محفوظ بچپن: اب ایک خواب؟

قصور کی زینب سے لے کر پشاور کی منتہا اور کراچی کی ایزل تک—ان تمام معصوموں کی خون آلود آنکھیں آج ہر مرد سے ایک ہی سوال پوچھ رہی ہیں: ‘تم کس بات کے محافظ ہو؟’جس معاشرے میں پھول کھلنے سے پہلے مسل دیے جائیں، جہاں معصومیت کو تحفظ کی جگہ خوف ملے، اور جہاں بچیوں کی کھلکھلاہٹ درندگی کی بھیانک چیخوں میں بدل جائے—وہاں یہ سوال پوچھنا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آخر ہماری آدمیت کہاں مر گئی؟


آئے دن اخبار کا صفحہ ہو یا سوشل میڈیا کی فیڈ، کسی نہ کسی معصوم بچی کی چیخیں ہمارے ضمیر کے بند دروازوں پر دستک دیتی ہیں۔ لیکن حیرت، درد اور غصے کی لہر کے بعد ہم پھر سے اپنے معمولات میں مگن ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے مردانہ معاشرے کو آخر ہو کیا گیا ہے؟ جس مرد کو فطرت نے عورت اور بچے کا محافظ بنایا تھا، وہ خود ہی درندہ کیسے بن گیا؟ ہم کس مردانگی کا زعم پالے بیٹھے ہیں؟ وہ مردانگی جو ایک معصوم بچی کی بے بس آنکھوں میں خوف دیکھ کر بھی شرمسار نہ ہو، وہ مردانگی نہیں بلکہ حیوانیت کی بدترین شکل ہے۔ کیا مردانگی صرف مونچھوں کو تاؤ دینے، گھر کی عورتوں پر رعب جمانے، اور باہر نکل کر بے بس بچیوں کو آسان شکار سمجھنے کا نام ہے؟


ہم نے اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور افسر بنانا تو سکھایا، لیکن انسان بنانا بھول گئے۔ ہم نے لڑکوں کو گھر کا ‘وارث’ بنا کر سر پر بٹھایا، مگر انہیں یہ نہیں سکھایا کہ کسی کی بیٹی، کسی کی بہن یا راستے میں چلتی ہوئی معصوم بچی کی عزت کی حفاظت بھی ان کی ہی ذمے داری ہے۔ جب ہم گھروں میں عورت کی تحقیر کریں گے، جب ہم حیا اور اخلاق کی حدود کو پامال کریں گے، تو پھر گلی محلوں میں انسان نہیں، ایسے ہی وائلڈ درندے گھومیں گے۔
خدارا! اپنے بیٹوں کی تربیت پر رحم کیجیے!انہیں حاکمیت کے بجائے ‘حیا اور احترام’ سکھائیے۔ انہیں سکھائیے کہ طاقت کا مطلب کسی پر مسلط ہونا نہیں، بلکہ کمزور کی ڈھال بننا ہے۔ اپنے بیٹوں کے ذہنوں سے ‘حاکمیت’ کا یہ زہر نکالیے، اگر آج ہم نے اپنے گھروں میں بیٹوں کو حیا، ضبط اور احترام نہ سکھایا، تو کل کو یہی بیٹے کسی اور کے گھر کا چراغ بجھا کر آئیں گے اور ہم اپنے ہی ہاتھوں سے پالے گئے درندوں کے ساتھ تاریخ کے کٹہرے میں مجرم بن کر کھڑے ہوں گے۔ اب وقت ختم ہو رہا ہے، اپنے بیٹوں کے رویوں، ان کی سوچ اور ان کی محفلوں پر نظر رکھیں، اپنی تربیت کا احتساب کیجیے اس سے پہلے کہ اگلا جنازہ ہمارے اپنے ضمیر کا اٹھے!

قصور کی زینب سے لے کر پشاور کی منتہا اور کراچی کی اٹھارہ ماہ کی ایزل تک—کسی بھی معصوم کا قاتل آسمان سے نہیں اترا تھا، وہ کسی ماں کا بیٹا، کسی باپ کا لختِ جگر اور کسی گھر کا ‘تربیت یافتہ’ مرد ہی تھا۔ جب تک ہم گھروں میں بیٹیوں کو تو ہزار نصائح کریں گے لیکن بیٹوں کو کھلی چھوٹ دیں گے، یہ درندگی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔
اب وقت ہے! اپنی بیٹیوں کو چھپانے اور ڈرانے کے بجائے اپنے بیٹوں کی آنکھوں میں حیا اور دلوں میں خوفِ خدا اتارا جائے۔