
محرم کا چاند نظر آتے ہی ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سی تقسیم نمایاں ہونے لگتی ہے۔ کسی نے سیاہ لباس پہن لیا، کسی نے حضرت امام حسینؓ کی یاد میں ایک پوسٹ لگا دی، کسی نے نیاز تقسیم کر دی، تو فوراً اس کی نیت اور مسلک پر سوال اٹھا دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ ہم محبت کو بھی فرقوں کے ترازو میں تولنے لگے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓصرف کسی ایک فرقے کے نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے محبوب ہیں۔ وہ نبی کریم ﷺ کے نواسے ہیں، جن سے محبت ایمان کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ ان کی یاد، ان کی قربانی اور ان کے کردار سے محبت کرنا کسی مخصوص مکتبِ فکر کی علامت نہیں بلکہ رسول اللہﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچوں کو وسیع کریں۔ اگر کوئی شخص محرم میں اہلِ بیتؓ کی محبت کا اظہار کرتا ہے تو اسے فوراً کسی خانے میں رکھ کر اس پر فتوے نہ لگائیں۔ محبت دلوں کو جوڑتی ہے، جبکہ تعصب دلوں کو توڑ دیتا ہے۔کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حق، صبر، انصاف اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا پیغام ہے۔ اگر ہم واقعی امام حسینؓ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آج ہمارے معاشرے میں کہاں کہاں ظلم ہو رہا ہے۔
وہ لوگ جو دوسروں کے حقوق سلب کرتے ہیں، کمزوروں کو ستاتے ہیں، نفرت پھیلاتے ہیں اور انسانوں کو ذلیل کرتے ہیں، کیا وہ کربلا کے پیغام کو سمجھ پائے ہیں؟افسوس یہ ہے کہ ہم ظاہری علامات پر بحث کرتے ہیں مگر اپنے رویوں کا محاسبہ نہیں کرتے۔ ہم یہ تو دیکھ لیتے ہیں کہ کس نے جھنڈا لگایا، کس نے سیاہ لباس پہنا، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارے الفاظ اور اعمال کہیں دوسروں کے لیے تکلیف اور ناانصافی کا سبب تو نہیں بن رہے۔نئی نسل کو نفرت نہیں، شعور کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ اہلِ بیتؓ کی محبت امت کو جوڑنے کا ذریعہ ہے، تقسیم کرنے کا نہیں۔
محرم ہمیں ایک دوسرے پر شک کرنا نہیں، بلکہ حق، عدل اور انسانیت کے ساتھ کھڑا ہونا سکھاتا ہے۔آئیے اپنی سوچوں کو مثبت بنائیں اور محبتِ اہلِ بیتؓ کو فرقوں کی دیواروں سے آزاد کریں،کیونکہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ پوری امت کے ہیں، اور ان سے محبت ہر مسلمان کے دل کا سرمایہ ہے۔”محرم کا پیغام فرقہ بندی نہیں، محبت، اتحاد اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔”