محلے کا سٹیٹ بینک۔۔۔ ماسی کمیٹیاں والی

تحریر: ذوالفقار احمد زلفی

ہر محلے کی اپنی ایک دنیا ہوتی ہے۔ اس دنیا میں کوئی ڈاکٹر ہوتا ہے، کوئی استاد، کوئی دکاندار اور کوئی ایسا کردار بھی ضرور ہوتا ہے جس کے بغیر محلے کی معاشرتی زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ یہ کردار بظاہر معمولی ہوتے ہیں، مگر ان کے گرد زندگی کے بڑے بڑے معاملات گھومتے ہیں۔ انہی کرداروں میں ایک کردار ’’ماسی کمیٹیاں والی‘‘ کا بھی ہے، جسے اگر محلے کا اسٹیٹ بینک کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کرنسی چھاپتا ہے اور ماسی کمیٹیاں والی لوگوں کی امیدوں، ضرورتوں اور مجبوریوں کو قسطوں میں جمع کرتی ہے۔


ماسی کمیٹیاں والی کا اصل دفتر کسی شاندار عمارت میں نہیں ہوتا۔ نہ اس کے پاس شیشے کی دیواروں والا دفتر ہوتا ہے، نہ باہر کوئی بورڈ آویزاں ہوتا ہے اور نہ ہی دروازے پر کوئی محافظ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کا دفتر کبھی گھر کا صحن ہوتا ہے، کبھی باورچی خانے کا ایک کونا اور کبھی گلی میں کھڑی چار عورتوں کی محفل۔ اس کے پاس نہ کمپیوٹرائزڈ نظام ہوتا ہے، نہ جدید بینکنگ ایپلی کیشن، مگر اسے اکثر یاد ہوتا ہے کہ کس نے کتنی قسط جمع کروائی، کس کی باری کب آنی ہے اور کس نے پچھلے مہینے رقم دیتے وقت کون سا عذر پیش کیا تھا۔


اس کے رجسٹر میں صرف اعداد درج نہیں ہوتے، بلکہ محلے کے کئی گھروں کی کہانیاں بھی پوشیدہ ہوتی ہیں۔ کسی گھر میں بیٹی کی شادی ہے، کسی کے بچے کی اسکول فیس ادا کرنی ہے، کسی نے عید پر بچوں کے لیے کپڑے خریدنے ہیں اور کسی کے گھر میں اچانک بیماری نے دستک دے دی ہے۔ کوئی فریج خریدنے کا خواب دیکھ رہا ہے، کسی کو سلائی مشین لینی ہے اور کوئی چاہتا ہے کہ برسوں سے ٹوٹے ہوئے فرنیچر کی جگہ نیا سامان آ جائے۔ ان سب کے خوابوں کے درمیان ماسی کمیٹیاں والی ایک ایسا پل بن جاتی ہے جو آج کی محدود آمدنی کو آنے والے کل کی ضرورت سے جوڑ دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں تنخواہ دار اور محدود آمدنی والے طبقے کے لیے بچت کرنا آسان نہیں۔ مہینے کی پہلی تاریخ کو جیب میں آنے والی تنخواہ بجلی، گیس، بچوں کی فیس، راشن، کرایے اور دیگر اخراجات کی نذر ہوتے ہوتے اکثر مہینے کے اختتام سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔ ایسے میں بینک سے قرض لینا ہر شخص کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ کسی کے پاس ضمانت نہیں، کسی کی آمدنی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتی اور کوئی سودی قرض سے بچنا چاہتا ہے۔ ایسے حالات میں محلے کی کمیٹی ایک غیر رسمی مالی نظام بن کر سامنے آتی ہے، جہاں لوگ اپنی استطاعت کے مطابق ہر ماہ کچھ رقم جمع کرتے ہیں اور مقررہ وقت پر ایک بڑی رقم حاصل کر لیتے ہیں۔


