کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں؟

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر نئے صوبوں کے قیام کی بات زور پکڑ رہی ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے یہ مطالبات سامنے آتے رہے ہیں کہ موجودہ صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرکے نئے صوبے قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو بہتر حکومتی سہولیات میسر آسکیں، پسماندہ علاقوں کی ترقی ہوسکے اور لوگوں کے مسائل ان کے اپنے علاقوں میں حل کیے جائیں۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ سمیت مختلف علاقوں میں الگ صوبے کے مطالبات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں اور وقتاً فوقتاً یہ بحث دوبارہ قومی سیاست کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟ کیا نئے صوبے بننے سے عوام کے مسائل حل ہوجائیں گے یا اس کے نتیجے میں ملک کے انتظامی اور معاشی مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں؟

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف علاقوں کی جغرافیائی، معاشی اور انتظامی صورتحال ایک دوسرے سے کافی مختلف ہے۔ کسی علاقے میں آبادی بہت زیادہ ہے تو کہیں رقبہ بہت وسیع ہے۔ کہیں بڑے شہر موجود ہیں تو کہیں دور دراز دیہی علاقے ہیں جہاں بنیادی سہولیات بھی آسانی سے دستیاب نہیں۔ ایسے حالات میں ایک ہی صوبائی حکومت کے لیے ہر علاقے کی ضروریات کو یکساں طور پر سمجھنا اور پورا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علاقوں کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مسائل صوبائی دارالحکومت تک پہنچتے پہنچتے نظر انداز ہوجاتے ہیں اور ترقی کے ثمرات ان تک مناسب انداز میں نہیں پہنچ پاتے۔

نئے صوبوں کے حق میں سب سے بڑی دلیل انتظامی سہولت ہے۔ جب کسی صوبے کی آبادی بہت زیادہ ہوجائے اور اس کا رقبہ بھی وسیع ہو تو حکومت کے لیے ہر ضلع اور ہر علاقے پر یکساں توجہ دینا مشکل ہوسکتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت سے دور رہنے والے علاقوں کے شہری اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے مسائل پر اتنی توجہ نہیں دی جاتی جتنی مرکزی شہروں کے مسائل پر دی جاتی ہے۔ اگر ایک بڑا صوبہ چھوٹے اور انتظامی طور پر قابل عمل صوبوں میں تقسیم ہوجائے تو حکومت عوام کے زیادہ قریب آسکتی ہے اور فیصلے مقامی ضروریات کے مطابق کیے جاسکتے ہیں۔

لیکن صرف صوبہ بنانا ہی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر نئے صوبے میں بھی تمام اختیارات ایک ہی شہر تک محدود رہیں، سرکاری ادارے کمزور ہوں، کرپشن موجود ہو اور مقامی حکومتوں کو اختیار نہ دیا جائے تو نئے صوبے کا فائدہ عام شہری تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو صرف نقشے کی تبدیلی تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے بہتر حکمرانی کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔

پاکستان میں بہت سے لوگ جنوبی پنجاب کے الگ صوبے کی بات کرتے ہیں۔ اس مطالبے کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ احساس ہے کہ جنوبی علاقے ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کے معاملے میں مزید توجہ کے مستحق ہیں۔ ان علاقوں کے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ان کے لیے الگ صوبائی انتظام قائم ہوجائے تو ان کے مسائل زیادہ بہتر انداز میں حل ہوسکتے ہیں۔ ایک الگ صوبائی دارالحکومت اور الگ انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے سرکاری ادارے ان کے قریب آسکتے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں پر مقامی ضروریات کے مطابق توجہ دی جاسکتی ہے۔

اسی طرح بہاولپور کے حوالے سے بھی الگ صوبے کا مطالبہ موجود رہا ہے۔ اس مطالبے میں تاریخی اور انتظامی پہلوؤں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ دوسری طرف ہزارہ کے علاقے میں بھی الگ صوبے کا مطالبہ مختلف اوقات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان مطالبات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں صرف ایک علاقے کے لوگ ہی انتظامی تقسیم کی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ مختلف خطوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ موجودہ انتظامی نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

یہاں ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نئے صوبے کا مطالبہ ہمیشہ ملک دشمنی یا تقسیم کی علامت نہیں ہوتا۔ اگر کوئی علاقہ یہ چاہتا ہے کہ اس کے لوگوں کو بہتر انتظامی سہولیات، نمائندگی اور ترقی کے مواقع ملیں تو اس مطالبے کو سنجیدگی سے سننا چاہیے۔ پاکستان کے اندر انتظامی تبدیلی کا مقصد ملک کو کمزور کرنا نہیں بلکہ ریاستی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔ اگر نئے صوبے آئینی اور جمہوری طریقے سے قائم ہوں اور ان کا مقصد عوامی فلاح ہو تو انہیں قومی یکجہتی کے خلاف سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

تاہم نئے صوبوں کے قیام میں سب سے بڑا خطرہ سیاسی مفادات کا ہے۔ پاکستان میں سیاست اکثر علاقائی جذبات کے گرد گھومتی ہے۔ بعض اوقات سیاسی جماعتیں عوامی مطالبات کو اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ صوبے کا مطالبہ ایک ایسا نعرہ بن سکتا ہے جو لوگوں کے جذبات کو فوری طور پر متاثر کرتا ہے۔ لیکن صوبہ بنانا محض ایک سیاسی وعدہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑا انتظامی فیصلہ ہے۔ اس کے لیے مکمل منصوبہ بندی، وسائل، اداروں اور مالی معاملات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

اگر پاکستان میں نئے صوبے بنائے جاتے ہیں تو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ ان صوبوں کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ ایک نئے صوبے کے لیے حکومت، اسمبلی، عدالتیں، انتظامی دفاتر، پولیس، تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز اور دیگر محکمے درکار ہوں گے۔ ان تمام اداروں کے قیام اور انہیں چلانے کے لیے بڑی رقم کی ضرورت ہوگی۔ اگر نئے صوبے اپنی معاشی بنیاد مضبوط نہ کرسکے تو وہ مستقل طور پر دوسرے صوبوں یا وفاق سے مالی مدد لینے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ اس لیے نئے صوبے کے قیام سے پہلے اس کی معاشی صلاحیت کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔

یہ بھی سوچنا ہوگا کہ نئے صوبے میں روزگار کے مواقع کہاں سے پیدا ہوں گے۔ صرف سرکاری دفاتر قائم کرنے سے روزگار کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ صوبے کی معیشت میں صنعت، زراعت، تجارت، تعلیم، سیاحت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کو فروغ دینا ہوگا۔ اگر نیا صوبہ معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا تو نہ صرف سرکاری اداروں میں بلکہ نجی شعبے میں بھی روزگار پیدا ہوگا۔ اس کے برعکس اگر صوبہ صرف سرکاری ملازمتوں پر انحصار کرے گا تو اس کی معاشی ترقی محدود رہ سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے نئے صوبوں کا ایک اہم فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ ترقی کا عمل بڑے شہروں سے نکل کر چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں تک پہنچے۔ ہمارے ملک میں عام طور پر بڑے شہر تعلیم، صحت، کاروبار اور روزگار کے بڑے مراکز بن جاتے ہیں جبکہ چھوٹے شہروں کے نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ اس وجہ سے بڑے شہروں کی آبادی اور ٹریفک میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ چھوٹے علاقوں میں معاشی سرگرمیاں کم رہتی ہیں۔ اگر نئے صوبے اپنے علاقوں میں یونیورسٹیاں، ہسپتال، صنعتی مراکز اور کاروباری سہولیات قائم کریں تو لوگوں کو اپنے علاقوں سے دور جانے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔

نئے صوبے نوجوانوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔ پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کی ضرورت ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس قائم کرکے ان میں جدید تعلیمی ادارے، ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ، میڈیا، ٹیکنالوجی اور کاروباری مراکز قائم کیے جائیں تو نوجوان اپنے علاقوں میں رہ کر بھی بہتر مستقبل بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبے کے قیام کے ساتھ انسانی وسائل کی ترقی کو بھی ترجیح دی جائے۔

صحت کا شعبہ بھی نئے صوبوں کی بحث سے جڑا ہوا ہے۔ بڑے صوبوں میں بعض علاقوں کے لوگوں کو اچھے ہسپتالوں تک پہنچنے کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز علاقوں میں ماہر ڈاکٹروں، جدید طبی آلات اور ہنگامی سہولیات کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر نیا صوبہ قائم ہوتا ہے تو اس کے ساتھ صحت کا مضبوط نظام بھی قائم ہونا چاہیے۔ ضلعی سطح پر اچھے ہسپتال اور بنیادی صحت مراکز فعال کیے جائیں تاکہ شہریوں کو معمولی بیماریوں کے لیے بھی بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔

تعلیم کے معاملے میں بھی یہی صورتحال ہے۔ کسی بھی علاقے کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں کے بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے کتنے مواقع حاصل ہیں۔ نئے صوبوں کی صورت میں حکومت کو صرف نئے سرکاری دفاتر بنانے کے بجائے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا نئے صوبے کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ ہونا چاہیے۔

