پروفیسر محمد حسین
دانا حکمران جب اپنے ملکوں کو ترقی کی شاہراہ پر کا میا ب سفر کی منزلیں طے کروارہے ہوتے ہیں تو اُن کا رویہ حیرت انگیز طور پر یکساں ہوتا ہے۔ کوئی ایشائی ملک آگے بڑھ رہا ہے یا کو ئی مغربی ملک ترقی کے زینہ پر قدم رکھ رہا ہو ایک دوسرے سے حد درجہ مختلف رہنما ایک نکتہ پر سختی سے عمل کر تے نظر آتے ہیں وہ یہ کہ کبھی بھی تنازعہ میں پڑکر جنگ کی طرف ہر گز نہیں جا تے‘ اپنی قوم کو تنا زعت میں پڑنے نہیں دیتے‘ امن کی وہ فضا پیداکرتے ہیں جس میں اُن کے لوگ بڑے سکون سے ترقی کے مواقع تراشتے ہیں‘ خوشحالی کی طرف جا تے ہیں اسی عمل میں اپنے ملک کو امیر اور ترقی یا فتہ بنا دیتے ہیں۔ چُپ کا روزہ اس وقت کھولتے ہیں جب دنیا میں اُن کی طاقتور پہچان بن چکی ہو تی ہے۔
یا د رکھئے کہ آگے نکلنے والے ملکو ں کے اند ر کو ئی بھی نظام ہو وہ کو ئی رکا وٹ نہیں بن سکتا۔جمہوریت‘انسانی حقوق‘ قانون کی حکمرانی اور آزادی اظہار بھی کسی ریا ست میں تعمیر وترقی کے ضامن نہیں ہو تے‘خوش نما الفاظ کسی بھی نظام کو بہتر نہیں بنا تے بلکہ محدود چند لو گوں کے سماجی اور مالی استحکام کے نشان ہو تے ہیں۔ ہمیں تو صرف یہی بتایا جا تا ہے کہ اگر جمہوریت انسانی حقوق اور اس طرح کے خوشنما پرندے کسی بھی ملک کے سر پر بیٹھ جا ئیں تو سمجھ لیجئے کہ اُس قوم کے دن پھر گئے اور وہ قوم کا میاب ہو گئی لیکن یہ کلیہ سب ملکوں کے لئے درست نہیں ہے اسی طرح اس امر کی بھی کو ئی ضمانت نہیں اگر کسی قوم میں غیر جمہوری معاملات پنپ رہے ہو ں تو وہ کا میاب وکا مران گردالی جا ئے گی ہر گز نہیں افریقہ کے اکثرامیر ممالک ایک ظالمانہ نظام کا شکا ر ہیں غریب ہیں کیونکہ اشرافیہ عام لوگوں کا خون چوس رہی ہے۔

ظلم کو وہاں دوام حاصل ہے‘ غور سے معاملات کو پرکھئے دراصل ملکی ترقی کا کوئی ایک یکساں فارمولا نہیں ہے۔ چین کی مثال لیجئے یہاں جمہوریت نام کی چڑیا پر نہیں ما ر سکتی آزادی اظہا ر کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ انسانی حقوق یا قانون کی حکمرانی کا کو ئی وجود ہی نہیں ہے پھر بھی دنیا کی دوسری مضبوط ترین معیشت میں اس کا شما ر کیا جا تا ہے۔ جی ڈی پی انیس ٹریلین ڈالر کی ہے چین جب پوری دنیا میں ہر چیز بنانے لگا تو وہاں کی حکومت کی دانشمندی کی بدولت کر ہ ارض کے تمام سرمایہ دار کا روبار وہاں منتقل ہو گئے۔ میلوں لمبی فیکٹریاں لگنی شروع ہو گئیں دولت کی خیرہ کن ریل پیل نظر آنے لگی‘ انفراسٹریکچر کے وہ وہ کا رنامے سامنے آنے لگے کہ پوری دنیا حیران وششدرہ گئی‘
