
بعض شخصیات وقت گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کی نیکیاں، خدمات اور احسانات نسلوں تک یاد رکھے جاتے ہیں۔آج میں جس عظیم شخصیت کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، وہ میرے پیارے دادا جان مرحوم ملک بابو حق نواز اعوان ہیں جو کھنال قوم کے ان محسنوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے خاندان، علاقے اور اپنے لوگوں کی خدمت کیلئے وقف کردی۔ میرے دادا جان نے بے شمار نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کئے، ان کی رہنمائی کی، انہیں اپنے پاوں پر کھڑا ہونے میں مدد دی۔ انہی کی محنت سے لگائے گئے پودے آج تناور اور پھلدار درخت بن چکے ہیں، جن کی شاخیں دور دور تک پھیل چکی ہیں۔
آج بھی ان سے فیض پانے والے لوگ اور ان کی آنے والی نسلیں انہیں محبت، احترام اور دعاوں کے ساتھ یاد کرتی ہیں۔ دادا جان 1942 میں جنگ عظیم
دوم میں حصہ لیا اور اور اپنی بہادری کا لوہا منوایا اور غازی بن کر واپس آئے۔انہیں فوج میں خدماتکے صلے میں ضلع سانگھڑ میں پانچ مربع غیرآباد اراضی دی گئی جو کہ انہوں نے بہت محنت سے آباد کی۔انہوں نے سانگھڑ شہر میں ”اعوان منزل“ تعمیر کی۔
یہ گھر برسوں تک بوچھال کلان اور گردونواح سے آنے والے اعوان برادری و دیگر افراد کیلئےمحبت، مہمان نوازی اور اپنائیت کی علامت بنا رہا۔ انہوں نے زندگی بھر دولت جمع کرنے کے بجائے انسان کمائے۔دادا جان نے اپنی ملازمت کا آغاز سندھ کے کیڈٹ کالج پٹارو سے بطور ہیڈ کلر ک کیا بعد ازاں وہ گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج سانگھڑ میں بطور ہیڈ کلرک تعینات ہو گئے قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے آبائی گاوں بوچھال کلان کے ہائی اسکول میں کلرک بھرتی ہوگئے۔1965 میں محکمہ تعلیم اسٹیبلشمنٹ برانچ لاہور میں ہیڈ کلرک کے اہم عہدے پر فائز ہوئے۔ڈیرہ غازی خان سے 1981 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر BPS-17 کی پوسٹ سے ایل پی آر پر چلے گئے۔
اپنے طویل دورِ ملازمت میں انہوں نے خاندان اور علاقے کے ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو محکمہ¿ تعلیم میں روزگار دلانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ والد بتایا کرتے تھے کہ جب دادا جان لاہور میں 1965 میں محکمہ تعلیم اسٹیبلشمنٹ برانچ میں بطور ہیڈ کلرک تھے تو مرحوم ملک سیٹھ عباس اعوان صاحب ان سے ملاقات کے لیے لاہور آئے۔ دونوں کے درمیان کسی بات پر ناراضی تھی۔ ملک سیٹھ عباس صاحب مرحوم کے گورنر پنجاب ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ مرحوم سے گہرے تعلقات تھے۔
انہوں نے دادا جان سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو گورنر صاحب سے سفارش کر کے انہیں کوئی بھی اعلیٰ عہدہ دلوایا جا سکتا ہے، مگر دادا جان نے دنیاوی منصب اور مفاد پر کبھی نظر نہیں رکھی۔ انہوں نے بغیر کسی ذاتی فائدے کے ناراضگی ختم کر دی اور تعلقات بحال کر لیے۔مرحوم ملک سیٹھ عباس اعوان صاحب کی درخواست پر، دادا جان نے اپنی آبائی زمین کا کچھ حصہ رضاکارانہ طور پر وقف کر دیا تاکہ علاقے کے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔اس دوران انہوں نے بوچھال کلان ہائی اسکول کیلئےکلاس فور کی آٹھ مستقل آسامیاں بھی منظور کروائیں جو اس وقت پنجاب کے کسی ہائی اسکول کیلئے منفرد اعزاز اور ریکارڈ تصور کیا جاتا ہے۔ان کے چھ بیٹے اور ایک بیٹی تھے، جن میں سے ایک بڑے بیٹے اور ایک بیٹی ان کی زندگی میں وفات پا چکے تھے۔
اور باقی ماندہ بچوں میں ان کے بڑے صاحبزادے، میرے والد ملک ظہور الحق اعوان، ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ دوسرے صاحبزادے پروفیسر ملک اذکار الحق اعوان محکمہ¿ تعلیم کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ تیسرے ملک انوار الحق اعوان مرحوم ایک کامیاب تاجر تھے۔ چوتھے صاحبزادے ڈاکٹر اکرام الحق اعوان محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے، جبکہ پانچویں صاحبزادے ملک امتیاز الحق اعوان حیسکو (واپڈا) سندھ میں چیف کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
ان کے پوتے، پوتیاں بھی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں اعلی عہدوں پر فائز ہیں اور اپنے دادا جان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔دادا جان میری پیدائش سے ایک سال پہلے انتقال کر چکے تھے مجھے ساری زندگی یہ افسوس رہے گا کہ میں نے اپنے دادا جان کو نہ دیکھا نہ ان کی محبت میرے نصیب میں آئی۔اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