ایک اور اہم مسئلہ مقامی حکومتوں کا ہے۔ پاکستان میں اکثر صوبائی حکومتوں کے پاس بہت زیادہ اختیارات جمع ہوجاتے ہیں جبکہ مقامی سطح پر منتخب نمائندوں کے پاس محدود وسائل اور اختیارات ہوتے ہیں۔ اگر نئے صوبے بن بھی جائیں لیکن مقامی حکومتوں کو مضبوط نہ کیا جائے تو عام شہری کے مسائل جوں کے توں رہ سکتے ہیں۔ ایک صوبے کا دارالحکومت تبدیل ہوجانے سے شہریوں کی زندگی خود بخود آسان نہیں ہوتی۔ اصل تبدیلی اس وقت آئے گی جب ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر ادارے بااختیار ہوں گے۔

اس لیے پاکستان کو نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام کی بھی ضرورت ہے۔ مقامی نمائندوں کو وسائل اور اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ اپنے علاقوں کے مسائل خود حل کرسکیں۔ سڑکیں، صفائی، پانی، مقامی صحت، بنیادی تعلیم اور دیگر کئی معاملات مقامی حکومتوں کے ذریعے زیادہ بہتر انداز میں چلائے جاسکتے ہیں۔ اگر ہر چھوٹے مسئلے کے لیے صوبائی دارالحکومت سے منظوری درکار ہو تو نیا صوبہ بھی عوام کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا۔

نئے صوبوں کی تشکیل میں عوامی رائے بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ کسی بھی علاقے کے لوگوں سے پوچھے بغیر ان کے لیے نیا صوبہ بنانا مناسب نہیں ہوگا۔ عوام کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنے علاقے کے انتظامی مستقبل کے بارے میں اپنی رائے دیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اس معاملے کو صرف انتخابی نعرہ بنانے کے بجائے عوام کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ نیا صوبہ کیسے چلایا جائے گا، اس کا دارالحکومت کہاں ہوگا، وسائل کیسے تقسیم ہوں گے اور عام شہری کو کیا فائدہ ہوگا۔

یہ بھی ضروری ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے پورے ملک میں ایک واضح معیار بنایا جائے۔ اگر کسی علاقے میں آبادی زیادہ ہے تو اس کا جائزہ لیا جائے، اگر رقبہ بہت وسیع ہے تو اسے بھی دیکھا جائے، اگر انتظامی مشکلات موجود ہیں تو ان کا جائزہ لیا جائے اور اگر عوامی مطالبہ مضبوط ہے تو اسے بھی اہمیت دی جائے۔ اس طرح صوبوں کی تشکیل کسی سیاسی جماعت یا مخصوص شخصیت کی خواہش پر نہیں بلکہ ایک واضح قومی پالیسی کے تحت ہوسکے گی۔

اگر ایک علاقے کو صرف سیاسی طاقت کی بنیاد پر صوبہ بنایا جائے اور دوسرے علاقے کے اسی نوعیت کے مطالبے کو نظر انداز کیا جائے تو احساس محرومی بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے نئے صوبوں کے معاملے میں یکساں اصول ضروری ہیں۔ ہر علاقے کے لیے ایک ہی معیار ہونا چاہیے اور فیصلے شفاف طریقے سے ہونے چاہئیں۔

پاکستان میں صوبائی تقسیم کا ایک اور اہم پہلو قومی یکجہتی ہے۔ ہمارے ملک میں مختلف زبانیں، ثقافتیں اور علاقائی شناختیں موجود ہیں۔ یہ تنوع پاکستان کی خوبصورتی ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل اس تنوع کو کمزور کرنے کے بجائے بہتر انتظامی نمائندگی میں تبدیل کرسکتی ہے، بشرطیکہ اس عمل میں نفرت، تعصب اور لسانی سیاست کو جگہ نہ دی جائے۔ صوبہ کسی زبان یا قوم کے خلاف نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کی انتظامی ضرورت کے لیے ہونا چاہیے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ نئے صوبے بنانے سے پہلے موجودہ صوبوں کے اندر ترقیاتی وسائل کی تقسیم کا جائزہ لیا جائے۔ اگر مسئلہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے تو صوبہ بنانے سے پہلے بھی اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ اگر کسی علاقے کو ترقیاتی بجٹ مناسب نہیں مل رہا تو بجٹ کی تقسیم کا نظام بہتر کیا جاسکتا ہے۔ اگر سرکاری ادارے دور ہیں تو ان کے علاقائی دفاتر قائم کیے جاسکتے ہیں۔ اگر مقامی حکومت کمزور ہے تو اسے مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے ہر مسئلے کا حل صرف نیا صوبہ نہیں ہے۔

