
اگست کا مہینہ آتے ہی ہم ایک بار پھر تاریخ کے اوراق الٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ملی نغمے گونجنے لگتے ہیں، گلیوں میں سبز ہلالی پرچم لہرانے لگتے ہیں اور تقریروں میں قوم کے 79 سالہ سفر کی داستانیں دہرائی جاتی ہیں۔ لیکن ذرا ٹھہر کر سوچئے! جس ملک کا شہری اپنے قومی پرچم اور وطن کا احترام صرف ایک دن کیلئےکرتا ہو، وہ ملک باقی 364 دن کس حال میں رہتا ہوگا؟ آزادی صرف جغرافیہ اور پرچم کا نام نہیں،حقیقی آزادی رویوں کی تہذیب سے جنم لیتی ہے۔ جب تک ہم قانون کی پابندی نہیں کرتے، ماحول کو صاف نہیں رکھتے، اور ایک دوسرے کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتے، تب تک ہر 14 اگست صرف ایک شور رہے گا، جشن نہیں۔
ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ غلامی ہاتھوں اور پاوں میں لوہے کی بیڑیاں ڈالنے کا نام ہے۔ آج کی غلامی ہاتھوں اور پاوں میں لوہے کی بیڑیوں کا نام نہیں بلکہ یہ معاشی لاچاری اور نفسیاتی خوف کا روپ دھار چکی ہے۔ ہم نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیدیا ہے جہاں عام انسان ہر وقت دفاعی حالت (Defensive Mode) میں رہتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار سٹریٹ کرائم کے ڈر سے ہر آہٹ پر پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے، ماں باپ جوان بیٹے /بیٹی کے گھر لوٹنے تک بے چین رہتے ہیں، مریض ہسپتال کے اخراجات سے ڈرتا ہے، طالبعلم حصولِ تعلیم کیلئے باپ کی خالی جیب دیکھ کر رُک جاتا ہے اور خریدار دکان پر قیمتوں کے نئے جھٹکے سے کانپتا ہے۔
خوفزدہ اور ذہنی طور پر تھکا ہوا انسان کبھی آزاد نہیں ہو سکتا، خواہ اس کے سر پر آزاد ملک کا پرچم ہی کیوں نہ لہرایا گیا ہو۔ ہر مسئلے کا ملبہ ریاست پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں لیکن کیا ہم نے اپنے رویوں پر غور کیا؟ ہم آزادی کا حق تو مانگتے ہیں مگر شہری کے فرائض سے فرار چاہتے ہیں۔ ہم پرچم تو خریدتے ہیں لیکن اگلے ہی دن اسے پیروں تلے روندنے سے گریز نہیں کرتے۔ جشن کے اس شور میں اگر کوئی بھیانک سچائی سب سے زیادہ خاموش اور تلخ ہے، تو وہ اس ملک کی 60 فیصد سے زائد نوجوان آبادی کی آنکھوں میں چھپی بے چینی ہے۔
آج ہمارا نوجوان اس مٹی میں اپنا مستقبل تلاش کرنے سے قاصر ہو کر پاسپورٹ اور ویزے کی لائنوں میں کھڑا ہے۔ جب ملک کے روشن دماغ اپنے ہی گھر کو چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو جائیں، تو سوچنے کا مقام ہے کہ 79 سال کی ریاست جشن کس بات کا منا رہی ہے؟ حقیقی آزادی کا سورج اس دن طلوع ہوگا جب ریاست اپنے شہری کی عزتِ نفس بحال کرے گی، جب محنت کش کو اس کی محنت کا ثمر ملے گا اور جب نوجوانوں کو یقین ہوگا کہ ان کا پسینہ اسی مٹی میں رنگ لائے گا۔
آزادی کو صرف ایک دن کا تہوار نہ بنائیں، اپنے بچوں کو سکھائیے کہ وطن سے محبت باجے بجانے سے نہیں، بلکہ آئین کی پاسداری، ماحول کی صفائی اور انسانی حرمت کی حفاظت سے ہوتی ہے۔ہم نے کبھی سوچا ہے کہ گاڑی کے اشارے کی خلاف ورزی سے لے کر دکان پر ملاوٹ کرنے اور گلی میں کچرا پھینکنے تک، ہم خود اس ملک کے ساتھ کتنے مخلص ہیں؟اپنے بچوں کے ہاتھوں میں باجے اور پلاسٹک کے جھنڈے تھمانے کے بجائے، ان کے دلوں میں سچائی، محنت اور اس مٹی سے بے لوث محبت کی شمع روشن کیجیے تاکہ کل جب وہ بڑے ہوں تو انہیں اس ملک سے بھاگنے کا راستہ نہ ڈھونڈنا پڑے، بلکہ وہ اس کی تعمیر پر فخر کر سکیں۔
جس آزاد ملک میں 18 ماہ کا بچہ بھی درندگی سے محفوظ نہیں وہاں جشن دراصل ایک آزاد قوم کا نہیں، بلکہ ایک مردہ معاشرے کا نوحہ ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو با وقار پاکستان نہیں دے سکتے تو کم از کم انہیں با کردار انسان ضرور بنائیں تا کہ وہ اس ملک کو سنوار سکیں۔