(پنڈی پوسٹ نیوز)وزیراعظم کے حکم پر پمز نرسری آتشزدگی کی مکمل انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی، رپورٹ کے مطابق پمز نرسری آتشزدگی میں 14 نومولود جاں بحق، ایک محفوظ رہا، تحقیقاتی کمیٹی نے آگ کی وجوہات اور تباہ کن اثرات کا جائزہ لیا، کمیٹی نے ہنگامی ردعمل اور نومولود بچوں کے انخلا کا جائزہ لیا،کمیٹی نے انفرادی و ادارہ جاتی ذمہ داری اور اصلاحات کا جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق انکوائری سفارشات اور نتائج 52 نکاتی تحقیقات کی بنیاد پر مرتب ہوئے، تحقیقات میں فرانزک، سی سی ٹی وی، کال ریکارڈز اور انجینئرنگ دستاویزات دیکھے گئے، کمیٹی نے طبی، حادثاتی، ڈیوٹی اور حاضری ریکارڈز کا جائزہ لیا، گواہوں کے بیانات، ریگولیٹری ریکارڈز اور سابقہ تحقیقات سے بھی مدد لی گئی، تقریباً 6:38 بجے آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی۔
فرنٹ لائن عملے نے آگ لگتے ہی ممکنہ کارروائی کی،نسرین اختر، ماریہ سلیم اور رضیہ نورین نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی،نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بچایا، دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی،ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بھی آگ لگنے کے وقت موقع پر موجود تھے،6:39 بجے تک گہرے دھوئیں نے سی سی ٹی وی منظر کشی متاثر کردی۔
رپورٹ کے مطابق شواہد فرنٹ لائن عملے کی نومولود بچوں کو چھوڑنے کی تردید کرتے ہیں، متعدد اہلکاروں نے سنگین حالات میں فوری اور بہادری سے کارروائی کی، فرانزک شواہد کے مطابق آگ کا غالب امکان اے سی یونٹ دو کیبل تھا، اے سی یونٹ دو کی بجلی کی کیبل آگ لگنے کا ممکنہ ذریعہ تھی، مقامی برقی حرارت یا زائد کرنٹ سے کیبل انسولیشن متاثر ہوئی۔برقی خرابی سے قریب موجود آتش گیر مواد کو آگ لگنے کا امکان، شواہد آتش زنی یا متعدد مقامات سے آگ لگنے کی تائید نہیں کرتے۔