
اسلام آباد کی فضاو¿ں میں اپریل 2026ءکے یہ دن ایک غیر معمولی تاریخی اہمیت اختیار کر چکے ہیں، جب محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سفارتکاری کے میدان میں ایک ایسا کردار ادا کیا جس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی، اور یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان آج ایک ذمہ دار، باوقار اور مو¿ثر “Global Peacemaker” کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے؛ امریکہ اور ایران جیسے دو بڑے اور بااثر ممالک کے درمیان کشیدگی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی تھی، مگر پاکستان نے نہایت دانشمندی، بردباری اور حکمت عملی کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے اس کشیدگی کو کم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا،
جس کے نتیجے میں 10 اور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نہ صرف کامیاب قرار پائے بلکہ ان کے نتیجے میں ایک عارضی جنگ بندی بھی ممکن ہوئی، یہ وہ لمحہ تھا جب پوری قوم نے فخر سے سر بلند کیا اور دنیا نے پاکستان کی سفارتی کامیابی کو سراہا؛ ان مذاکرات میں پاکستانی قیادت کے ساتھ ساتھ سید عاصم منیر جیسے مضبوط عسکری رہنما کی موجودگی نے پاکستان کے مو¿قف کو مزید مضبوط بنایا جبکہ اسحاق ڈار نے سفارتی محاذ پر اہم کردار ادا کیا، دوسری جانب امریکی وفد میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور بریڈ کوپر شامل تھے جبکہ ایرانی وفد کی نمائندگی محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور مجید تخت روانچی نے کی، یہ تمام شخصیات ایک ہی میز پر بیٹھیں اور پاکستان کی میزبانی میں امن کے لیے مذاکرات کیے،
جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب عالمی سطح پر ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے؛ اس تمام عمل کے دوران پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں اور عوام نے بھی مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جو کسی بھی ملک کے لیے ایک بڑی قوت ہوتی ہے، کیونکہ جب قوم متحد ہو تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی آسان ہو جاتا ہے، یہی وہ جذبہ ہے جو آج پاکستان کو دنیا میں ممتاز بنا رہا ہے؛ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر بجا طور پر اسے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے باعث فخر قرار دیا، کیونکہ ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے، اور آج عملی طور پر اس کا مظاہرہ بھی کر دکھایا ہے؛ عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت کو بے حد سراہا گیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، چین اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے پاکستان کے مثبت کردار کو خراج تحسین پیش کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں نہ صرف سنجیدہ بلکہ موثر بھی ہیں؛
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی بنیاد محمد علی جناح کے اس وژن پر رکھی گئی تھی جس میں اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، آج انہی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان دنیا کے سامنے ایک روشن مثال پیش کر رہا ہے، اسی طرح عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات نے بھی دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا، اور اب سفارتی میدان میں یہ نئی کامیابی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے؛ یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی امن مشنز میں بھی بھرپور کردار ادا کرتا رہا ہے، اور آج جب دنیا ایک بار پھر کسی بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی تھی تو پاکستان نے نہایت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے روکنے میں اپنا حصہ ڈالا، جو یقیناً ایک قابل فخر لمحہ ہے؛
اس موقع پر پوری قوم کو چاہیے کہ وہ اپنی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرے اور اس کامیابی کو نہ صرف سراہیں بلکہ اسے مزید آگے بڑھانے کے لیے دعاگو بھی رہیں، کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب قوموں کی تقدیر بدلتی ہے اور تاریخ کے صفحات پر نئے باب رقم ہوتے ہیں؛ بھارت میں اس پیش رفت پر جو ردعمل سامنے آ رہا ہے وہ بھی اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان کا بڑھتا ہوا عالمی کردار بعض حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے، مگر ہمیں اس سے متاثر ہونے کے بجائے اپنے مثبت کردار کو جاری رکھنا چاہیے اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ پاکستان امن، ترقی اور استحکام کا خواہاں ملک ہے؛
آج ہر پاکستانی کے دل سے یہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ ہمیں اپنے ملک پر فخر ہے، ہمیں اپنی افواج، اپنی قیادت اور اپنی قوم کی یکجہتی پر فخر ہے، اور ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اس کا وقار بلند کرے اور اسے ہمیشہ دنیا میں امن کا سفیر بنائے رکھے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری انسانیت کے لیے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