
یہ کیسا ملک ہے جہاں پہاڑ پکار رہے ہیں، جنگلات ماتم کر رہے ہیں، چشمے خشک ہو رہے ہیں، زرعی زمینیں کنکریٹ کے نیچے دفن ہو رہی ہیں اور ہم ترقی کے نام پر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل مسمار کر رہے ہیں؟یہ نوحہ صرف زمین کا نہیں، یہ میرے دیس کا نوحہ ہے!زندہ قومیں اپنے اثاثوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ قدرتی وسائل کسی حکومت، کسی ادارے یا کسی نسل کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتے؛ یہ آنے والی نسلوں کی امانت ہوتے ہیں۔ مگر ہم نے اس امانت کو کاروبار بنا دیا ہے۔
ایبٹ آباد، نتھیا گلی، ٹھنڈیانی، مری، ناران، کاغان، سوات، وادیٔ نیلم، بنجوسہ، تولی پیر، سدن گلی، گنگا چوٹی، چکار، وادیٔ لیپہ اور کمراٹ—یہ صرف سیاحتی مقامات نہیں، پاکستان کے قدرتی تاج کے نگینے ہیں۔مگر آج ان نگینوں کو کنکریٹ، کچرے، بے ہنگم تعمیرات اور لالچ کی گرد ڈھانپ رہی ہے۔
پہاڑوں کے سینے چیرے جا رہے ہیں۔ جنگلات کاٹے جا رہے ہیں۔ چشموں کے کنارے گندگی کے ڈھیر لگ رہے ہیں۔ زرخیز زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں اگ رہی ہیں۔ جہاں کبھی فصل لہلہاتی تھی وہاں اب سیمنٹ کی دیواریں کھڑی ہیں۔ جہاں درختوں کی چھاؤں تھی وہاں پلازے بن رہے ہیں۔
ہم کس ترقی کا جشن منا رہے ہیں؟
اگر ترقی کا مطلب درخت کاٹنا، چشمہ گندا کرنا، زرعی زمین ختم کرنا، پہاڑوں کو زخمی کرنا اور پانی کے ذخائر تباہ کرنا ہے تو ایسی ترقی دراصل ترقی نہیں، اپنے مستقبل کی تدفین ہے۔
پانی کے خلاف ہماری غفلت
پانی آنے والے زمانے کی سب سے بڑی دولت ہے، مگر ہم اسے گلیوں میں بہا دیتے ہیں۔
بارش ہوتی ہے تو پانی سیلاب بن کر تباہی مچاتا ہے، پھر چند دن بعد ہم اسی پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں۔ یہ قدرت کی نہیں، ہماری ناقص منصوبہ بندی کی شکست ہے۔
ہر گھر، ہر پارک، ہر سرکاری عمارت اور ہر ہاؤسنگ اسکیم میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور زمین میں جذب کرنے کا نظام کیوں نہیں؟
ہمیں کب احساس ہوگا کہ زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ بینک اکاؤنٹ کی طرح ہے؟ نکالتے رہیں گے اور واپس جمع نہیں کریں گے تو ایک دن اکاؤنٹ خالی ہو جائے گا۔
زرعی زمینیں یا کنکریٹ کے قبرستان؟
ایک طرف آبادی بڑھ رہی ہے، دوسری طرف خوراک پیدا کرنے والی زمینیں ہاؤسنگ اسکیموں کی نذر کی جا رہی ہیں۔
جس زمین سے گندم، سبزیاں، پھل اور خوراک پیدا ہونی تھی، وہاں ہم اینٹیں اور سیمنٹ بچھا رہے ہیں۔ پھر یہی قوم خوراک کی قلت، مہنگائی اور درآمدات کا رونا روتی ہے۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر ہماری زرعی زمینیں ختم ہوگئیں تو ہمارے بچوں کی خوراک کہاں سے آئے گی؟
ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ زرخیز زرعی زمین قومی اثاثہ ہے، تعمیراتی کاروبار کی بے لگام بھوک کا ایندھن نہیں۔
جنگلات کا قتل اور جنگلی حیات کی بے دخلی
کمراٹ، سوات، نیلم، لیپہ اور شمالی علاقوں کے جنگلات میں دیودار، پڑتل اور دوسرے قیمتی درخت صرف لکڑی نہیں؛ یہ ہماری ہوا، پانی، بارش، مٹی اور حیاتیاتی تنوع کے محافظ ہیں۔
لیکن افسوس کہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی، قیمتی لکڑی کی تجارت اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال نے ہمارے جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
قدرتی طور پر اگنے والی قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیاں بھی بعض علاقوں میں بے دریغ نکالی جاتی ہیں اور غیر قانونی خرید و فروخت و سمگلنگ کا حصہ بنتی ہیں۔ ایک پودا شاید معمولی دکھائی دے، مگر ایسے ہزاروں پودوں کا خاتمہ پورے قدرتی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔
اور جب جنگل نہیں رہے گا تو جنگلی حیات کہاں جائے گی؟
ہم ان کے گھر اجاڑتے ہیں، پھر شکایت کرتے ہیں کہ جنگلی جانور آبادیوں میں کیوں آ گئے!