لیکن اگر اصلاحات کے باوجود کسی علاقے کے انتظامی مسائل برقرار رہیں اور یہ ثابت ہوجائے کہ الگ صوبہ ہی بہتر حل ہے تو پھر اس مطالبے کو نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ ریاست کا مقصد شہریوں کے مسائل حل کرنا ہے۔ اگر انتظامی ڈھانچہ عوامی ضروریات کے مطابق نہیں رہا تو اس میں تبدیلی ہونی چاہیے۔

نئے صوبوں کے قیام سے پہلے وسائل کی تقسیم بھی ایک بڑا سوال ہوگا۔ پانی، بجلی، معدنیات، زرعی پیداوار، سرکاری املاک اور دیگر وسائل کی تقسیم واضح طریقے سے کرنا ہوگی۔ اگر نئے صوبے بننے کے بعد وسائل کے معاملے پر تنازعات پیدا ہوگئے تو فائدے کے بجائے نئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس لیے صوبہ بنانے سے پہلے وسائل کی تقسیم کا واضح اور قابل قبول نظام بنانا ضروری ہے۔

اسی طرح سرکاری ملازمین کے حوالے سے بھی مکمل منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ صوبے کے مختلف محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کو نئے صوبوں میں کیسے تقسیم کیا جائے گا؟ ان کے عہدے، تنخواہیں اور سروس معاملات کیسے طے ہوں گے؟ نئے دفاتر کے لیے کتنے ملازمین درکار ہوں گے؟ ان سوالات کے جوابات پہلے سے طے کیے بغیر انتظامی تقسیم مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

عدالتی نظام بھی نئے صوبے کے لیے اہم ہوگا۔ عوام کو انصاف کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر نہ کرنا پڑے۔ نئے صوبے میں عدالتوں کا مؤثر نظام، وکلا کے لیے سہولیات اور عام شہری کے لیے سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا ضروری ہوگا۔ اسی طرح پولیس اور انتظامیہ کو بھی عوام کے سامنے جواب دہ بنانا ہوگا۔

نئے صوبوں کی کامیابی کا تعلق میڈیا اور معلومات کے نظام سے بھی ہوگا۔ مقامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مقامی میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور صحافت کو فروغ دینا چاہیے۔ جب مقامی صحافی اپنے علاقے کے مسائل کو مؤثر انداز میں سامنے لائیں گے تو حکومت کے لیے بھی ان مسائل کو نظر انداز کرنا مشکل ہوگا۔ مقامی میڈیا کسی بھی نئے صوبے میں احتساب کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو صرف سیاست دانوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ عام شہری، طلبہ، اساتذہ، صحافی، وکلا، کاروباری افراد، ماہرین معیشت اور انتظامی ماہرین بھی اس بحث میں شامل ہوں۔ ہر طبقے کی رائے سامنے آنی چاہیے۔ خاص طور پر نوجوانوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ اپنے علاقے کے مستقبل کے بارے میں کیا چاہتے ہیں۔ آخرکار نئے انتظامی نظام کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل پر ہی پڑے گا۔

اگر نئے صوبے بنائے جاتے ہیں تو ان کے قیام کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر صوبے میں نئی سیاسی اشرافیہ پیدا ہوجائے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ حکومت عام شہری کے قریب ہو، فیصلے جلد ہوں، وسائل شفاف طریقے سے خرچ ہوں اور ترقی کا فائدہ ہر طبقے تک پہنچے۔ اگر نیا صوبہ بھی پرانے سیاسی کلچر کا شکار ہوگیا تو صرف نام اور نقشہ تبدیل ہوگا، نظام نہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ نئے صوبوں کو ترقی کے لیے طویل مدتی منصوبہ دیا جائے۔ پانچ یا دس سال کے منصوبے بنائے جائیں جن میں تعلیم، صحت، روزگار، صنعت، زراعت، سڑکوں، بجلی، پانی اور ٹیکنالوجی کے واضح اہداف مقرر ہوں۔ ہر حکومت کے بدلنے کے ساتھ منصوبے تبدیل نہیں ہونے چاہئیں۔ ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی وابستگی سے بالاتر رکھنا ہوگا۔

