہیں۔یہ ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔یہی وہ سمت ہے جہاں سے ڈیجیٹل پاکستان، شفاف گورننس اور شہری مرکز ریاست کے خواب کو عملی شکل دینے کا سفر آگے بڑھ رہا ہے اور مزید بھی بڑھ سکتا ہے