
کسی بھی خطے کی اصل پہچان اس کی زبان، ثقافت اور تاریخ ہوتی ہے۔ پوٹھوہار بھی ان خوش نصیب خطوں میں شامل ہے جس کی اپنی منفرد زبان، لوک روایت، موسیقی، شاعری اور تہذیب صدیوں پر محیط ہے۔ افسوس یہ رہا کہ اس زبان کو عوام میں مقبول ہونے کے باوجود وہ علمی اور ادارہ جاتی مقام حاصل نہ ہو سکا جس کی یہ مستحق تھی۔
گزشتہ چند برسوں میں تاہم ایک مثبت تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ پوٹھوہاری زبان میں کتابوں کی اشاعت میں اضافہ ہوا ہے، نئے شعراء اور ادباء سامنے آ رہے ہیں، ادبی بیٹھکیں منعقد ہو رہی ہیں اور نوجوان نسل اپنی مادری زبان میں لکھنے اور پڑھنے کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جس نے اس زبان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک نمایاں مثال حال ہی میں پنجاب آرٹس کونسل، راولپنڈی میں منعقد ہونے والا پوٹھوہار کلچر ڈے تھا۔ اس تقریب میں پوٹھوہار کی ادبی، ثقافتی اور سماجی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ پروگرام کو مختلف نشستوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جن میں پوٹھوہاری زبان و ادب، ثقافت اور لوک ورثے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر پوٹھوہاری روایتی سمی پیش کی گئی، روایتی پوٹھوہاری شعر خوانی کا ایک شاندار مظاہرہ قیصر راجہ اور ان کے ہمنواؤں نے پیش کیا، پوٹھوہاری مشاعرہ منعقد ہوا، جبکہ معروف گلوکار خادم حسین نے اپنے مقبول گیتوں کے ذریعے حاضرین کو پوٹھوہار کی ثقافتی خوشبو سے روشناس کرایا۔
اس موقع پر نوجوان شعراء، فیصل عرفان، شکور احسن اور جنید غنی راجا نے اپنے کلام سے خوب داد سمیٹی، جبکہ ان کے ساتھ پوٹھوہاری کے سینئر شعراء اور ادباء نے بھی پروگرام میں شرکت کی اور اپنا کلام پیش کیا۔ پوٹھوہاری زبان کے معروف براڈکاسٹر سید منظر امام رضوی کی موجودگی اس بات کا اظہار تھی کہ یہ زبان اب صرف ادبی حلقوں تک محدود نہیں بلکہ تحقیق، ابلاغ اور علمی مکالمے میں بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
ایسے ماحول میں یہ خبر انتہائی خوش آئند ہے کہ گوجر خان میں قائم ہونے والی یونیورسٹی آف پوٹھوہار میں بی ایس پوٹھوہاری ہسٹری، لینگویج اینڈ کلچر پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر یہ پروگرام باقاعدہ آغاز کرتا ہے تو پہلی مرتبہ پوٹھوہاری زبان، اس کی تاریخ، ادب اور ثقافت کو جامعہ کی سطح پر باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔
اس اقدام کا سہرا فرزندِ پوٹھوہار طارق شریف بھٹی کو جاتا ہے، جنہوں نے اس زبان اور خطے کی شناخت کو علمی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں علاقائی زبانوں کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے، پوٹھوہاری زبان کے لیے یہ قدم نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف ایک ڈگری پروگرام سے منزل حاصل نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ تحقیقی مراکز، لغت سازی، قدیم مخطوطات کی تدوین، لوک ادب کی دستاویز بندی، بچوں کے ادب کی تخلیق اور جدید میڈیا میں پوٹھوہاری زبان کے فروغ پر بھی کام کرنا ہوگا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس سمت میں ادبی تنظیمیں، اہلِ قلم اور نوجوان پہلے ہی سرگرم ہیں۔
آج اگر پوٹھوہاری زبان میں کتابیں شائع ہو رہی ہیں، مشاعرے منعقد ہو رہے ہیں، ثقافتی میلوں میں نوجوان اپنی زبان پر فخر کا اظہار کر رہے ہیں اور اب جامعہ کی سطح پر بھی اس کے لیے دروازے کھل رہے ہیں تو یہ یقیناً اس بات کی علامت ہے کہ پوٹھوہار اپنی تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھنے کے سفر میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
امید ہے کہ یہ سفر اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا اور آنے والے برسوں میں پوٹھوہاری زبان نہ صرف گھروں اور محفلوں میں بلکہ تحقیق، تدریس اور قومی علمی منظرنامے پر بھی اپنی مضبوط جگہ بنائے گی۔