پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا علاقائی امن، دفاعی تعاون اور بحرانوں کے پرامن حل کیلئے مشترکہ عزم

(پنڈی پوسٹ نیوز)ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ تینوں ممالک نے علاقائی امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مل کر کام کرنے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بحرانوں کا حل بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے، مکہ معاہدے کے تحت تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے، جس میں باہمی یکجہتی اور دفاعی تعاون شامل ہیں۔

طاہر اندرابی کے مطابق سعودی عرب میں 3 ملکی تعاون کے لیے سیکرٹری جنرل کا انتظام قائم کیا جائے گا، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ صنعتی تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے، تینوں ممالک کی مسلح افواج بھی علاقائی امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔

ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصبوں، شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جبکہ استنبول میں ترکیہ کے وزیر دفاع سے بھی ملاقات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مختلف اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم نے پاکستان کے امن، تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمت علاقائی دیرپا امن و استحکام کے لیے سب سے قابلِ عمل راستہ ہے۔پاکستان آئندہ سال ایس سی او کی سربراہی کے دوران اسلام آباد میں تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی کرے گا۔