عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت


حافظ ظفر رشید

حضور نبی کریم رؤف الرحیم ﷺکا ارشاد مبارک ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ مجھ سے اپنے والدین سے اپنی اولاد سے اور دنیا کے تمام انسانوں سے سے بڑھ کر محبت نا کرے یہی وجہ ہےکہ مسلمان اپنے محبوب نبیﷺ سے دنیا میں ہر چیز سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں ایمان اور یقین رکھتے ہیں حتی کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر ہم مسلمان اپنے نبی سے عشق محبت عقیدت و احترام کا جذبہ رکھتے ہیں آپﷺ کی شان بیان کرتے ہیں  سنتے ہیں سناتے ہیں عزت عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ذکر محبوب خدا سے اپنے ایمان کو تازگی بخشتے ہیں روح کو سکون پہنچاتے ہیں لیکن ہم اپنے محبوب نبی کی شان اقدس میں ذرا بھر بھی بے ادبی برداشت کرنے کا تصور بھی اپنے ذہن میں نہیں لا سکتے اور ناہی ہم اپنے نبیﷺ کی شان اقدس میں عزت عظمت کے علاؤہ کچھ سننا اور دیکھنا چاہتے ہیں حضور نبی کریم رؤف الرحیمﷺ کو صرف نبی ماننا کافی نہیں بلکہ آپ ﷺکو آخری نبی و آخری رسول ماننا بھی فرض ہے نبی کریم رؤف الرحیم ﷺپر ایمان لاتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت پر کامل ایمان و یقین سے مراد بھی یہی ہےکہ آپﷺ کے بعد تاقیامت کوئی بھی نیا نبی اور رسول مبعوث نہیں ہوگا حضورﷺ کی آمد سے قبل جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام آئے کسی نے بھی آخری ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ انبیاء کرام علیہم السلام نے حضور نبی کریم رؤف الرحیمﷺ کے آنے کی خوشخبری سنائی آپ ﷺکے آخری نبی و رسول ہونے کی گواہی دی آپ نے اپنی دو انگلیوں کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں اور قیامت یوں ہیں درمیان میں کوئی اور نبی نہیں قیامت قریب ہے عالم اپنے عروج کو پہنچ چکا قصر نبوت میں ایک اینٹ باقی تھی میری آمد سے وہ مکمل ہوچکی قرآن مجید سورہ احزاب میں ارشاد باری تعالیٰ خاتم النبیین کے الفاظ کے ساتھ ہمیشہ سے موجود ہے قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات اور حضور نبی کریم رؤف الرحیمﷺ کی دو سو سے زائد احادیث مبارکہ اس عقیدہ ختم نبوت پر موجود ہیں جنکا انکار ممکن نہیں یہ اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے اس بنیادی عقیدہ میں ان آیات یا پھر ان احادیث میں ادنی سا شک بھی انسان کو ایمانی دولت سے محروم کردیتا ہےحضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر چھ باتوں کی فضیلت دی گئی ہے جس میں سے ایک یہ ہےکہ مجھ پر انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلہ ختم ہو گیا سورہ المائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے آج کے دن دین مکمل ہو گیا اپنی نعمت تمام کردی دین اسلام کو پسند کیا اس آیت میں واضح فرما دیاگیا کہ دین اسلام ہر اعتبار سے مکمل ہو گیا جس سے واضح ہوتا ہےکہ اب اس دین اسلام کے علاؤہ کوئی اور دین قابل قبول نہیں نا ہی اس دین میں کوئی کمی پیشی کی کوئی گنجائش باقی ہے نا ہی اس میں ترمیم کی ضرورت ہے حلال حرام جائز ناجائز عقائد و نظریات اعمال و افعال حتی کہ دنیا کہ ہر شعبہ میں کسی نئے دین کی اور نئے نبی کی ضرورت نہیں ابن ماجہ میں ایک روایت میں آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو قرآن و سنت کی روشنی میں جہاں دیگر فتنوں کی نشاندہی کی گئی ان سے بچنے کا حل بتایا گیا ایسے ہی منکرین