معذور افراد قسط نمبر تین

تحریر ایس طاہرہ جمیل
03435980250
گزشتہ سے پیوستہ قسط نمبر 3
کھلی درخواست بنام سی ایم پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ ,
موضوع معزور افراد اور ان کے مسائل ،
مسئلہ نمبر 6 : معزور طلباء کے تعلیمی اخراجات میں رعایت”
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند معزور افراد اپنے تعلیمی اور سفری اخراجات میں رعایت نہ ہونے کے باعث تعلیم حاصل نہیں کر سکتے ، انکی معزوری بظاہر معمولی نوعیت کی ہوتی ہے لیکن محدود وسائل اور معزوری ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے ،وہ زہین و فطین اور باہمت و حوصلہ ہوتے ہوئے آ گے بڑھ کر اپنی اور اپنے گھر والوں کی خاطر اور وطن عزیز کی خاطر کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر یہاں پھر وہی مجبوریاں ،وسائل کی کمی،غربت اور سفری اخراجات ،سہولیات کا فقدان پاؤں کی زنجیر بن جاتا ہے اور ان کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں ، یہ طلباء جب کالج یا یونیورسٹی میں جاتے ہیں تو فیس،کتابیں،ہوسٹل کا کرایہ، روزانہ آ مدورفت یہ سب ان کے بس سے باہر ہوتا ہے اور اکثر طلباء پبلک ٹرانسپورٹ سے مستفید نہیں ہوسکتے اور مجبوراً ہوسٹل کی رہائش کا ہی آ پشن بچتا ہے اور ہوسٹل کے اخراجات وہ ادا کرنا انتہائی مشکل ،
نتیجہ کیا نکلتا ہے وہ اپنے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے شوق اور جنون کو چھوڑ دیتے ہیں مایوسی انکو گھیر لیتی ہے خواب چکناچور ہو جاتے ہیں ،اور اک حسرت اک کسک باقی رہ جاتی ہے کہ کاش میرے پاس بھی وسائل ہوتے اور مجھے اچھی تعلیم حاصل کر کے اپنے خواب پورے کرنے کا موقع مل پاتا،یہ انتہائ دردناک کیفیت ہوتی ہے اور انسان ڈپریشن کا مریض بن جاتا ہے ،میری گزارش ہے کہ پنجاب کورنمنٹ ایسے معزور طلباء کے لئے تعلیم یا تو بالکل مفت کرے یا معمولی فیس مقرر کرے ،انکے لئے تعلیمی فنڈ مختص کیا جائے جن کو سفر میں دشواری ہو انکے لئے ماہانہ سفری وظیفہ یا ہوسٹل میں قیام کو ممکن بنایا جائے تاکہ انکا آ نے والا کل سنور جائے ، آ پکا یہ اقدام نہ صرف معاشرے کو باصلاحیت اور باعزت شہری فراہم کرے گا بلکہ معاشرے کی ترقی میں ممدو معاون ثابت ہوگا،جو قوم اپنے معزور بچوں کو زیور تعلیم سے آ راستہ نہیں کر سکتی وہ خود پہ ترقی کے دروازے بند کر لیتی ہے.
مسئلہ نمبر 7:
معزور افراد کا سرکاری ملازمت میں تین فیصد کوٹہ:
پنجاب میں معزور افراد کا تین فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے مگر معزور افراد کو اس کوٹے پہ ملازمٹنہیں دی جاتی یا تو سیٹ خالی رہتی ہے یا معزور فرد کی بجائے نارمل انسان کو جاب دے دی جاتی ہے جو کہ معزور افراد کے ساتھ سراسر زیادتی ہے، پرائیویٹ اداروں میں تو اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے تعلیم یافتہ معزور نوجوان روزگار سے محروم ہیں ،اگر حکومت واقعی خود انحصاری چاہتی ہے تو اس کوٹہ پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ معزور افراد بھی معاشرے کی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکیں.
مسئلہ نمبر 8:
معزور ملازمین کی مستقل تقرری میں رکاوٹ :
پنجاب کے بیشتر سرکاری اداروں میں معزور افراد طویل عرصے سے عارضی بنیادوں پر ملازمت کر رہے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جسمانی کمزوریوں کے باوجود ہمت،عزم حوصلے اور دیانتداری سے سرکاری نظام کا بوجھ اپنے کندھوں پہ اٹھا رکھا ہے، انکی کارکردگی عام ملازم سے کسی طور کم نہیں ہوتی ،وہ بہت جانفشانی سے کام کرتے ہیں ،اس قدر محنت ، قربانی اور خدمت کے بدلے میں حکومت آ ج تک انکو مستقل تسلیم کرنے پہ تیار نہیں ہے ،یہ ملازمین ہر سال معاہدے کی تجدید کے عمل سے گزرتے ہیں ،نئ فائلوں, منظوریوں اور دستخطوں کے عمل سے گزرتے ہیں اور ہر بار اپنی عزت نفس کو سرکاری میز پر جھکانا پڑتا ہے،پھر بھی یہ ملازمین تمام تر ذلت, بے توقیری اور تھکن کے باوجود پوری ایمانداری سے ادا کر رہے ہیں ، انہوں نے ریاست سے وفا نبھائ ہے اور نبھا رہے ہیں انکی وفاداری سورج کی روشنی کی طرح عیاں ہے مگر ریاست انکے ساتھ وفاداری نہیں نبھا پا رہی،سب سے زیادہ افسوسناک مثال محکمہ ہیلتھ ویلفئیر پاپولیشن کی ہے،جہاں تقرری نامہ میں باقاعدہ یہ لکھا جاتا ہے کہ یہ ملازم مستقل نہیں ہو سکتا، یہ الفاظ نہ صرف ایک شخص کی توہین ہیں بلکہ پورے معزور طبقے کے منہ پر زوردار تمانچہ ہیں، یہ روش آ ئیں پاکستان کے آ رٹیکل 25 اور 27 کی صریح خلاف و رزی ہے، جو تمام شہریوں کو برابری اور روزگار میں امتیاز سے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، حکومت پنجاب سے التماس ہے کہ خدارا ان باوفا اور محنتی معزور ملازمین کو انکا جائز حق دے نہ صرف انکو مستقل کر کے ان کے ساتھ انصاف کیا جائے بلکہ یہ تسلیم بھی کیا جائے کہ معزوری کوئ جرم نہیں اور خدمت کبھی عارضی نہیں ہوتی .


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.