ایک کمرے سے تعلیمی انقلاب تک

کچھ لوگ عہدوں سے پہچانے جاتے ہیں، کچھ اپنے منصب سے آگے بڑھ کر اپنے کام سے تاریخ میں جگہ بناتے ہیں۔ بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد ستی بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے بڑے حصے کو تعلیم، تربیت، انسان سازی اور معاشرتی خدمت کیلئے وقف کر دیا۔ کہوٹہ کے ایک دور افتادہ گاوں سے شروع ہونے والا ان
کا تعلیمی سفر آج 24 برس مکمل کر چکا ہے۔ 2002 میں ایک کمرے کے اسکول سے شروع ہونے والی یہ کاوش اب عظیم پبلک سکولز سسٹم کی صورت میں تحصیل کہوٹہ کے ہر علاقے پر گاوں تک پھیل چکی ہے جہاں ہزاروں بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ محمد عظیم وہ شخصیت جنہوں نے راستہ دکھایا بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد ستی کا تعلق کہوٹہ کے ایک دور افتادہ گاوں بیہند کے ایک سادہ اور محنت کش گھرانے سے تھا۔ ان کے والد ایک مزدور تھے۔ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والے ایک بچے کیلئے فوج میں بطور افسر شامل ہونا اور آگے چل کر بریگیڈیئر کے منصب تک پہنچنا بظاہر مشکل خواب تھا۔ اس سفر میں ان کے قریبی کزن لیفٹیننٹ کمانڈر محمد عظیم نے اہم کردار ادا کیا۔ پاک بحریہ سے لیفٹیننٹ کمانڈر کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے محمد عظیم نے جاوید احمد ستی کو تعلیم اور آگے بڑھنے کی راہ دکھائی۔ یہی نسبت بعد میں ایک پورے تعلیمی نظام کے نام کا حصہ بنی۔ عظیم پبلک سکولز سسٹم کا نام لیفٹیننٹ کمانڈر محمد عظیم کی یاد اور نسبت سے رکھا گیا۔ محمد عظیم آج اس دنیا میں موجود نہیں، مگر ان کے نام سے قائم ہونے والا یہ تعلیمی نظام آج ہزاروں بچوں کے مستقبل کو روشن کر رہا ہے۔ یوں ایک شخصیت کی سوچ اور حوصلہ ایک پوری نسل کے لیے تعلیمی ورثہ بن گیا۔ بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد ستی کے تعلیمی تصور کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تعلیم کو محض نصابی کتابوں، امتحانات اور نمبروں تک محدود نہیں رکھا گیا۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی ایک ایسے انسان کی تشکیل ہے جو علم کے ساتھ شعور، کردار، نظم و ضبط، ذمہ داری اور معاشرے کے لیے احساس بھی رکھتا ہو۔ عظیم پبلک سکولز سسٹم میں ”تربیت و تعلیم“ کے اسی تصور کو بنیادی حیثیت دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں نوجوان آج زندگی کے مختلف شعبوں میں ملک اور بیرون ملک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر بنا، کوئی انجینئر، کوئی وکیل، کوئی استاد، کوئی سول سرونٹ، جبکہ متعدد نوجوان پاک فوج سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ 70 سے زائد برانچز اور 17 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کا یہ نیٹ ورک اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت، وژن اور مسلسل
محنت موجود ہو تو محدود وسائل کے باوجود ایک پورا تعلیمی نظام کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ اس نظام نے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے۔ ایک ہزار سے زائد افراد، جن میں اساتذہ، انتظامی عملہ، سیکیورٹی گارڈز اور دیگر ملازمین شامل ہیں، اس تعلیمی نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔ 700 سے زائد خواتین اساتذہ کی شمولیت اس بات کی بھی علامت ہے کہ تعلیم کے ساتھ خواتین کے لیے باعزت روزگار کے دروازے بھی کھولے گئے۔ غریب کا بچہ بھی بڑے خواب دیکھ سکتا ہے۔ عظیم پبلک سکولز سسٹم کے ماڈل کی ایک اہم خوبی کم فیس اور مستحق بچوں کے لیے مفت تعلیم ہے۔ وہ جنگلات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے بھی طویل عرصے سے آواز اٹھاتے اور عملی اقدامات کرتے رہے ہیں۔آنے والے برسوں میں کہوٹہ کے جنگلات محفوظ اور سرسبز نظر آئے تو اس جدوجہد میں بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد ستی کا کردار تاریخ کے سنہری اوراق میں ضرور درج کیا جائے گا۔عظیم پبلک سکولز سسٹم میں بچوں کی تعلیمی قابلیت کے ساتھ ان کی شخصیت، نظم و ضبط، اخلاقی اقدار اور مقابلے کے جذبے کو بھی اہمیت دی گئی۔ کیڈٹ کالجز اور دیگر معیاری تعلیمی اداروں کے مسابقتی امتحانات کے لیے طلبہ کی تیاری بھی اسی وژن کا حصہ ہے۔ بیہند میں قائم ہاسٹل میں طلبہ کے لیے تعلیمی ماحول کے ساتھ نظم و ضبط اور تربیت پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ بریگیڈیئر (ر) جاوید احمد ستی نے اسکول نہیں راستے بنائے۔ ایسے راستے جن پر چل کر دور دراز علاقوں کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، فوجی افسر، استاد اور مختلف شعبوں کے ماہر بن سکے۔مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے عظیم پبلک سکولز سسٹم میں کلاس سوم سے باقاعدہ آئی ٹی کورسز کا اجرا کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 50 اساتذہ کو خصوصی آئی ٹی تربیت دی گئی ہے، جبکہ طلبہ کو فری لانسنگ، گرافک ڈیزائننگ، ویب ڈیزائننگ اور دیگر جدید ڈیجیٹل مہارتیں اپنی مدد آپ کے تحت سکھائی جا رہی ہیں، تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر مستقبل کے تعلیمی اور روزگار کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔کہوٹہ کی وادیوں میں شروع ہونے والا یہ تعلیمی سفر آج ہزاروں گھروں کے مستقبل سے جڑ چکا ہے۔یہ صرف تعلیم کی کہانی نہیں، یہ نسلوں کی تعمیر کی داستان ہے۔