سنگاپور حکومت کا آبادی بڑھانے کیلئے منفر د اقدام ہر بچے کی پیدائش پر 55ہزار ڈالر دینے کا اعلان

(پنڈی پوسٹ نیوز)دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہونے والے سنگاپور نے شرحِ پیدائش میں کمی پر قابو پانے کے لیے بچوں کی پیدائش پر والدین کو مالی معاونت بڑھانے کا اعلان کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بچے کی پیدائش سے لے کر 17 سال کی عمر تک مختلف مراحل میں مجموعی طور پر 55 ہزار امریکی ڈالر سے زائد رقم فراہم کی جائے گی۔یہ اعلان سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ نے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں مسلسل کم ہوتی شرحِ پیدائش کے مسئلے سے نمٹنا اور والدین کے لیے مالی معاونت کے نظام کو مزید آسان بنانا ہے۔

وزیراعظم کے مطابق اس وقت بھی سنگاپور میں ہر بچے کی پیدائش پر مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے، تاہم اس کا انحصار خاندان میں بچے کی پیدائش کی ترتیب پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بیشتر افراد کے لیے موجودہ نظام کو سمجھنا مشکل ہے۔ نئے نظام کے تحت سنگاپور کی شہریت رکھنے والے ہر بچے کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔نیا مالی پیکیج پانچ مراحل پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں بچے کی پیدائش کے بعد ابتدائی 12 ماہ کے دوران والدین کو تقریباً 7,880 امریکی ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔

دوسرے مرحلے میں بچے کی پرورش کے لیے 16 سال کے دوران سالانہ بنیادوں پر مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ تیسرے مرحلے میں حکومت کی جانب سے بچے کے چائلڈ ڈویلپمنٹ اکاؤنٹ میں اضافی رقم جمع کرائی جائے گی۔چوتھے مرحلے میں بچے کے 16 سال کی عمر کو پہنچنے پر چائلڈ ڈویلپمنٹ اکاؤنٹ میں مزید رقم فراہم کی جائے گی، جبکہ پانچویں مرحلے میں 17 سال کی عمر پر اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کے لیے مالی معاونت دی جائے گی۔سنگاپور میں شرحِ پیدائش گزشتہ برس ریکارڈ کمی کے بعد فی خاتون 0.87 بچے تک پہنچ چکی ہے، جو آبادی برقرار رکھنے کے لیے درکار عالمی معیار 2.1 سے بھی کہیں کم ہے۔