
آج دنیا بھر میں مسلمانوں کی کثیر تعداد پریشان ہے کفار یہود ونصاریٰ کے ظلم وستم جبر وتشدد کا شکار ہے متحد ناہونےکی وجہ سے مظلومیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں پوری دنیا میں بےبسی کی تصویر بنےغم دکھ درد کی ناختم ہونے والی داستان سنانے پر مجبور ہیں جو مظلوم ہیں وہ تن تنہا ظالم قاتل اور وقت کے فرعونوں کا مقابلہ کررہے ہیں بالخصوص اس وقت مقبوضہ کشمیر ، فلسطین ودیگر ممالک میں مسلمان سر فہرست ہیں جبکہ دیگر ممالک کے خوشحال مسلمان اس تکلیف کو محسوس تک نہیں کرتے نا ہی وہ ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں
جن سے ان مظلوم مسلمانوں کی مدد ہو سکے انکی تکلیف و مصائب میں کمی آسکے نا ہی ایسی کوئی جدوجہد کرتے ہیں جس سےانکی زندگی میں خوشی راحت سکون واطمینان میسر ہو قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں دوسری جگہ ارشاد فرمایا اور تم کو کیا ہوگیا ہےکہ تم اللّٰہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے نکال کہیں اور لےجا اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی و مددگار مقرر فرما حضور نبی کریم رؤف الرحیمﷺ نے ارشاد فرمایا جب تمہارے بھائی تمہیں پکاریں تو انکی پکار پر لبیک کہو رسول اللّٰہﷺ نے مظلوم مسلمان کی مدد کرنے کا حکم دیاہے حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کرو حضرت عبدااللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہﷺ نے ارشاد فرمایا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے رسول اللہﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہےایک حدیث شریف میں ہے نبی کریم رؤف الرحیمﷺ نے ارشاد فرمایا باہمی محبت رحم وشفقت میں تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں
جب انسان کے کسی عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو تمام اعضاء بے چین وبےقرار ہو جاتے ہیں ایک حدیث شریف میں یہاں تک آتا ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نا اس پر زیادتی کرتا ہے نا ہی اسے دوسروں کے سپرد کرتا ہے جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی مصیبت دور کرتا ہے اللّہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکی مصیبتیں دور فرمائے گا ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان گھرانے کی تکلیف دور کرکہ انہیں خوشی دے تو اللّٰہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نا ہونگے
اس طرح کی دیگر احادیث مبارکہ بھی موجود ہیں جن میں مسلمان کی تکلیف دور کرنے پر اجروثواب جنت میں داخلہ دنیا وآخرت میں بہترین بدلہ اللہ کی رضا رسول اللّٰہ ﷺکی تعلیمات پر عمل کرکہ جنت کا حصول بغیر حساب وکتاب جنت میں داخلہ ممکن ہے آج ضرورت اس امر کی ہےکہ ہم اجتماعی طور پر دیکھیں کہ دنیا بھر میں اس وقت مسلمان مظلومیت کی زندگی گزار رہے ہیں ہم بحیثیت مسلمان انکے لئے کیا کر رہی ہیں کیا ہم ان کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں انکی مدد کرنے کے لئے کیا اقدامات اٹھا رہے ہیں انکی حقوق کی جدوجہد کےلئے کس قدر کوشش کررہے ہیں انکے لئے مالی طور پر کیا خدمات پیش کررہے ہیں کیونکہ اس وقت سرزمین انبیاء کرام علیہم السلام فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر جو قیامت سے قبل قیامت گزری وہ ایک ناقابل یقین المناک دردناک داستان ہے جسے چاہ کر بھی نا بھلایا جاسکتا ہے
اور ناہی اس حقیقت سے انکار کیاجاسکتاہے وہاں ظلم وستم جبر وتشدد کا ہر طریقہ آزمایا گیا وہاں پر آگ بارود کا ممنوعہ کھیل کھیلا گیا مسلمانوں کی جسم جلائے گئے خواتین بچے بوڑھے جوان سب کو نشانہ بنایا گیا جو مسلمان بچ گئے انہیں قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں خواتین اور کم سن بچوں کو بھی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا گھروں کو مسمار کردیاگیا ہسپتال کی عمارات کو بھی تباہ کردیاگیا مساجد ومدارس کو ختم کیاگیابچوں کو یتیم کردیاگیا خواتین کو بیوہ کردیا گیا بوڑھے باپ سے جوان بیٹے کا سہارا چھین لیا گیا اس ظلم وستم کے مقابلہ میں ان مسلمان بھائیوں کی مدد میں ان سے اظہار ہمدردی کے طور پر جیسا ردعمل آنا چاہیے تھا وہ نہیں آیا جس طرح ان مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو روکنے کی قوت مسلمانوں کو استعمال کرنی چاہیے تھی وہ نہیں کی اسکی بنیادی وجوہات دو طرح کی ہیں
ایک تو ہم اتفاق و اتحاد سے محروم ہیں انتشار کا شکار ہیں علمی عملی تکنیکی ٹیکنالوجی میں پیچھے ہیں اتفاق و اتحاد میں فقدان ہے نفس پرستی اور اخلاقی زوال میں آگے بڑھنے لگے حکمت عملی سے خالی ہیں اور دوسرا بھائی چارہ کی فضاء قائم کرنے سے محروم ہیں حضور نبی اکرم شفیع اعظمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قریب ہے تم پر دیگر اقوام ایسے ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے کے پیالے پر لوگ ٹوٹ پڑتے ہیں صحابی رسول سے عرض کی کہ اے اللہ کے رسولﷺ کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گئے فرمایا نہیں بلکہ تم کثرت سے ہو گئے لیکن سیلاب کی جھاگ کی مانند ہو گئے اللّٰہ تمہارا خوف دشمن کے سینے سے نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا
صحابی نے پوچھا اللہ کے رسولﷺ یہ وہن کیا ہے تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا کی محبت اور موت کا ڈر آج اگر ہم حالات کے جائزہ لیں تو یہ پیشگوئی مکمل ہوتی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کررہےاگر اس کے بعد بھی ہم اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر ہمیں بھی تیار رہنا چاہیے ہوسکتا ہے ہمیں بھی ان حالات سے گزرنا پڑ جائے جن حالات میں مسلمان اس وقت کشمکش کا شکار ہیں پھر سوائے پچھتاوے کے ہمیں کچھ حاصل نا ہوگا