
پاکستان کی سیاست سے شرافت، مروت اور مثالی وضع داری کا ایک روشن ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ہے، جنوبی پنجاب کے بے تاج بادشاہ، کھوسہ قبیلے کے 21 ویں تمندار اور پنجاب کے سابق گورنر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ 90 برس کی عمر میں لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں طویل علالت کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملے، جس کے بعد ان کی میت آبائی علاقے ڈیرہ غازی خان منتقل کی گئی تو ہر آنکھ اشکبار تھی اور ان کی نمازِ جنازہ میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں سوگواروں کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ ایک عظیم انسان اور مقبول عوامی لیڈر رخصت ہو چکا ہے۔ ان کی وفات سے جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایسا خالی پن پیدا ہوا ہے جسے بھرنا شاید آنے والی کئی دہائیوں تک ممکن نہ ہو سکے۔
کیونکہ سردار صاحب محض ایک فرد نہیں بلکہ سیاست میں اعلیٰ انسانی اقدار کی ایک بڑی علامت تھے، ان کی وفات پر آج سب سے پہلے وہ وقت یاد آتا ہے جب انہوں نے وفاداری اور مروّت کی نئی تاریخ رقم کی تھی، 12 اکتوبر 1999 کو جب میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور مسلم لیگ (ن) پر کڑا وقت آیا تو اس وقت سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے جس جرات کا مظاہرہ کیا وہ آج بھی سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے، جب شریف خاندان کے مرد قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے تھے اور جلاوطنی کے بادل منڈلا رہے تھے ۔
تو اس مشکل ترین گھڑی میں سردار صاحب نے مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر کی حیثیت سے نواز شریف اور شہباز شریف کی فیملی پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز مرحومہ کو “کھوسہ ہاؤس” بلا کر اپنی بہن بنایا اور ان کے سر پر سفید چادر اوڑھ کر بلوچی روایات کے مطابق تحفظ اور عزت کی وہ تاریخ رقم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ 20 اکتوبر 1935 کو پیدا ہونے والے سردار صاحب نے اپنی عملی سیاست کا آغاز محض 26 برس کی عمر میں 1962 میں کیا تھا اور وہ نو مرتبہ پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہو کر ایک ایسا انوکھا ریکارڈ قائم کر چکے تھے جو ان کی غیر معمولی عوامی مقبولیت اور سوجھ بوجھ کا پختہ ثبوت ہے، ان کی سیاسی زندگی ساٹھ سالوں پر پھیلی ہوئی ایک لمبی جدوجہد کی کہانی ہے۔
جس میں وہ پنجاب کے 31 ویں گورنر، سینیٹر اور مختلف ادوار میں اہم صوبائی وزارتوں کے عہدوں پر فائز رہ کر عوامی خدمت کے جذبے سے بھرپور رہے، اگرچہ 2012 کے بعد کچھ سیاسی اختلافات کی وجہ سے میاں نواز شریف کے ساتھ ان کے تعلقات میں کچھ دوری پیدا ہوئی لیکن ان کی شخصیت کا قد اتنا بڑا تھا کہ وہ ہمیشہ ایک محترم اور تجربہ کار رہنما کے طور پر ہی پہچانے جاتے رہے۔ وہ نہ صرف ایک ماہر سیاستدان تھے بلکہ بطور قبائلی سردار بھی انہوں نے اپنے قبیلے اور عوام میں وہ عزت پائی جو تاریخ میں بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔
ان کی شخصیت عاجزی، انکساری اور ہمدردی کا ایک ایسا بہترین نمونہ تھی جنہوں نے ڈیرہ غازی خان کے پچھڑے پن کو دور کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت لگا دی اور سینکڑوں بے روزگاروں کے لیے باعزت روزگار کا ذریعہ بنے، ان کی وفات سے پاکستان ایک ایسی مدبر شخصیت سے محروم ہو گیا ہے جس نے ملک کی سیاسی تاریخ کو اپنی آنکھوں سے بنتے دیکھا، سردار صاحب کی یادیں، ان کے اصول اور ان کی عظیم سیاسی خدمات ان کے بیٹوں حسام الدین کھوسہ، سیف الدین کھوسہ اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب دوست محمد کھوسہ سمیت ان کے تمام چاہنے والوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ رہیں گی، بلاشبہ ان کے انتقال سے سیاست کا ایک باوقار باب ختم ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے۔ آمین