میری رائے میں پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے کو نہ مکمل طور پر مسترد کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہر مطالبے کو فوری طور پر قبول کیا جاسکتا ہے۔ اس معاملے میں درمیانی اور متوازن راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ جہاں حقیقی انتظامی ضرورت موجود ہے، وہاں نئے صوبے کے قیام پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ جہاں مسئلہ صرف اختیارات یا وسائل کی تقسیم کا ہے، وہاں پہلے موجودہ نظام میں اصلاحات کی جانی چاہئیں۔

نئے صوبوں کی تعداد زیادہ ہونا کسی ملک کی ترقی کی ضمانت نہیں۔ اصل چیز اچھی حکمرانی ہے۔ دنیا میں ایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں انتظامی یونٹس کم ہیں لیکن نظام مضبوط ہے، اور ایسے ممالک بھی ہیں جہاں انتظامی یونٹس زیادہ ہیں لیکن عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی اصل چیلنج صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ حکمرانی کا معیار ہے۔

اگر نیا صوبہ بننے کے بعد بھی سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر موجود نہ ہو، اسکول میں استاد نہ ہو، نوجوان کے پاس روزگار نہ ہو، سڑکیں خراب ہوں، پولیس شہری کو انصاف نہ دے اور کرپشن جاری رہے تو عام آدمی کے لیے صوبے کا نام تبدیل ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر نیا انتظامی ڈھانچہ واقعی ان مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے تو پھر نئے صوبوں کا قیام ایک مثبت قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

پاکستان کو اس وقت سیاسی نعروں کے بجائے سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ نئے صوبوں کی بحث کو بھی جذباتی انداز کے بجائے قومی مفاد کے تحت دیکھنا چاہیے۔ جو لوگ نئے صوبوں کے حامی ہیں انہیں یہ بتانا ہوگا کہ نیا صوبہ کیسے چلے گا اور عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔ جو لوگ اس کے مخالف ہیں انہیں بھی صرف مخالفت کے بجائے متبادل انتظامی حل پیش کرنا چاہیے۔ اس طرح ہی ایک سنجیدہ قومی بحث آگے بڑھ سکتی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ عوامی فلاح کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ اگر کسی علاقے کے لوگ برسوں سے یہ محسوس کررہے ہیں کہ ان کی آواز نہیں سنی جارہی، ان کے مسائل حل نہیں ہورہے اور انہیں ترقی کے برابر مواقع نہیں مل رہے تو ان کے مطالبے پر غور کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اگر کسی علاقے کی تقسیم سے نئے تنازعات پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو اس کا بھی مکمل جائزہ لینا چاہیے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کی بات دراصل صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے کی بات نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کی تلاش ہے۔ اگر ہم اس بحث کو صحیح انداز میں دیکھیں تو اس سے ملک کے انتظامی نظام کو بہتر بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ لیکن اگر اسے صرف سیاسی مفادات، علاقائی جذبات یا انتخابی نعروں تک محدود کردیا گیا تو یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

پاکستان کے لیے بہترین راستہ یہی ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر قومی سطح پر سنجیدہ اور غیر جانب دار بحث کی جائے۔ عوامی رائے، انتظامی ضرورت، معاشی صلاحیت، وسائل کی تقسیم اور قومی یکجہتی کو سامنے رکھا جائے۔ جہاں نیا صوبہ واقعی ضروری ہو وہاں آئینی اور جمہوری طریقے سے اس کی تشکیل کی جائے، جبکہ جہاں مضبوط مقامی حکومت یا انتظامی اصلاحات مسئلہ حل کرسکتی ہوں وہاں وہ راستہ اختیار کیا جائے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ پاکستان کو صرف نئے صوبوں کی نہیں بلکہ بہتر نظام کی ضرورت ہے۔ اگر نئے صوبے بہتر نظام، بہتر نمائندگی، بہتر سہولیات اور متوازن ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں تو ان کا قیام ملک کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر نئے صوبے صرف نئے عہدوں، نئی عمارتوں اور نئی سیاسی طاقت کے مراکز بن گئے تو عوام کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوگا۔ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو اسی لیے سیاسی نعرے کے بجائے عوامی ضرورت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ جس فیصلے سے عام شہری کو اس کے گھر کے قریب تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور بنیادی سہولیات ملیں، وہی فیصلہ پاکستان کے بہتر مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ نئے صوبے بنیں یا موجودہ صوبوں کے نظام میں اصلاحات ہوں، اصل مقصد ایک ہی ہونا چاہیے: پاکستان کے ہر شہری کو برابر ترقی، برابر مواقع اور بہتر زندگی فراہم کرنا۔