خالد عمران خالد
ملک میں مہنگائی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر مشکل کا بوجھ عام آدمی کی جیب پر ڈال دیا جاتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا مہنگا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اثرات آٹا، دال، سبزی، دودھ، کرایہ اور زندگی کی ہر بنیادی ضرورت تک پہنچتے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم لیوی کم نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اگر یہ رقم وصول نہ کی جائے تو ملک کیسے چلے گا؟ سوال یہ ہے کہ ملک چلانے کے لیے صرف غریب کی جیب ہی کیوں ہے؟
یہاں تاریخ کے اوراق سے سلطان العلماء حضرت عزالدین بن عبدالسلامؒ کا ایک واقعہ ہمارے سامنے آتا ہے۔ تاتاریوں کے خطرے کے زمانے میں اسلامی ریاست کو جنگی اخراجات کے لیے شدید مالی ضرورت پیش آئی۔ رعایا پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کی بات ہوئی تو حضرت عزالدین بن عبدالسلامؒ نے اصولی موقف اختیار کیا کہ پہلے حکمران اور امراء اپنی دولت اور شاہانہ سامان پیش کریں۔
روایت کے مطابق انہوں نے سلطان سے کہا کہ پہلے اپنی اور امراء کی دولت، سونا، چاندی اور قیمتی سامان استعمال کیا جائے۔ اگر اس کے بعد بھی ضرورت باقی رہے تو پھر رعایا سے مالی مدد لینے کی گنجائش پیدا ہوگی۔ یعنی فتویٰ دینے سے پہلے حکمران طبقے کو خود قربانی کا عملی نمونہ بننا ہوگا۔
یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حکمرانی کا ایک عظیم اصول ہے۔
آج ہمارے حکمران عوام سے کہتے ہیں کہ ٹیکس دو، پٹرول پر لیوی دو، بجلی مہنگی برداشت کرو، مہنگائی برداشت کرو، کیونکہ ملک مشکل حالات میں ہے۔ ہم کہتے ہیں: ملک مشکل حالات میں ہے تو سب سے پہلے اشرافیہ قربانی دے۔
سرکاری مراعات، شاہانہ گاڑیاں، غیر ضروری اخراجات، بیرونی دورے اور مراعات یافتہ طبقے کو حاصل بے شمار سہولتوں کا حساب کیا جائے۔ اگر قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا ہے تو آغاز ان طبقات سے ہونا چاہیے جو سب سے زیادہ وسائل رکھتے ہیں۔
پٹرولیم لیوی سے گزشتہ سال تقریباً 1500 ارب روپے وصول کیے گئے اور آئندہ سال کے لیے تقریباً 1600 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ رقم آخرکار اسی عوام کی جیب سے نکلتی ہے جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدنی کے شکنجے میں ہے۔
ایک موٹر سائیکل سوار، ایک مزدور، ایک کلرک اور ایک چھوٹا دکاندار جب روزانہ اپنی ضرورت کا پٹرول خریدتا ہے تو اس کے لیے چند روپے بھی معمولی نہیں ہوتے۔ لیکن حکومت کے لیے اربوں روپے کے غیر ضروری اخراجات پر سوال اٹھانا شاید اتنا آسان نہیں۔
جب پٹرول پر ٹیکس کم کرنے کی بات ہوتی ہے تو جواب آتا ہے: ’’آئی ایم ایف اجازت نہیں دیتا۔‘‘
مگر سوال یہ ہے کہ کیا آئی ایم ایف نے اشرافیہ کی مراعات ختم کرنے سے بھی منع کیا ہے؟ کیا اس نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرنے سے روکا ہے؟ کیا اس نے حکمران طبقے کو سادگی اختیار کرنے سے منع کیا ہے؟
حضرت عزالدین بن عبدالسلامؒ کا اصول آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے: پہلے قربانی حکمران دے، پھر رعایا سے قربانی مانگی جائے۔
یہی حقیقی معاشی انصاف ہے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کے خلاف آواز اٹھانا اسی عوامی مسئلے کی ترجمانی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن اور جماعت اسلامی نے اس معاملے کو احتجاج اور دھرنے کے ذریعے قومی بحث کا حصہ بنایا ہے۔ عوامی مسائل پر پُرامن اور جمہوری انداز میں آواز بلند کرنا ایک زندہ معاشرے کی علامت ہے۔
پاکستان کو ایسا معاشی نظام چاہیے جہاں ٹیکس ضرور لیا جائے، مگر انصاف کے ساتھ؛ جہاں ریاست کے اخراجات ضرور ہوں، مگر کفایت شعاری کے ساتھ؛ اور جہاں قربانی ضرور مانگی جائے، مگر سب سے پہلے صاحبِ اختیار طبقے سے۔
آج اگر سلطان العلماء عزالدین بن عبدالسلامؒ کا وہ اصول ہمارے حکمرانوں کے سامنے رکھا جائے تو شاید سوال کا جواب خود مل جائے:
ملک کیسے چلے گا؟
ملک چلے گا—
اشرافیہ کی مراعات کم کرکے،
غیر ضروری اخراجات ختم کرکے،
کرپشن کا راستہ روک کر،
قومی وسائل کی حفاظت کرکے،
اور سب سے بڑھ کر عدل و انصاف کے ساتھ۔
عوام کی جیب کو خزانے کا آخری سہارا بنائیے، پہلا نہیں۔
پہلے اشرافیہ قربانی دے، پھر عوام سے قربانی مانگے۔
یہی عزالدین بن عبدالسلامؒ کا پیغام تھا،
اور یہی آج کے پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