یہاں ماسی کمیٹیاں والی کی اہمیت محض رقم جمع کرنے تک محدود نہیں رہتی۔ وہ لوگوں کو باقاعدگی سے بچت کرنے کی عادت ڈالتی ہے۔ جس رقم کو گھر کے روزمرہ اخراجات میں خرچ کر دینے کا امکان ہوتا ہے، وہ کمیٹی کی قسط بن کر محفوظ ہو جاتی ہے۔ یوں وہ عورت، جسے شاید معاشی ماہرین کی اصطلاحات سے کوئی واقفیت نہ ہو، عملی طور پر اپنے محلے میں بچت اور مالی تعاون کا ایک نظام چلا رہی ہوتی ہے۔


لیکن زندگی کی ہر خوب صورت تصویر کے کچھ دھندلے گوشے بھی ہوتے ہیں۔ کمیٹی کا نظام اعتماد پر قائم ہوتا ہے، اور اعتماد کی عمارت جب تک مضبوط ہو، سب کچھ خوش اسلوبی سے چلتا رہتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی قسط دینے میں تاخیر کرتا ہے، کوئی اپنی باری پہلے لینے کے لیے اصرار کرتا ہے یا کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ دوسروں کی جمع شدہ رقم سے اپنا فائدہ حاصل کر لیا جائے۔ بعض اوقات کمیٹی چلانے والی خود بھی مالی دباؤ، بدانتظامی یا بددیانتی کا شکار ہو سکتی ہے۔ رقم پھنس جائے تو صرف پیسے نہیں رکتے، کئی گھروں کے منصوبے بھی رک جاتے ہیں۔


ماسی کمیٹیاں والی کے کردار کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے پاس محلے کی عورتوں کی معاشی کیفیت کے ساتھ ساتھ ان کے گھریلو حالات کی معلومات بھی جمع ہوتی رہتی ہیں۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کس گھر میں خوشی آنے والی ہے، کس گھر میں پریشانی ہے، کس کی آمدنی کم ہو گئی ہے اور کون بظاہر آسودہ حال ہونے کے باوجود مالی مشکلات میں مبتلا ہے۔ کبھی یہ معلومات ہمدردی اور مدد کا ذریعہ بنتی ہیں اور کبھی، اگر احتیاط نہ کی جائے، تو دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت یا چہ میگوئیوں کا سبب بن جاتی ہیں۔ یوں کمیٹی کا رجسٹر بعض اوقات پیسوں کے حساب سے آگے بڑھ کر انسانی رویّوں کا غیر رسمی ریکارڈ بھی بن جاتا ہے۔


معاشرے کی ترقی کا پیمانہ صرف بلند عمارتیں، بڑی سڑکیں اور جدید بینک نہیں ہوتے۔ اصل ترقی یہ ہے کہ عام آدمی کی آمدنی اس کی بنیادی ضروریات کے لیے کافی ہو، اسے محفوظ طریقے سے بچت کرنے کے مواقع میسر ہوں اور مالی ضرورت کے وقت اسے کسی کے سامنے اپنی مجبوری بیان کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ جب تک یہ سہولتیں عام انسان کی دسترس میں نہیں آتیں، محلے کا اسٹیٹ بینک اپنا کام کرتا رہے گا۔


ماسی کمیٹیاں والی بظاہر ایک عام عورت ہے، مگر اس کے گرد گھومتی کہانیاں ہمارے معاشرے کی معاشی حقیقتوں، طبقاتی فرق، باہمی اعتماد اور انسانی مجبوریوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ اس کے ہاتھ میں موجود رجسٹر میں درج ہر قسط ایک سوال اٹھاتی ہے: کیا انسان اپنی محنت کی کمائی سے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی مواقع رکھتا ہے، یا اسے اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے دوسروں کی باری، اعتماد اور تعاون کا انتظار کرنا پڑتا ہے؟


اور شاید یہی اس کردار کی اصل معنویت ہے کہ محلے کا یہ چھوٹا سا مالی مرکز ہمیں ایک بڑے معاشرتی مسئلے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی عمارت دور کہیں واقع ہو سکتی ہے، لیکن ماسی کمیٹیاں والی ہر گلی میں موجود ہے؛ کیونکہ ہمارے ہاں خواب بڑے نہیں، اکثر ضروریات ہی اتنی بڑی ہو جاتی ہیں کہ انہیں پورا کرنے کے لیے پوری بستی کو مل کر قسطیں ڈالنی پڑتی ہیں۔