جب جنگلی جانور اپنے قدرتی مسکن سے محروم ہوتے ہیں تو وہ خوراک اور پناہ کی تلاش میں انسانی آبادیوں کے قریب آ سکتے ہیں۔ بعض علاقوں میں مویشیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور کبھی انسانوں کے لیے بھی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔
یہ جانور ہمارے دشمن نہیں؛ ہم نے ان کے گھر چھینے ہیں۔
سیاح یا قدرت کے دشمن؟
سیاحت ہمارے لیے معاشی موقع بھی ہے اور قدرتی حسن کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ذریعہ بھی۔ مگر سیاحت کے نام پر گندگی پھیلانا، چشموں میں کچرا پھینکنا، جنگلات کو نقصان پہنچانا اور قدرتی مقامات کو کچرے کے ڈھیروں میں تبدیل کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
جس چشمے کا پانی پینے کے لیے تھا، اس میں پلاسٹک کی بوتل پھینک کر ہم کس تہذیب کا مظاہرہ کرتے ہیں؟
جس پہاڑ کی تصویر کھینچ کر ہم سوشل میڈیا پر فخر کرتے ہیں، اسی پہاڑ کے دامن میں کچرا پھینکتے ہوئے ہمیں شرم کیوں نہیں آتی؟
قدرت سیلفی کا پس منظر نہیں، زندگی کی بنیاد ہے۔
حکومت کہاں ہے؟
سب سے بڑا سوال یہی ہے۔
ریاست کہاں ہے؟
محکمے کہاں ہیں؟
نگرانی کہاں ہے؟
قانون کہاں ہے؟
اور سب سے بڑھ کر—ذمہ داری کہاں ہے؟
کیا ہر خوبصورت پہاڑی پر عمارت بنانا ضروری ہے؟ کیا ہر زرعی زمین کو ہاؤسنگ اسکیم میں تبدیل کرنا ضروری ہے؟ کیا ہر جنگل کو لکڑی کا ذخیرہ سمجھنا ضروری ہے؟ کیا ہر چشمے کو کچرے کا ڈبہ بنانا ضروری ہے؟
اگر قانون موجود ہے تو اس پر عمل کون کرائے گا؟
صرف غریب لکڑی کا ایک گٹھا لے جائے تو کارروائی، مگر بڑے پیمانے پر قدرتی وسائل کی تباہی پر خاموشی—یہ دوہرا معیار ختم ہونا چاہیے۔
قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے محض اعلانات نہیں، واضح قانون، مؤثر نگرانی، شفاف نظام اور بلاامتیاز احتساب ضروری ہے۔
علماء، اساتذہ اور میڈیا کی ذمہ داری
یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں۔
اساتذہ نئی نسل کو بتائیں کہ درخت صرف لکڑی نہیں، زندگی ہیں؛ پانی صرف ایک سہولت نہیں، بقا ہے۔
علمائے کرام اپنے خطبات میں پانی، درخت، صفائی اور قدرتی وسائل کی حفاظت کو دینی اور اخلاقی ذمہ داری کے طور پر اجاگر کریں۔
صحافی، کالم نگار اور میڈیا اس مسئلے کو چند دن کی خبر بنا کر بھول نہ جائیں۔ قوموں کے بیانیے میڈیا بناتا ہے۔ اگر ہم نے مسلسل اپنی نسل کو بتایا کہ صاف پانی، جنگلات، زرعی زمین اور ماحول ہماری قومی ترجیح ہیں تو رویے بدل سکتے ہیں۔
آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی
