تعلیم کے نام پر بڑھتا مالی بوجھ

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور شعور کی بنیاد ہوتی ہے۔ جس قوم نے تعلیم کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا، اس نے ترقی کی راہوں پر قدم بڑھایا، جبکہ جن معاشروں میں علم کو نظر انداز کیا گیا وہ وقت کے ساتھ پیچھے رہ گئے۔ تعلیم صرف ایک ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، فیصلے کرنے اور اپنے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں تعلیم کو بنیادی انسانی ضرورت اور معاشرتی ترقی کا اہم ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں تعلیم کا حصول دن بدن عام آدمی کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی فیسوں میں مسلسل اضافہ، کتابوں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ، ہاسٹل اور دیگر تعلیمی اخراجات نے والدین کے لیے بچوں کو معیاری تعلیم دلوانا ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔ آج ایک متوسط طبقے کا خاندان اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے تو اسے سب سے پہلے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ اس خواب کی قیمت کتنی ہے اور وہ اسے ادا کرنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔

ہمارے معاشرے میں تعلیم کو ہمیشہ عزت اور ترقی کا راستہ سمجھا گیا ہے۔ والدین اپنی ضروریات محدود کرکے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ کئی والدین اپنی خواہشات قربان کرتے ہیں، اضافی کام کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں اور اپنی جمع پونجی بچوں کی فیسوں میں لگا دیتے ہیں تاکہ ان کے بچے ان سے بہتر زندگی گزار سکیں۔ لیکن جب تعلیم کے اخراجات مسلسل بڑھتے جائیں اور آمدنی اس رفتار سے نہ بڑھے تو والدین کے لیے یہ قربانی بھی ناقابل برداشت ہونے لگتی ہے۔ ایک طرف مہنگائی نے روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات مہنگی کر دی ہیں، دوسری طرف تعلیم کے اخراجات میں اضافے نے خاندانوں کے بجٹ کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ کھانا، بجلی، گیس، کرایہ، علاج اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کے بعد اگر والدین کے سامنے ہزاروں یا لاکھوں روپے کی تعلیمی فیس آ جائے تو ان کے لیے فیصلہ کرنا آسان نہیں رہتا۔

سب سے زیادہ متاثر متوسط اور کم آمدنی والے خاندان ہوتے ہیں۔ امیر طبقہ مہنگے نجی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی فیس ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ایک عام ملازم، دکاندار، مزدور یا چھوٹے کاروبار سے وابستہ شخص کے لیے ایک سے زیادہ بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر خاندان میں تین یا چار بچے ہوں تو ان کی فیس، کتابیں، یونیفارم، جوتے، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات مل کر ماہانہ آمدنی کا بڑا حصہ لے جاتے ہیں۔ نتیجتاً والدین کو کئی مرتبہ بچوں کی تعلیم اور گھر کی دوسری بنیادی ضروریات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرے کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔

مہنگی تعلیم کا سب سے خطرناک اثر یہ ہے کہ تعلیم طبقاتی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ بچے ہیں جو مہنگے اور جدید تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، جہاں انہیں بہتر سہولیات، جدید ٹیکنالوجی، تجربہ کار اساتذہ، زبانوں کی تربیت اور مختلف غیر نصابی سرگرمیوں کے مواقع میسر آتے ہیں۔ دوسری طرف وہ بچے ہیں جن کے والدین فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور وہ کم سہولیات والے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں یا بعض اوقات تعلیم ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ یوں تعلیم، جو دراصل معاشرتی برابری کا ذریعہ ہونی چاہیے، خود معاشی فرق کو بڑھانے کا سبب بننے لگتی ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ نجی تعلیمی اداروں نے تعلیم کے شعبے میں کئی اہم سہولیات فراہم کی ہیں۔ بہتر عمارتیں، جدید کلاس رومز، کمپیوٹر لیبز، زبانوں کی تربیت اور دیگر سہولیات بچوں کی شخصیت سازی میں کردار ادا کرتی ہیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تعلیم کو ایک ایسی کاروباری سرگرمی بنا دیا جائے جس میں والدین کی مجبوری کو آمدنی کا ذریعہ سمجھا جائے۔ فیس میں اضافے کے ساتھ مختلف مدوں کے نام پر اضافی چارجز، داخلہ فیس، سالانہ فیس، امتحانی فیس، سرگرمیوں کی فیس، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات والدین پر مزید بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ادارے کی اصل فیس جتنی ہوتی ہے، اضافی اخراجات ملا کر مجموعی رقم اس سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔

