شیخ سعدی کی حکایت میں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ شکار کے لیے نکلا۔ وہ جنگل سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک درویش پر پڑی جو اپنے حال میں مست بیٹھا تھا۔ بادشاہ اس درویش کے قریب سے گزرا لیکن اس نے آنکھ اٹھا کر بھی اس کی طرف نہ دیکھا اور یہ بات بادشاہ کو بہت ناگوار گزری۔بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ یہ بھک منگے بھی بالکل جانوروں کی طرح ہوتے ہیں کہ انھیں معمولی ادب آداب کا بھی خیال نہیں ہوتا۔بادشاہ کی ناگواری کا اندازہ کر کے وزیر اس درویش کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ بابا جی، ملک کا بادشاہ آپ کے قریب سے گزرا اور آپ نے اتنا بھی نہیں کیا کہ اپنی عقیدت اور نیاز مندی ظاہر کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے اور ادب سےسلام کرتے؟درویش نے بے پروائی سے جواب دیا، اپنے بادشاہ سے کہو کہ ادب آداب کا خیال رکھنے کی امید ان لوگوں سے کرے جنھیں اس سے انعام حاصل کرنے کا لالچ ہو۔ اس کے علاوہ اسے یہ بات بھی اچھی طرح سمجھا دو کہ ہم جیسے درویشوں کا کام بادشاہ کا خیال رکھنا نہیں بلکہ بادشاہ کا یہ فرض ہے کہ وہ ہماری حفاظت کرے۔ تُو نے سنا نہیں بھیڑیں گڈریے کی حفاظت نہیں کرتیں بلکہ گڈریا بھیڑوں کی حفاظت کرتا ہے۔ یاد رکھ! بادشاہی بھی ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں۔ موت کے بعد بادشاہ اور فقیر برابر ہو جاتے ہیں۔ اگر تُو قبر کھول کر دیکھے تو یہ بات معلوم نہ کرسکے گا کہ یہ شخص جس کی کھوپڑی کو مٹی نے کھا لیا ہے۔ زند گی میں کس مرتبے اور شان کا مالک تھا۔
اہم خبریں
اسلام آباد میں غیرملکی وفود کی آمد کے موقع پر ڈیوٹی سے غائب پولیس اہلکاروں کیخلاف سخت ایکشن، 2 اے ایس آئی سمیت 12 اہلکاروں کو نوکری سے فارغ کردیا گیا۔
مون سون بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ اور کوٹلی ستیاں کے نظر انداز متاثرین
اسسٹنٹ کمشنر کلرسیداں سیدہ زینب حسین کی پریس کانفرنس
شہید گر وپ کیپٹنعاصم طارق مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
محکمہ موسمیات کا ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری.
ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کا آغاز 4 جولائی سے 9 جولائی تک جاری رہنے کا اعلان
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
اسلام آباد میں پولیس اہلکار بن کر پمز اسپتال آنے والوں کو لوٹنے والے گرفتار
سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف تھانہ صادق آباد 26 نومبر احتجاج کا مقدمہ آخری مرحلے میں داخل
جموں 6 میں تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے بعد عبدالخطیب چودھری کی حمایت میں اضافہ.