
صبح آنکھ کھلتے ہی ذمہ داریوں کا ایک طویل سلسلہ انسان کا منتظر ہوتا ہے۔ روزگار کی فکر، گھر کے اخراجات، مستقبل کے خواب، والدین کی ضروریات اور اہلِ خانہ کی خوشیاں۔۔۔ ان سب کے درمیان انسان دن بھر بھاگتا رہتا ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ سجائے، دل میں ہزاروں فکریں چھپائے، وہ زندگی کی دوڑ میں اس قدر مصروف ہو جاتا ہے کہ اسے خود اپنے لیے بھی وقت نہیں ملتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم زندگی گزار رہے ہیں یا صرف ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟
آج کا انسان بظاہر پہلے سے زیادہ کامیاب، مصروف اور سہولتوں سے آراستہ ہے، لیکن اس کے اندر ایک عجیب سی خالی پن کی کیفیت بڑھتی جا رہی ہے۔ گھروں میں کمرے تو روشن ہیں، مگر دلوں میں فاصلے ہیں۔ رابطے کے ذرائع بڑھ گئے ہیں، لیکن رابطوں میں خلوص کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم ایک دوسرے کی آن لائن موجودگی سے واقف ہیں، مگر ایک دوسرے کے اندر چلنے والی جنگوں سے بے خبر ہیں۔
خصوصاً مرد کی زندگی کو دیکھیے۔ معاشرہ بچپن ہی سے اسے یہ سبق دیتا ہے کہ مضبوط بنو، ذمہ دار بنو، اپنے خاندان کا سہارا بنو۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ آنسو کمزوری ہیں، پریشانی کا اظہار بے بسی ہے اور اپنے دکھ بیان کرنا مردانگی کے خلاف ہے۔ چنانچہ وہ آہستہ آہستہ اپنے جذبات چھپانا سیکھ لیتا ہے۔ وہ تھکا ہوا ہوتا ہے، مگر کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ وہ اندر سے پریشان ہوتا ہے، مگر گھر والوں کے سامنے مسکراتا ہے۔ وہ کبھی خود ٹوٹ رہا ہوتا ہے، مگر دوسروں کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔
مگر کیا مرد کا دل نہیں ہوتا؟ کیا اسے دکھ نہیں پہنچتا؟ کیا اسے کسی ایسے شخص کی ضرورت نہیں ہوتی جو اس کی خاموشی کو سمجھے، اس کی تھکن کو محسوس کرے اور بغیر کسی سوال کے اس کا حال پوچھ لے؟مرد کی خاموشی ہمیشہ اس کی مضبوطی کی علامت نہیں ہوتی؛ کبھی یہ ان ذمہ داریوں کا بوجھ ہوتی ہے جنہیں اٹھاتے اٹھاتے وہ اپنے جذبات کا اظہار کرنا بھول جاتا ہے۔
افسوس کہ ہم اکثر کسی انسان کی قدر اس وقت کرتے ہیں جب وہ ہماری ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ جب تک باپ کماتا ہے، اس کی محنت معمول سمجھی جاتی ہے۔ جب تک بھائی مدد کرتا ہے، اس کی قربانی فرض قرار پاتی ہے۔ جب تک شوہر خاندان کی ضروریات پوری کرتا رہتا ہے، اس کی تھکن کو معمولی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس ذمہ دار انسان کو بھی محبت، احترام، توجہ اور سکون کی ضرورت ہے۔
یہ حقیقت صرف مردوں تک محدود نہیں۔ خواتین، والدین، اساتذہ اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی اپنی ذمہ داریوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ ہر شخص اپنی جنگ لڑ رہا ہے، مگر دوسروں کی جنگ سمجھنے کے لیے ہمارے پاس وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم دوسروں سے بہترین رویے کی توقع رکھتے ہیں، لیکن خود ان کے لیے چند نرم الفاظ بھی مشکل سے نکالتے ہیں۔