یونیورسٹی کی تعلیم کا معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ آج اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ایک عام نوجوان کے لیے آسان نہیں رہا۔ یونیورسٹی کی فیس کے ساتھ رہائش، ٹرانسپورٹ، کتابیں، انٹرنیٹ، لیپ ٹاپ اور دیگر ضروریات کا خرچ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ بڑے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے کرایہ اور کھانے کے اخراجات الگ مسئلہ ہیں۔ بہت سے نوجوان صرف اس وجہ سے اعلیٰ تعلیم کا خواب چھوڑ دیتے ہیں کہ ان کے والدین اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ کچھ نوجوان تعلیم کے ساتھ ملازمت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ کچھ اپنی پسند کے شعبے میں جانے کے بجائے اس شعبے کا انتخاب کرتے ہیں جہاں فیس کم ہو یا کسی طرح اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

یہ صورتحال ہمارے لیے ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے کہ اگر تعلیم ترقی کی بنیاد ہے تو اسے عام آدمی کی پہنچ سے دور کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا صرف وہی نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کریں جو مالی طور پر مضبوط خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں؟ کیا ذہانت اور صلاحیت کا تعلق خاندان کی آمدنی سے ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ ایک غریب گھرانے کا بچہ بھی اتنا ہی ذہین، باصلاحیت اور محنتی ہو سکتا ہے جتنا ایک امیر گھرانے کا بچہ۔ فرق صرف مواقع کا ہوتا ہے۔ اگر ایک بچے کو بہترین تعلیم، کتابیں، انٹرنیٹ، رہنمائی اور مناسب ماحول مل جائے اور دوسرے بچے کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہ ہوں تو مقابلے کے میدان میں دونوں کو برابر قرار دینا حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔

تعلیم مہنگی ہونے کی ایک بڑی وجہ معاشی حالات بھی ہیں۔ اساتذہ کی تنخواہیں، عمارتوں کے اخراجات، بجلی، ٹیکنالوجی، کتابیں اور دیگر انتظامی اخراجات تعلیمی اداروں کے لیے حقیقی مسائل ہیں۔ لیکن ان مسائل کا مکمل بوجھ والدین پر ڈال دینا بھی مناسب نہیں۔ ریاست، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو مل کر ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں معیاری تعلیم بھی برقرار رہے اور عام آدمی کے لیے اس کا حصول بھی ممکن ہو۔ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جہاں صرف منافع کو معیار نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ اس کے اثرات براہ راست آنے والی نسلوں پر پڑتے ہیں۔

سرکاری تعلیمی اداروں کا کردار یہاں بہت اہم ہو جاتا ہے۔ اگر سرکاری اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں معیاری تعلیم فراہم کریں، تو والدین کے لیے مہنگے نجی اداروں کا انتخاب کرنا ضروری نہیں رہے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے معیار میں فرق نے متوسط طبقے کو بھی نجی تعلیم کی طرف دھکیل دیا ہے۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے خوف سے اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگر سرکاری اداروں میں معیاری تدریس، بہتر انفراسٹرکچر، جدید نصاب، حاضری کا مؤثر نظام اور قابل اساتذہ کی فراہمی یقینی بنا دی جائے تو بہت سے خاندانوں کا مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔

اس مسئلے کا ایک اہم حل اسکالرشپ کا دائرہ وسیع کرنا بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسے طلبہ موجود ہیں جو ذہین اور محنتی ہیں مگر مالی مشکلات کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔ انہیں صرف چند مخصوص پروگراموں تک محدود رکھنے کے بجائے زیادہ وسیع سطح پر میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر اسکالرشپس فراہم کی جانی چاہئیں۔ تعلیمی قرضوں، فیس میں رعایت اور قسطوں کی سہولت بھی ایسے خاندانوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے جو ایک ہی وقت میں مکمل فیس ادا نہیں کر سکتے۔

ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ تعلیمی اداروں کی فیسوں کے تعین میں شفافیت پیدا کی جائے۔ والدین کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ جان سکیں کہ وہ جس فیس کی ادائیگی کر رہے ہیں، اس کے بدلے ادارہ انہیں کیا سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ ہر سال غیر ضروری طور پر فیس بڑھانے کے بجائے ایک واضح اور قابل فہم نظام ہونا چاہیے۔ تعلیمی اداروں کی نگرانی کرنے والے متعلقہ اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی تاکہ تعلیم کے نام پر والدین کا استحصال نہ ہو۔

