اسلام آباد مذاکرات: پاکستان کا ابھرتا سفارتی کردار

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد جب دنیا ایک بڑے تصادم کے خدشات سے دوچار تھی، ایسے میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے ایک نئی امید کو جنم دیا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک ایسا موقع ہے جس کے ذریعے وہ عالمی سطح پر اپنے کردار کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ پاکستان کا بطور ثالث سامنے آنا اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں اس کی اہمیت کو ایک بار پھر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان نے کسی بین الاقوامی تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہومگر موجودہ حالات اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔ ایک طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی روابط موجود ہیں جبکہ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے دیرینہ سفارتی اور اسٹریٹجک تعلقات رہے ہیں۔ یہی توازن پاکستان کو ایک ایسا پل بناتا ہے جو دو متحارب قوتوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اسلام آباد میں مذاکرات کا انعقاد دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے نہ صرف ایک سفارتی کامیابی ہے بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اگر پاکستان اس موقع کو دانشمندی سے استعمال کرے تو وہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ اپنی داخلی معیشت کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس موقع کو صرف ایک وقتی کامیابی کے طور پر لے گا یا اسے ایک مستقل سفارتی حکمتِ عملی میں تبدیل کرے گا؟ اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو پاکستان کئی بار ایسے مواقع ضائع کر چکا ہے جہاں وہ اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا سکتا تھا۔ مگر اس بار حالات مختلف ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس موقع کو ایک جامع قومی پالیسی کے تحت استعمال کیا جائے۔
ٍ سب سے پہلے تو پاکستان کو اپنی سفارتی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے مستقل ثالثی کا کردار اپنانا ہوگا۔ اگر اسلام آباد واقعی خطے میں امن کا مرکز بننا چاہتا ہے تو اسے صرف ایک بار مذاکرات کروا کے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے بلکہ ایک مستقل ڈائیلاگ پلیٹ فارم قائم کرنا چاہیے جہاں مختلف علاقائی تنازعات کو حل کیا جا سکے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوگا بلکہ اسے ایک سفارتی حب کے طور پر بھی پہچان ملے گی۔
دوسرا اور سب سے اہم پہلو معاشی فائدہ اٹھانے کا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے توانائی کے عالمی نظام کو متاثر کیا ہے اور یہی وہ موقع ہے جہاں پاکستان اپنی توانائی پالیسی میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور موجودہ حالات میں وہ اپنا تیل مختلف راستوں سے فروخت کر رہا ہے۔ پاکستان اگر جرات مندانہ فیصلہ کرے تو ایران سے براہِ راست سستا تیل حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی سرحد موجود ہے، جہاں سے تیل کی ترسیل ممکن ہے۔ اس کے علاوہ بارٹر ٹریڈ (یعنی اشیاء کے بدلے اشیاء) کا نظام بھی اپنایا جا سکتا ہے جس کے ذریعے ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان ایران سے روپے یا اشیاء کے بدلے تیل خریدے تو نہ صرف اس کی درآمدی لاگت کم ہوگی بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بھی کم ہو گا۔یہاں ایک اہم پہلو آئی ایم ایف کا دباؤ بھی ہے۔ پاکستان اکثر اپنی معاشی پالیسیوں میں آئی ایم ایف کی شرائط کو مدنظر رکھتا ہے مگر موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ دنیا کے کئی ممالک پابندیوں کے باوجود اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی اگر ایک متوازن اور خود مختار پالیسی اپنائے تو وہ اس بحران کو ایک موقع میں بدل سکتا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بھی تلاش کرنے چاہئیں۔ جب کوئی ملک عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرتا ہے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھتا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کے بعد پاکستان کو چاہیے کہ وہ چین، خلیجی ممالک اور دیگر سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے کہ وہ ایک مستحکم اور اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے جہاں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبے، ریفائنریز، گیس پائپ لائنز اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ایسے شعبے ہیں جہاں فوری سرمایہ کاری لائی جا سکتی ہے۔ خاص طور پر ایران پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبے کو دوبارہ فعال کرنا اس وقت ایک بڑی معاشی کامیابی ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی داخلی پالیسیوں میں بھی اصلاحات لانا ہوں گی۔ صرف سفارتی کامیابی کافی نہیں ہوتی جب تک داخلی نظام مضبوط نہ ہو۔ شفافیت، سیاسی استحکام اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو عالمی سطح پر مضبوط بناتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اسلام آباد مذاکرات پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہیں۔ یہ موقع صرف سفارتی کامیابی تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے معاشی اور سیاسی انقلاب کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔ اگر پاکستان اس موقع کو دانشمندی، جرات اور دوراندیشی کے ساتھ استعمال کرے تو وہ نہ صرف خطے میں امن کا ضامن بن سکتا ہے بلکہ اپنی معیشت کو بھی ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔یہ وقت محض ثالثی کا نہیں بلکہ قیادت کا ہیاور اگر پاکستان نے یہ کردار سنبھال لیا تو شاید تاریخ اسے ایک نئے موڑ کے طور پر یاد رکھے گی۔

ضیاء الرحمن ضیاءؔ