آج ہم اپنے بچوں کے لیے کیا چھوڑ رہے ہیں؟
کیا خشک چشمے؟
کیا کٹے ہوئے جنگلات؟
کیا آلودہ دریا؟
کیا کنکریٹ کے پہاڑ؟
کیا ختم ہوتی زرعی زمین؟
کیا مہنگی خوراک؟
کیا پانی کی قلت؟
یا ایک ایسا پاکستان جہاں پہاڑ بھی زندہ ہوں، جنگلات بھی زندہ ہوں، دریا بھی صاف ہوں، چشمے بھی جاری ہوں اور زمین بھی خوراک پیدا کرتی ہو؟
فیصلہ آج ہمیں کرنا ہے۔
ہمیں ایسی ترقی چاہیے جو انسان کو سہولت دے مگر قدرت کو قتل نہ کرے۔ ہمیں سڑکیں چاہئیں، مگر پہاڑوں کی قیمت پر نہیں۔ ہمیں گھر چاہئیں، مگر زرعی زمینوں کی قبر پر نہیں۔ ہمیں سیاحت چاہیے، مگر جنگلات کی تباہی کے ساتھ نہیں۔
ریاست کو زرعی زمین کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کرنا ہوگی۔ جنگلات کی کٹائی اور قیمتی جڑی بوٹیوں کی غیر قانونی تجارت کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہوگی۔ سیاحتی مقامات پر کچرے کے مؤثر نظام، تعمیرات کی حدود اور ماحولیاتی اصولوں پر لازمی عمل کرانا ہوگا۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور زیرِ زمین پانی کو دوبارہ چارج کرنے کے منصوبے ہر نئی تعمیر کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں۔
اب بھی وقت ہے۔
پہاڑ ابھی کھڑے ہیں۔
کچھ جنگلات ابھی باقی ہیں۔
کچھ چشمے ابھی بہہ رہے ہیں۔
کچھ زمین ابھی زرخیز ہے۔
کچھ پرندے ابھی ان درختوں پر بسیرا کرتے ہیں۔
لیکن اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
یاد رکھیے!
جس قوم نے اپنے جنگلات بیچ دیے، اس نے اپنی بارشیں بیچ دیں۔
جس قوم نے اپنی زرعی زمینیں بیچ دیں، اس نے اپنی خوراک بیچ دی۔
جس قوم نے اپنے چشمے گندے کر دیے، اس نے اپنی صحت بیچ دی۔
اور جس قوم نے اپنا پانی ضائع کردیا، اس نے اپنا مستقبل گروی رکھ دیا۔
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں۔
یہ وقت سوال کرنے کا ہے۔
یہ وقت آواز اٹھانے کا ہے۔
یہ وقت قانون بنانے کا ہے۔
یہ وقت احتساب کا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر—
یہ وقت اپنے دیس کو بچانے کا ہے۔
ورنہ کل ہماری نسلیں انہی پہاڑوں کے سامنے کھڑی ہو کر پوچھیں گی:
تمہارے پاس اتنا خوبصورت وطن تھا، تم نے اسے ہمارے لیے کیوں نہ بچایا؟
اور ہمارے پاس شاید اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔
یہی میرے دیس کا نوحہ ہے۔
یہی ہماری غفلت کا نوحہ ہے۔
اور یہی آنے والے کل کی سب سے بڑی وارننگ ہے۔
قدرت ہمیں ورثے میں نہیں ملی؛
یہ ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔
اس امانت میں خیانت بند کرو!