مہنگی تعلیم کا تعلق صرف والدین کے مالی مسائل سے نہیں بلکہ ملک کی معاشی ترقی سے بھی ہے۔ جب نوجوان تعلیم حاصل نہیں کر پاتے تو ملک ایک باصلاحیت افرادی قوت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ایک نوجوان جو انجینئر، ڈاکٹر، استاد، صحافی، سائنس دان، وکیل یا کسی دوسرے شعبے کا ماہر بن سکتا تھا، اگر مالی مشکلات کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دے تو نقصان صرف اس کے خاندان کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہے۔ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں اور نوجوانوں کی اصل طاقت ان کی تعلیم، مہارت اور کردار ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہم تعلیم کے معیار اور فیس کے درمیان تعلق کو درست انداز میں سمجھیں۔ مہنگی فیس ہمیشہ بہترین تعلیم کی ضمانت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات والدین صرف ادارے کے نام، عمارت یا معاشرتی حیثیت سے متاثر ہو کر بھاری فیس ادا کرتے ہیں۔ ہمیں تعلیمی ادارے کا انتخاب کرتے وقت صرف فیس نہیں بلکہ اساتذہ کا معیار، نصاب، تعلیمی ماحول، طلبہ کی تربیت، تحقیق کے مواقع اور عملی مہارتوں کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اسی طرح اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ والدین کے اعتماد کو صرف مارکیٹنگ کے ذریعے نہیں بلکہ حقیقی معیار کے ذریعے قائم رکھیں۔

ڈیجیٹل تعلیم نے اگرچہ علم تک رسائی کے نئے راستے کھولے ہیں لیکن یہاں بھی معاشی فرق موجود ہے۔ آن لائن کلاسز، ڈیجیٹل کورسز، لیپ ٹاپ اور تیز رفتار انٹرنیٹ ان طلبہ کے لیے فائدہ مند ہیں جن کے پاس یہ سہولیات موجود ہیں، مگر بہت سے گھرانے اب بھی ان بنیادی وسائل سے محروم ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دیتے وقت یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی خود ایک نئی طبقاتی دیوار نہ بن جائے۔ سرکاری سطح پر مفت یا کم قیمت انٹرنیٹ، ڈیجیٹل لائبریریوں، کمپیوٹر لیبز اور تعلیمی پلیٹ فارمز کی فراہمی اس فرق کو کم کر سکتی ہے۔

والدین کی ذمہ داری بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ بچوں کی تعلیم کے لیے منصوبہ بندی کرنا، غیر ضروری اخراجات سے بچنا اور دستیاب اسکالرشپس یا کم فیس والے معیاری اداروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ تاہم یہ توقع رکھنا درست نہیں کہ ہر مسئلے کا حل والدین خود نکال لیں۔ جب پورا معاشی نظام مہنگائی کا شکار ہو اور آمدنی محدود ہو تو فرد کی کوششیں ایک حد تک ہی کام آتی ہیں۔ اس لیے ریاستی پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

اساتذہ بھی اس پورے معاملے کا اہم حصہ ہیں۔ اگر تعلیم کو صرف فیس وصول کرنے کا عمل سمجھ لیا جائے تو استاد اور طالب علم کے درمیان وہ رشتہ پیدا نہیں ہو سکتا جو حقیقی تعلیم کے لیے ضروری ہے۔ استاد صرف کتاب پڑھانے والا شخص نہیں بلکہ طالب علم کی شخصیت بنانے والا رہنما بھی ہوتا ہے۔ اس لیے اساتذہ کی تربیت، مناسب تنخواہوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پر سرمایہ کاری ضروری ہے۔ بہتر استاد ہی کم وسائل میں بھی بچوں کو بہتر تعلیم دینے کی کوشش کر سکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک اور مسئلہ تعلیمی اخراجات کی وجہ سے بچوں کے درمیان پیدا ہونے والا احساسِ محرومی ہے۔ جب ایک بچہ اپنے ساتھی کو مہنگا اسکول بیگ، جدید موبائل، مہنگی کتابیں یا مختلف تعلیمی سہولیات استعمال کرتے دیکھتا ہے اور وہ خود ان چیزوں سے محروم ہوتا ہے تو اس کے اندر احساسِ کمتری پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات بچے اپنے والدین پر غیر ضروری اخراجات کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں، کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جائیں گے۔ اس لیے تعلیمی اداروں کو بھی ایسی ثقافت کو فروغ دینا چاہیے جس میں طالب علم کی قدر اس کے لباس، موبائل یا مالی حیثیت کے بجائے اس کی صلاحیت، محنت اور کردار سے ہو۔

