
ہر شخص کی درجنوں دکانیں، مگر مویشی کہاں ہیں؟
یہ سفید مائع آخر آتا کہاں سے ہے؟
کیا یہ خوراک ہے یا خاموش زہر؟
اور افسوس کہ یہ مکروہ دھندہ مبینہ طور پر متعلقہ اداروں کی خاموشی میں پنپ رہا ہے۔
کیا پنجاب فوڈ اتھارٹی اسکی سرپرستی کر رہے یا خود یہ دھندہ چلا رہے ؟
کہوٹہ: دودھ یا دھوکہ؟ سات دن کی ڈائری
دن اول:
صبح اندھیرے میں شہر جاگا تو میں بھی نکل پڑا۔ سڑکوں پر غیر معمولی نقل و حرکت تھی۔ ٹینکرز، موٹر سائیکلوں پر بندھے ڈبے، اور جلدی میں چلتے لوگ یہ سب کسی منظم سپلائی کا حصہ لگ رہے تھے۔ ایک مقام پر سفید مائع ڈرموں میں منتقل ہوتا دیکھا، جو بغیر کسی جانچ کے دکانوں میں پہنچایا جا رہا تھا۔ سوال یہی تھا: کیا یہ واقعی دودھ ہے؟
دن دوم:
شہر کے مختلف علاقوں کا جائزہ لیا تو حیران کن منظر سامنے آیا۔ ہر گلی، ہر بازار میں دودھ اور دہی کی دکانیں۔ ایک ہی شخص کی کئی کئی دکانیں چل رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب شہر میں اتنے مویشی موجود نہیں تو یہ مسلسل سپلائی کہاں سے آ رہی ہے؟ یہ تضاد خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
دن سوم:
دکانداروں سے بات چیت کے دوران ایک اور پہلو سامنے آیا—قیمتوں کا مکمل فقدانِ ضابطہ۔ کہیں دودھ 240 روپے فی کلو، کہیں 250 روپے، اور کہیں اس سے بھی زیادہ۔ ہر دکاندار اپنی مرضی کا ریٹ مقرر کیے بیٹھا ہے۔ یعنی ایک طرف معیار مشکوک، دوسری طرف قیمتیں آسمان پر—عوام دوہری مار سہنے پر مجبور ہیں۔
دن چہارم:
ایک مقامی ہسپتال میں ڈاکٹرز سے گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق معدے، جگر اور الرجی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بڑی وجہ غیر معیاری اور ممکنہ طور پر ملاوٹ شدہ خوراک ہے۔ ایک مریض کے الفاظ قابلِ غور تھے: “مہنگے داموں جو چیز خریدتے ہیں، وہی بیماری بن کر لوٹ رہی ہے۔”
دن پنجم:
محکمہ صحت جسکا موقف ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی اسکو ڈیل کر رہی ہے انکا کردار اس پورے معاملے میں انتہائی اہم ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ متعلقہ حکام یا تو خاموش ہیں یا مؤثر کارروائی سے گریزاں ہیں۔ اگر شہر بھر میں اس پیمانے پر غیر معیاری دودھ فروخت ہو رہا ہے تو مستقل نگرانی کیوں نہیں؟
دن ششم:
فوڈ انسپکشن اور انتظامی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ کارروائیاں محدود اور غیر تسلسل کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متعلقہ ٹیمیں وقفے وقفے سے آتی ہیں، ایک آدھ دکان پر جرمانہ کر کے کارروائی مکمل تصور کی جاتی ہے، جبکہ مجموعی نظام جوں کا توں رہتا ہے۔ یہ طریقہ کار مسئلے کے حل کے لیے ناکافی دکھائی دیتا ہے۔
دن ہفتم:
ایک ہفتے کے مشاہدے کے بعد صورتحال واضح ہے: شہر میں دودھ اور دہی کا کاروبار وسیع ہے، مگر اس میں شفافیت، معیار اور ریگولیشن کی شدید کمی ہے۔ ایک طرف غیر واضح سپلائی، دوسری طرف من مانی قیمتیں، اور تیسری طرف کمزور نگرانی—یہ تینوں عوامل مل کر ایک سنگین مسئلہ پیدا کر رہے ہیں۔
نتیجہ:
یہ معاملہ محض کاروبار کا نہیں بلکہ عوامی صحت کا ہے۔ اگر خوراک کے بنیادی معیار پر سمجھوتہ ہو رہا ہے تو یہ ایک سنجیدہ انتظامی اور سماجی مسئلہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ:
دودھ کی سپلائی چین کو مکمل طور پر دستاویزی اور قابلِ جانچ بنایا جائے
قیمتوں کے تعین کے لیے واضح حکومتی میکنزم متعارف کروایا جائے
متعلقہ ادارے مستقل بنیادوں پر مؤثر کارروائی کریں
اور ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے
عوام کو خالص اور محفوظ خوراک فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اگر سوال اٹھ رہے ہیں، تو ان کے جواب دینا بھی لازم ہے۔