جدت کی راحتیں اور تباہ شدہ قدرتی ماحول

بیول سے پیدل گھر کی جانب آتے ہوئے میں نالہ کانسی پل سے گذرا تو پل کے نیچے بہنے والے گندلے پانی پر نظر پڑی اس میں پڑے گندگی کے ڈھیر دیکھے تو احساس ہوا کہ جدت اور ترقی نے ہمیں بہت سی سہولیات تو دی ہیں لیکن علاقے کے فطرتی حسن کو چھین لیا ہے۔میں کچھ دیر پل پر کھڑا رہا اور خیال ہی خیال میں اپنے بوڑھے قدموں سے چل کر بچین کی طرف گیا یعنی انجام کی جانب جاتے ہوئے آغاز کا رخ کیا ۔مجھے جدت کے اس دور عذاب سے قبل کے مناظر دکھائی دینے لگے ،یہ پل بھی نہ تھا۔اس کانسی کا پاٹ سیکڑوں فٹ پر محیط تھا۔جب بارش ہوتی تو پانی کے ریلے اپنی خوفناک گھن گرج کے ساتھ ایک عجب منظر پیش کیا کرتے۔بارش نہ ہوتی تو پانی کی یہ قدرتی گذر گاہ بہت خوبصورت ماحول پیش کرتی تھی ،گندگی سے پاک ماحول۔صاف وشفاف پانی اپنے اندر موجود چھوٹے بڑے پتھروں اور اٹکھیلیاں کرتی مچھلیوں کے نظاروں سے دل موہ لیا کرتا تھا۔

لیکن میں اس قدرتی ماحول کے بجائے جدت سے ہم آہنگی کیلئےپریشان تھا۔جدت نے میرے گھر پردستک دی تو میری بہو بیٹیوں اپنی ماوں اور ساسوں سے بچوں کو کپڑوں کے پوتڑوں میں لپیٹنے کا ہنر سیکھنے کے بجائے پیپمرز کے استعمال کا طریقہ اپنایا۔ترقی اور جدت نے میرے ہاتھ سے کپڑے کا تھیلا اورکھجور کے پتوں سے بنا چھکو چھین کر اشیاءخورونوش لانے کیلئےمیرے ہاتھ میں پلاسٹک بیگ (شاپر) تھما دیئے۔پیپمر اور شاپرز کو تلف کرنے کا کوئی طریقہ سمجھ نہیں آیاتو ان کو گلیوں،عام اور آبی گذرگاہوں میں پھیکنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔

تین دھائیاں پہلے تو ہمیں دیہاتوں میں کوڑے کے ڈھیر دکھائی نہیں پڑتے تھے جبکہ آج جگہ جگہ ہمیں گندگی سے بھرے پیپمر اور پلاسٹک بیگ کے ڈھیر نظر آتے ہیں ۔جدت آئی تو میں نے اپنے گھر میں ہی واش روم بھی بنا لیا جس کے پانی کی نکاسی کیلئےمیں نے فطرت کے تحت بہنے والے اس کانسی نالے کو ہی استعمال کیا۔یہ سوچے بغیر کہ اس سے نالے کی خوبصورتی اور اس میں موجود حشرات ختم ہوجائیں گے۔

میں نے اس نالے کے طول وعرض سے چن چن کر پتھر اٹھائے اور انہیں اپنے مفادات کے تحت کرش میں تبدیل کردیا۔میرا دل نہیں بھرا میں نے اس پل کے اردگرد قبضوں کاسلسلہ شروع کیااور آج پل کے نیچے پانی کی نکاسی کے لیے بنائے آدھے سے زیادہ دروازے میری ہوس کا شکار ہوکر بند ہوچکے ہیں۔میں نے اس پر ہی اکتفاءنہیں کیا۔ میں نے اپنے گھر کاکوڑا کرکٹ گندے پیمپر اور شاپر اس نالے میں ڈالنے کی عادت اپنا لی جس کے نتیجے میں قدرت کا یہ حسین شہکار ا س وقت گندے نالے کا منظر پیش کررہا ہے۔

اس سے اٹھنے والا تعفن فضاﺅں کو آلودہ کررہا ہے۔میری ہوس زر نے جہاں اس نالے کے سیکڑوں فٹ چوڑے پاٹ کوسکیڑ کر ایک نالی میں بدل دیا ہے وہیں میری لاپرواہی،بے حسی اور چشم پوشی نے اس نالی کو گندگی کاڈھیر بنا دیا ہے ۔اس کے باوجود میں اپنے کیے پر نادم نہیں کیوں؟یہ اہم سوال ہے جس کا جواب میری ڈھٹائی ہے میں بوجھل قدموں سے گھر کی جانب چلا جا رہا ہوں ۔سوچ رہا ہوں کہ میں نے اپنی نسلوں کی اس پیش قیمت امانت میں خیانت کرکے اپنے گناہوں میں مزید اضافہ کیوں کیا۔