
علامہ محمد اقبال برصغیر کے وہ عظیم شاعر، فلسفی اور مفکر ہیں جن کے افکار نے نوجوان نسل میں شعور، خودی اور عمل کی روح بیدار کی۔ ان کا کلام جہاں زندگی کے مختلف شعبوں کی ترجمانی کرتا ہے وہیں طلبہ کی شخصیت سازی، کردار سازی اور فکری تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اقبالؒ کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے جو نوجوانوں کو بلند حوصلہ، خود اعتمادی اور علم کی روشنی عطا کرتا ہے۔
ادبی دنیا میں اقبالؒ کا کلام ایک عظیم دولت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی شاعری دلوں میں ولولہ، امید اور حرکت پیدا کرتی ہے۔ طلبہ چونکہ کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، اس لیے اقبالؒ نے اپنی شاعری میں نوجوان نسل کو خصوصی اہمیت دی۔ ان کی مشہور کتب بانگِ درا، ضربِ کلیم، زبورِ عجم، پیامِ مشرق اور جاوید نامہ کا مطالعہ نوجوانوں کے لیے فکری روشنی کا ذریعہ بنتا ہے۔
اقبالؒ کے کلام میں “خودی”، “عمل” اور “بلند نظری” کا درس نمایاں طور پر موجود ہے۔ ان کی نظم “طلبہ علی گڑھ کالج کے نام” اور شاہین کے تصور پر مبنی اشعار نوجوانوں کے لیے ایک عظیم پیغام رکھتے ہیں۔ اقبالؒ نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دیتے ہوئے انہیں بلند پروازی، جرات اور خود داری کا سبق دیتے ہیں۔
بقول اقبالؒ:
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں ہے
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں
یہ اشعار طلبہ کو محض کتابی علم تک محدود رہنے کے بجائے عملی زندگی میں آگے بڑھنے کا درس دیتے ہیں۔ اقبالؒ چاہتے تھے کہ نوجوان صرف تعلیم حاصل نہ کریں بلکہ علم کو کردار، تحقیق اور عمل کے ساتھ جوڑیں۔
اسی طرح شاہین کا استعارہ نوجوانوں میں بلند حوصلگی پیدا کرتا ہے:
تو شاہین ہے، پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اور ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
یہ اشعار نوجوانوں کو آرام پسندی سے نکال کر جدوجہد، محنت اور خود انحصاری کی طرف مائل کرتے ہیں۔ اقبالؒ کے نزدیک کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو بلند خواب رکھتے ہیں اور مسلسل محنت کرتے ہیں۔
بچوں کے لیے لکھی گئی نظمیں جیسے ایک گائے اور بکری، مکڑا اور مکھی اور جگنو نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ اخلاقی تربیت اور اچھے کردار کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔ ان نظموں میں سادگی، سبق آموزی اور انسان دوستی کا پیغام پوشیدہ ہے۔
طلبہ کو تعلیم کی رغبت اور دعا کی اہمیت کا درس دیتے ہوئے اقبالؒ کی مشہور دعا آج بھی ہر بچے کی زبان پر ہے:
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
حقیقت یہ ہے کہ اقبالؒ کی شاعری نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کا پیغام آج بھی اسی طرح زندہ اور روشن ہے جیسے ماضی میں تھا۔ اگر طلبہ اقبالؒ کے افکار کو سمجھ کر اپنی زندگی کا حصہ بنالیں تو وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو سنوار سکتے ہیں بلکہ قوم و ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اقبالؒ کا کلام نوجوانوں کو خواب دیکھنے، خودی پہچاننے اور منزل کی جانب بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے، اور یہی ان کی شاعری کا سب سے بڑا حسن ہے۔