تعلیم پر خرچ کو بوجھ سمجھنے کے بجائے سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے، لیکن سرمایہ کاری اور استحصال میں فرق بھی برقرار رہنا چاہیے۔ اگر والدین تعلیم کے لیے اپنا پیسہ خرچ کرتے ہیں تو انہیں معیاری تعلیم ملنی چاہیے۔ اگر ریاست تعلیم پر بجٹ خرچ کرتی ہے تو اس کا فائدہ عام شہری تک پہنچنا چاہیے۔ اگر نجی ادارے فیس لیتے ہیں تو انہیں اپنے معیار اور سہولیات کے حوالے سے جواب دہ ہونا چاہیے۔ تینوں فریقوں کی ذمہ داری واضح ہوگی تو تعلیم کا نظام بہتر ہو سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم کو صرف امتحان، نمبر اور ڈگری تک محدود نہ کریں۔ ایک اچھا تعلیمی نظام وہ ہوتا ہے جو نوجوان کو عملی زندگی کے لیے تیار کرے، اسے تحقیق، تنقیدی سوچ، اخلاقیات، برداشت اور ذمہ داری کا شعور دے۔ اگر تعلیم مہنگی بھی ہو اور اس کے باوجود نوجوانوں کو عملی زندگی کے لیے ضروری مہارتیں نہ ملیں تو یہ صورتحال مزید تشویش ناک ہے۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نصاب کو مارکیٹ کی ضروریات، جدید ٹیکنالوجی اور معاشرتی تقاضوں کے مطابق بہتر بنائیں تاکہ طالب علم اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت تعلیم کو محض بجٹ کی ایک مد نہیں بلکہ قومی ترجیح سمجھے۔ اسکول سے یونیورسٹی تک ایسا نظام بنایا جائے جس میں کسی بچے کا مستقبل اس کے والدین کی مالی حیثیت کا محتاج نہ ہو۔ اگر ایک ذہین طالب علم صرف اس لیے یونیورسٹی نہیں جا سکتا کہ اس کے پاس فیس نہیں، تو یہ صرف اس طالب علم کی ناکامی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔ قومیں اس وقت مضبوط بنتی ہیں جب وہ اپنے بچوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج کے بچے ہی کل کے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، صحافی، سائنس دان، کاروباری افراد اور حکمران بنیں گے۔ اگر آج انہیں تعلیم سے محروم رکھا گیا تو کل ہم ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں گے جہاں ہنر اور قابلیت سے زیادہ دولت اہم ہو گی۔ اس کے برعکس اگر تعلیم ہر طبقے کے لیے قابل رسائی بنائی جائے تو ایک غریب گھرانے کا بچہ بھی اپنے خاندان کی تقدیر بدل سکتا ہے، روزگار پیدا کر سکتا ہے اور ملک کی معیشت میں حصہ ڈال سکتا ہے۔

تعلیم کسی خاندان کی آسائش نہیں بلکہ معاشرے کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس کی قیمت اتنی نہیں ہونی چاہیے کہ عام آدمی اپنے بچے کو پڑھانے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں نوجوان آبادی کی بڑی تعداد موجود ہو، وہاں تعلیم کو مہنگا کرنا دراصل مستقبل کو مہنگا کرنا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے نوجوانوں کو مواقع دینا چاہتے ہیں یا انہیں مالی مشکلات کے سامنے چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔

اگر ہم واقعی ایک ترقی یافتہ، باشعور اور مضبوط معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو ہر سطح پر قابل رسائی بنانا ہوگا۔ والدین کو یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ بچے کی اگلی فیس کیسے ادا ہوگی، طالب علم کو یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ غربت اس کی تعلیم کا راستہ روک دے گی اور ریاست کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ تعلیم پر خرچ دراصل ملک کے مستقبل پر خرچ ہے۔ جب تعلیم کا دروازہ ہر بچے کے لیے کھلا ہوگا تو معاشرے میں طبقاتی فرق کم ہوگا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے، غربت میں کمی آئے گی اور نوجوان زیادہ مؤثر انداز میں ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔

آخرکار ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کی قیمت صرف فیس کی رقم نہیں ہوتی۔ ایک بچے کی تعلیم رکنے کی قیمت ایک ادھورا خواب، ایک ضائع ہونے والی صلاحیت اور مستقبل کے ایک ممکنہ ماہر کی محرومی کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ اگر آج مہنگی تعلیم کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اس لیے حکومت، تعلیمی اداروں، اساتذہ، والدین اور معاشرے سب کو مل کر ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں تعلیم دولت مندوں کی سہولت نہیں بلکہ ہر بچے کا حق ہو۔ کیونکہ کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ اس کی عمارتیں، سڑکیں یا بینک نہیں بلکہ اس کے تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باشعور انسان ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان انسانوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کریں گے تو یہ سرمایہ کاری آنے والی نسلوں کو واپس ملے گی، لیکن اگر ہم نے تعلیم کو صرف مہنگی چیز بنا دیا تو شاید ہم اپنے ہی مستقبل کی قیمت ادا کرنے سے قاصر ہو جائیں۔