مگر رک جائیے کیا ملکی دولت ایک مضبوط دفاع میں معاون نہیں بنی‘ضرور بنی۔ آج چین امریکہ کے بعد دوسری عظیم ترین عسکری طاقت ہے اب مزید غور کیجئے چین کسی بھی جگہ کسی صورت میں کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بنتا اپنی فوجی طاقت کو اُس نے کبھی بھی استعمال نہیں کیا تائیوان سے چین کا شدید جھگڑا ہے مگر چینی صدر نے آج تک تا ئیوان کو فتح کر نے کی کو ئی بات نہیں کی‘ جوہری نکتہ یہ ہے چین کبھی بھی اپنی بے مثال ترقی کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنا نہیں چاہتا۔ یہ حد درجہ اہم بات ہے کا میا ب لیڈر ہمیشہ جنگ سے اجتناب کر تے ہیں اب ذرا جر منی کی طر ف آئیے یکے بعد دیگرے اس ملک میں ایسے حکمران آتے رہے جنہوں نے حد درجہ عظیم نعروں کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ان رہنماؤں نے جوعوام کو سبز باغ دکھائے کہ انہیں یقین ہو گیا کہ وہ دنیا کے منفرد اور عظیم ترین لوگ ہیں۔ اُن کا حق ہے کہ دنیا پر حکومت کر یں قیصرولیم دوم اور ہٹلر کی تقاریر اُٹھا کر دیکھیں پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے ان سفاک رہنماؤں نے جرمن عوام کو جذبا تیت کے خونی سمندر میں پھینک دیا۔ غیر حقیقی پا لیسیوں کا نتیجہ کیا نکلاجر منی دو مر تبہ خاک اور خون کا ڈھیر بن گیا۔
دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر اپنے بنکر میں چھپ کر مر تے دم تک تقریر کر رہا تھا جر من قوم کو جھوٹا یقین دلا
رہا تھا کہ وہ جنگ جیت چکے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم سے لے کر آج تک جر من چانسلر نے جنگ کا لفظ استعمال نہیں کیا اب وہ ایک مکمل اور با ضابطہ جمہوریت ہے جنہوں نے صنعتی ترقی پر توجہ آج جر منی دنیا کی تیسری اقتصادی قوت ہے۔یورپ میں پہلے نمبر پر ہے جی ڈی پی کا حجم پانچ ٹریلین ڈالر ہے لوگوں کا معیار زندگی دیکھا جا ئے تو اُن کے معاملات دیکھ کر رشک آتا ہے جر منی اب ایک فلاخی ریاست ہے‘ مضبوط عسکری قوت ہونے کے باوجود جر منی دنیا میں کسی تنازعہ کا حصہ نہیں بنتا‘ ‘
عرض کر نے کا مقصد یہ ہے کہ جو ممالک اپنے عوام کی ترقی پر نگاہ رکھتے ہیں وہ کبھی بھی اپنے نظام کو امتحان میں نہیں ڈالتے اب ایک اور زاویے سے بھی معاملہ کو دیکھئے دنیا میں جو بھی سپر پاور بنی ہے وہ کبھی بھی امن سے رہ نہیں سکتی اس کے مزاج میں ہو تا ہے کہ کمزور ملکوں کو جُوتے کی نوک پر کھے وہاں اپنی مر ضی کی حکمران لائے اپنا تسلط بڑھائے پوری دنیا پر اُس کی حکمرانی ہو اس طرز عمل میں کسی بھی بین الاقوامی طاقت میں رتی بھر ترقی نہیں ہے۔ رومن ایمپائر مسلمان حکومتیں روس کے زاول اب امریکہ کے سرخیل مکمل طور پر یکساں باتیں اور حرکتیں کر رہے ہیں۔
ماضی اور حال میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے اس کا نتیجہ بھی بالکل یکساں نکلتاہے یہ بین الاقوامی قوت چند صدیوں کے بعدزوال پذیر ہو جا تی ہیں جنگیں ان کے خزانے خالی کر ڈالتی ہیں۔عوام میں حکومتی فیصلوں پر عدم اعتماد پختہ ہو جا تا ہے اور پھر ریا ستیں قصہ پارینہ بن جا تی ہیں۔