رشتے ہمیشہ کسی بڑے جھگڑے یا تلخ کلامی سے نہیں ٹوٹتے۔ کبھی مسلسل نظرانداز کیے جانے سے، کبھی بے توجہی سے، کبھی احساسات کا مذاق اڑانے سے اور کبھی اس لیے کہ ایک شخص بار بار اپنے دل کی بات کہتا ہے، مگر دوسرا سننے کے باوجود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب شکایتیں ختم ہو جاتی ہیں، گفتگو کم ہو جاتی ہے اور خاموشی رشتے کی مستقل زبان بن جاتی ہے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ رشتہ قائم ہے تو سب کچھ ٹھیک ہے، حالانکہ بعض رشتے صرف نام کے باقی رہ جاتے ہیں۔ لوگ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں، ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں، لیکن ان کے درمیان جذباتی قربت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ بظاہر سب معمول کے مطابق ہوتا ہے، مگر دلوں کے درمیان ایک ایسی دیوار کھڑی ہو جاتی ہے جسے گرانے کے لیے صرف وقت نہیں، احساس بھی درکار ہوتا ہے۔
اس صورتِ حال کا حل زندگی کی مصروفیات ختم کرنا نہیں، بلکہ ان مصروفیات کے درمیان انسانوں کے لیے جگہ پیدا کرنا ہے۔ اپنے والدین کے پاس چند لمحے بیٹھنا، شریکِ حیات کی بات توجہ سے سننا، بچوں کو وقت دینا، کسی دوست کا حال پوچھنا اور گھر کے کسی تھکے ہوئے فرد کو یہ احساس دلانا کہ اس کی محنت دیکھی جا رہی ہے، بظاہر چھوٹے کام ہیں، مگر یہی کام رشتوں کو زندہ رکھتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر خاموش شخص بے حس نہیں ہوتا اور ہر مسکراتا چہرہ مطمئن نہیں ہوتا۔ کبھی ایک سادہ سا سوال، ’’آپ واقعی کیسے ہیں؟‘‘ کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کر سکتا ہے۔ کبھی کسی کی بات بغیر فیصلہ سنائے سن لینا اسے وہ سکون دے سکتا ہے جو طویل نصیحتیں بھی نہیں دے پاتیں۔
زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنا ضروری ہے، مگر یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس دوڑ میں ہمارے ساتھ چلنے والے لوگ ہم سے دور تو نہیں ہو رہے۔ دولت، عہدہ اور کامیابی زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں، لیکن محبت، احساس اور خلوص ہی اسے خوب صورت بناتے ہیں۔آخر میں سوال یہ نہیں کہ ہم نے زندگی میں کتنا کمایا، کتنی کامیابیاں حاصل کیں یا کتنے بڑے خواب پورے کیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان سب کے دوران ہم نے کتنے دلوں کو سکون دیا، کتنے رشتوں کو سنبھالا اور اپنے پیاروں کو کتنی بار یہ احساس دلایا کہ وہ ہمارے لیے اہم ہیں۔
کیونکہ زندگی صرف ذمہ داریاں نبھانے کا نام نہیں، رشتوں کو محسوس کرنے کا نام بھی ہے۔ گھر دیواروں سے بنتا ہے، مگر خاندان احساس سے بنتا ہے۔ اور اگر انسان سب کچھ حاصل کرکے بھی اپنے پیاروں سے دور ہو جائے تو شاید اس کی کامیابی مکمل نہیں ہوتی۔اس لیے وقت نکالیے، اپنے لوگوں کو سنیے، ان کے احساسات کی قدر کیجیے اور اپنی مصروف زندگی میں محبت کے لیے جگہ رکھیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ہمارے پاس وقت بھی ہو، فرصت بھی ہو، مگر وہ لوگ ہی ہمارے پاس نہ ہوں جن کے لیے ہم آج اتنی محنت کر رہے ہیں۔