ختم نبوت کی نشاندہی کی گئی انکی گرفت کی گئی ان سے اپنے ایمان کو محفوظ رکھنے تعلیم دی گئی جھوٹے مدعیان نبوت کے متعلق واضح تفصیلات موجود ہیں ان سے اپنے ایمان کو بچانے دوسرے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب میرے بعد تیس جھوٹے دعویدار آئیں گئے لیکن میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں چنانچہ حضور نبی اکرم شفیع اعظمﷺ کی زندگی میں ہی جھوٹے مدعیان نبوت ظاہر ہو گئے تھے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی ان دونوں کا انجام عبرت ناک ہوا یہ دونوں جہنم واصل ہوئے تھے اسود عنسی کا تعلق یمن سے تھا یہ شعبدہ باز تھا اسے حضور نبی کریم رؤف الرحیمﷺ کے دور میں ہی حضرت فیروز دیلمیؓ نے اپنے ہاتھوں جہنم واصل کیا تھا جبکہ مسیلمہ کذاب کا تعلق یمامہ سے تھا اس بدبخت نے حضور ﷺکو خط بھی لکھا نصف زمین کی پیشکش بھی کی اس نے حضور ﷺسے یہ بھی کہا کہ آپ شہر کے نبی میں دیہات کا نبی حضور ﷺنے ایک ٹہنی پکڑ کر فرمایا اگر تم یہ بھی مانگو تو میں نا دوں اس عقیدہ ختم کی اہمیت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اس عمل سے سے جان سکتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ جو ہمیشہ حضورﷺ کے ساتھ رہے آپ نرم دل ہمدرد کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن جب ختم نبوت کا مسئلہ آیا تو آپؓ نے ہر قیمت اس کی حفاظت کرتے ہوئے اس عقیدہ کا دفاع کیا اسکی حفاظت کی اور اس پر باقاعدہ لشکر بنا کر روانہ کیا اس عقیدہ ختم نبوت پر وہ عملی قدم اٹھایا جسکی وجہ سے آپ کا یہ عمل ہمیشہ اسلام میں سنہری حروف میں لکھ جائے گا اور آپ نے اس مسئلہ کی اہمیت کو بھی سمجھایا اور اس فتنہ کے آگے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے گیارہ ہجری میں جب آپ نے خلافت کی زمہ داری سنبھالی تو اس وقت بہت سارے فتنے سر اٹھا رہے تھے جن میں ارتداد اور مسیلمہ کذاب کا فتنہ سر فہرست تھا اسکی سرکوبی خاتمہ اور نیست و نابود کرنے کے لئے آپ نے ایک لشکر سیف اللہ یعنی حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں روانہ کیا حضرت وحشیؓ نے مسیلمہ کذاب کو جہنم واصل کیا اس جنگ یمامہ میں سینکڑوں عظیم مسلمان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کرتے ہوئے مسیلمہ کذاب اور اسکے لشکر کو قتل کرتے ہوئے شہادت کے رتبہ پر فائز ہوئے جن میں حفاظ صحابہ کرام کی کثیر تعداد بھی موجود تھی عقیدہ ختم نبوت قرآن و حدیث سے ثابت ہے صحابہ کرام تابعین آئمہ مجتہدین سلف صالحین حتی کہ ہر ایک مسلمان کا اس عقیدہ پر ایمان لانا اسکا تحفظ کرنا فرض ہے حضور کو خاتم النبیین نا ماننے والا مسلمان نہیں جس طرح حضور خاتم النبیین کو ناماننے والا مسلمان نہیں اسی طرح جھوٹے مدعیان نبوت کی تصدیق کرنے والا ان سے دلیل مانگنے والا بھی مسلمان نہیں ناموس رسالت کا تحفظ کرنا ہر مسلمان کی زمہ داری ہے اسکے ایمان کا اولین فریضہ ہے غیرت دینی و ایمانی کا تقاضا ہے مسلمان کا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو کسی بھی قوم سے ہو کسی بھی قبیلہ سے ہو کسی بھی جماعت سے ہو کسی بھی ملک سے ہو اس عقیدہ کو اہمیت کو سمجھنے کی سمجھانے کی اور امت کے ایک ایک فرد تک اس پیغام کو پہنچانے کی زمہ داری ہر ایک پر عائد ہوتی ہے لہذا آج سے ہی عہد کرنا ہوگا ہم جہاں بھی ہوں اس عقیدہ کا تحفظ کرتے ہوئے اسکی اہمیت کو اجاگر کریں گئے تاکہ اس عظیم سلسلہ میں اس عظیم کام میں ہم بھی شامل ہوں اور اپنی محبت و عقیدت کا ثبوت دیں۔