امریکہ بھی اسی مرحلہ سے گزر رہا ہے اس کا سپر پاور پر قرار رہنا اب نا ممکن ہو چکا ہے دنیا میں دیگر مضبوط قوتیں اُبھر کر سامنے آرہی ہیں۔ قدرت کا ہم گر فیصلہ دیوار پر رکھنا ہو ا صاف نظر آرہا ہے۔ ان تمام معاملات پر گہری نظر ڈالتے ہو ئے اب ارض پاکستان پر غور کیجئے وہ تما م عوامل جو کسی بھی قوم کو ترقی سے روکتے ہیں طاقتور جنات کی طرح ہم پر حاوی ہو چکے ہیں اپنے ملک کے متعلق کو ئی منفی بات نہیں کر نا چاہتا کیو ں کہ ہم کو اس مٹی سے عشق ہے ذرا سوچئے نہ ہم جمہوری ملک ہیں اور نہ ہم اپنے آپ کو غیر جمہوری گردانتے ہیں‘ہمارا پورا نظام ہی فریب جھوٹ اور نعروں پر مبنی ہے لو گوں کی اکژیت ان تمام ادنیٰ معاملات کو سچ سمجھ رہی ہے تھوڑی دیر کے لئے سب کچھ فراموش کر دیجئے مگر یہ تو دیکھئے کہ جو حکمران گذشتہ سات دہائیوں سے ہمارے مکمل وسائل پر قابض ہیں کیا واقعی عوام کی اور عام آدمی بنیادی سہولتوں کے لئے سسک رہا ہے غیر متوازن سوچ کی وجہ سے حکمران طبقات عوامی معاملات کو حل کر نے کی اہلیت کھو بیٹھے
بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے حکمران عوامی معاملات کو حل کرنا ہی نہیں چاہتے لہٰذا ایک مصنوعی نظام حکومت ہے جس میں چند خاندان تما م وسائل پر قا بض چلے آرہے ہیں چلئے۔
اس کو بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے اگر یہ تما م فیصلے عوام کی فلاح وبہود اور صنعتی ترقی کے لئے مختص کر تے رہتے مگر یہ ہو نہیں سکا اور ہو گا بھی نہیں لہٰذا توجہ ہٹانے کے لئے با لکل سادہ سا حل نکا لا گیا ہے ملک کو اتنا غیر مستحکم بنا یا جا ئے کہ لوگ مجبوری میں ان طبقات کو مسیحا تسلیم کر لیں بد قسمتی سے یہاں ہی کچھ ہو رہا ہے تین ملٹی نیشنل کمپنیاں پا کستان چھوڑکر جا چکی ہیں گذشتہ چند پر سوں میں لا کھوں پا کستانی اپنے سرمایہ اور علم سمیت ہجرت کر چکے ہیں قر ضے لینے کے وہ ریکا رڈ قائم کر دئے گئے ہیں کہ سن کر خوف آتا ہے آئی ایم ایف ہی اقتصادی اعدادوشمار پر وقطعاََ یقین کر نے کے لئے تیا ر نہیں
مگر ہم نے ان تما م مسائل کا غیر دانشمندانہ حل تلاش کر لیا ہے پو را نظام لڑائی پر استور ہے لو گو ں کو ہمیشہ باور کر ایا گیا کہ ملکی سلامتی خطرے میں ہے مگر یہ پو چھنے کی اجا زت نہیں کہ قومی سلامتی پا لیسی تو ستر برس سے آپ کے ہا تھوں میں ہے اگر معاملات خراب ہیں تو اس کی وجہ عوام نہیں بلکہ حکمرانوں کی خوفنا ک پا لیسیا ں تھیں مگر اب کو ئی بھی ذمہ داری لینے کے لئے تیا ر نہیں ہر کو ئی اپنا بو جھ
دوسرے پر ڈالنے کی کو شش کر رہا ہے دلیل پر با ت کر نے والوں کو ختم کر دیا گیا ہے اندرونی خلفشار کو بھی حکمران خود ہو ا دیتے ہیں اب تو ہر چیز سب کے سامنے آچکی ہے ان مسائل کے حل کی طرف آئیے حل بہت سادہ سا ہے ہمیں یہ ملکوں سے پا ئیدار امن قائم کیجئے طرز حکمرانی میں بنیادی تبدیلی لا ئی جا ئے کسی طرح کی لڑائی سے اجتناب کیا جا ئے کیونکہ جنگوں سے کبھی کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا صر ف امن ہی ترقی کی دلیل ہے