محترم افتخار عارف صاحب سے ایک یادگار ملاقات

آج 9 اگست 2026ءکو منفرد لب و لہجے کے صاحبِ طرز شاعر، بلند پایہ ادیب اور صاحبِ فکر دانشور جناب افتخار حسین عارف سے ان کی آرام گاہ پر معروف شاعر، ادیب اور نامور نقاد جناب ڈاکٹر فرحت عباس کی رفاقت میں ایک طویل، پُرمسرت اور یادگار نشست کا شرف حاصل ہوا۔ یہ محض ایک ملاقات نہ تھی بل کہ علم، ادب، تہذیب اور محبت سے معمور ایک ایسی بابرکت ساعت تھی جس میں دیر تک اردو ادب اور سیرتِ اسلام کے مختلف پہلووں پر نہایت عالمانہ، بصیرت افروز اور دل نشیں گفتگو سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ افتخار عارف صاحب کی گفتگو میں ان کے وسیع مطالعے، گہری فکری بصیرت، تہذیبی شعور اور اردو زبان و ادب سے بے پایاں محبت کی جھلک ہر لمحہ نمایاں تھی۔ جناب افتخار عارف کی شخصیت اردو ادب کے ایک پورے عہد کی نمائندگی کرتی ہے۔

وہ نہ صرف منفرد اسلوب، گہری فکری معنویت اور کلاسیکی روایت سے مضبوط رشتے رکھنے والے صاحبِ طرز شاعر ہیں بلکہ ایک صاحبِ علم،صاحبِ نظر اور صاحبِ بصیرت ادیب بھی ہیں۔ مقتدرہ قومی زبان کے سابق صدر نشین، اکادمی ادبیات پاکستان کے سابق چیئرمین، لندن میں اردو مرکز کے سربراہ اور تہران میں ای سی او (ECO) کے ثقافتی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی اور پاکستان کی تہذیبی شناخت کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

ان کی ادبی تخلیقات”بارہواں کھلاڑی“، ”مہرِ دو نیم“، ”حرفِ باریاب“، ”جہانِ معلوم“، ”باغِ گلِ سرخ“ اور ”شہرِ علم کے دروازے پر“ اردو شاعری اور نثر میں ان کے منفرد فکری اور جمالیاتی شعور کی گواہ ہیں۔ ان کے ہاں روایت اور جدید حسیت کا ایسا حسین امتزاج ملتا ہے جو ان کے کلام کو اپنے عہد کی آواز بھی بناتا ہے اور اردو کی کلاسیکی شعری روایت سے مربوط بھی رکھتا ہے۔ اس خوب صورت اور یادگار نشست میں بالخصوص میرے بیٹے عشارب ندیم کے لیے ڈاکٹر صاحب کے خصوصی محبت و شفقت سے بھرپور
کلمات نے میرے دل کو گہرائی سے چھو لیا۔ ان کی یہ محبت میرے لیے ایک خوش گوار اور ناقابلِ فراموش یاد بن گئی۔


اسی موقع پر جناب تفاخر محمود گوندل کی گراں قدر کتاب ”تجلیاتِ رسالت“بھی جناب کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل آج کی یہ نشست میرے لیے اس اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل رہے گی کہ مجھے ایک عظیم شاعر، صاحبِ علم و دانش اور صاحبِ طرز ادیب کو قریب سے سننے، ان کے فکری تجربات سے فیض یاب ہونے اور ان کی شفقت و محبت سمیٹنے کا موقع ملا۔

ایسی ملاقاتیں محض چند لمحوں کی رفاقت نہیں ہوتیں، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ یادوں کی ایک روشن ساعت، دل نشیں لمحات کا انمول سرمایہ اور زندگی کے خوب صورت حوالوں میں ایک تابندہ باب بن جاتی ہیں۔آج ہونے والی یہ ملاقات بھی بلاشبہ میرے لیے ایسی ہی ایک روشن، خوش گوار اور ناقابلِ فراموش ساعت ہے، جس کی خوشبو مدتوں دل و دماغ میں بسی رہے گی۔