راولپنڈی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس جواد حسن نے 5 مرلہ اور اس سے کم پراپرٹی پر عائد ٹیکس کے خلاف دائر پٹیشن سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے طارق محمود بھٹی نے نزاکت حسین ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر پٹیشن میں پنجاب حکومت، چیف سیکریٹری پنجاب، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اور ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن راولپنڈی کو فریق بنایا تھا گزشتہ روز ابتدائی سماعت کے موقع پر درخواست گزار اور اس کا وکیل عدالت میں موجود تھے دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کس حیثیت میں یہ پٹیشن دائر کر رہا ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 5 مرلے اور اس سے کم کی تمام پراپرٹیز ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں جبکہ 5 مرلے کے مکان
پر 3 لاکھ سے زائد کا ٹیکس عائد کیا گیا ہے اس موقع پر سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ یہ پٹیشن قابل سماعت نہیں لہٰذا جرمانے کے ساتھ خارج کی جائے جس پر عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ پٹیشنز کے وکیل کو جانتے ہیں تو سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ یہ پی آئی اے کے خلاف پٹیشن دائر کرنے والے وکیل ہیں تاہم عدالت نے پٹیشن سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے 5 مرلہ
اور اس سے کم پراپرٹی پر عائد ٹیکس کے خلاف دائر پٹیشن پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا پٹیشن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے 5 مرلہ ٹیکس کو بلاجواز بنیادی انسانی حقوق اور پراپرٹی قوانین سے متصادم قرار دیا گیا ہے پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ عجلت میں نافذ کئے گئے اس بلاجواز ٹیکس کو فوری واپس لینے کے احکامات جاری کئے جائیں