وقت کی قدر

جس قوم نے وقت کی قدر کی وہی قوم دنیا کی امامت کرے گی ، جس نے وقت کو برباد کیا ، وقت کا درست استعمال نہ کیا وہ ناکام و نامراد ہو جائے گی ، جس فرد نے وقت کی قدر کی ، وہ کامیاب ہو جائے گا ، جس بچے نے وقت کی قدر کی وہ منزل پر پہنچ جائے گا ، آج ہم بحیثیت قوم جن مسائل کا شکار ہیں ، جن مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں ، اس کی بڑی وجہ آج پاکستانی قوم وقت کو ضائع کررہی ہے ، جس قوم کی پینسٹھ فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہو ، لیکن اس قوم کی معاشی حالت افغانستان سے بدتر ہو ، اس قوم کا بچہ بچہ لاکھوں روپے کا مقروض ہو ، بلاشبہ اور بھی بہت سارے مسائل ہیں ،ہمارا سب سے مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قوم وقت کو ضائع کررہی ہے ،

ہمارے سرکاری ملازمین دفتروں میں وقت کو ضائع کر رہیں ، ہمارا پڑھا لکھا طبقہ وقت کو ضائع کررہا ہے ، ہماری نوجوان نسل وقت کو ضائع کررہی ہے ، کسی سرکاری دفتر میں چلے جائیں ، دفتر خالی پڑے ہوتے ہیں ، ٹیبل پر فائلوں کے انبار لگے ہوتے ، سائلین بار بار دفتروں کے چکر لگاتے ہیں ، پورا پورا دن ضائع کرتے ہیں ان کے کام نہیں ہوتے ، دوکاندار گیارہ بارے بجے دوکان کھولتا ہے ، پھر رات کو گیارہ بجے تک دوکان کھلی رکھنا چاہتا یے، نوجوان رات کو جاگتا ہے دن کو سوتا ہے ،

ڈگری مکمل کرنے کے بڑی بڑی نوکریوں کے خواب دیکھتا ہے ، چھوٹی موٹی جاب کرنے کے لیے تیار نہیں،اس طرح زندگی کا بڑا حصہ برباد کر دیتا ہے ، مزدور وقت پر کام نمٹانے کے لیے تیار نہیں، ایک ایک چوک میں سو سو مزدور بیٹھیں اگر ان کو کام دے دیں تو نمٹانے کے لیے تیار نہیں ہوتا ، دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں ایک باپ بہت بڑا سرمایہ لگا کر بیٹے کو کاروبار بنا کر دیتا ہے ،بیٹا وقت پر دوکان کھولنے کے لیے تیار نہیں ،

دوکان پر آتا ہے تو اپنے موبائل میں مصروف ہوجاتا ہے ، خریدار کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی ، طالب علم کو اپنی تعلیم کی طرف توجہ نہیں ، ماں باپ اپنا اور بچوں کا وقت ضائع کرتے ہیں ، حکمران پوری قوم کا وقت ضائع کررہیں ، معاشی مسائل کا حل ایک ہے ، انرجی کرائسس کا حل ایک ہے ، بے روزگاری کا حل ایک ہے ، تمام پریشانیوں کا حل ایک ہے ، پاکستانی قوم اپنا ضائع ہونے سے بچائے ، پوری قوم اسلام کے سنہری اصولوں کو اپنانے کی کوشش کرے ، رات کو وقت پر سونے کی عادت ڈالیں ، صبح نماز فجر سے پہلے اٹھنے کی عادت اپنا لیں ، فجر کی نماز پڑھ کر کچھ ذکر کریں تلاوت کریں ، پھر سورج طلوع ہونے کے ساتھ اشراق کے دو نوافل ادا کریں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت کے مطابق ایک قبول عمرہ کا ثواب حاصل کریں ، واک کریں ، وقت پر ہلکا پھلکا ناشتہ کریں ، پھر اپنے اپنے معمولات میں مصروف ہو جائیں ، سرکاری ملازمین دفتروں میں پہنچ کر اللہ کی مخلوق کی خدمت میں مصروف ہو جائیں

ان کا خون نہ نچوڑیں ،ان کو بار بار دفتروں کے چکر نہ لگائیں، کاروباری طبقہ اپنے اپنے کاروباروں کو وقت پر شروع کردیں ، نوجوان کالج اور یونیورسٹی میں پہنچ جائیں ، اگر فراغت ملے تو کھیل کے میدان میں چلے جائیں ، مائیں اپنے اپنے گھروں کے کام کاج میں مصروف ہو جائیں ،جب ہمارے دن صبح چھ بجے سے شروع ہوں گے اور شام چھ بجے ختم ہوں گے تو اس قوم کا سب سے بڑا مسئلہ انرجی کرائسس حل ہو جائے ، کاروبار صبح چھ بجے سے شام آٹھ بجے تک چلیں تو معیشت کا پہیہ چل پڑے گا ، نوجوان چھ بجے اٹھ کر کام مصروف ہو جائے تو اس کے معاشی حالات بدلنا شروع ہو جائیں گے ، گھروں کے حالات بدلنا شروع ہو جائیں گے ، جب قوم نماز عشاء کے بعد سونے کی عادی ہو جائے گی ،

تو بی پی ، شوگر ، ٹینشن جیسے مسائل کم ہو جائیں گے ، شرط ایک ہی ہے کہ ہماری قوم وقت کی قدر کرے ، ہمارے حکمران وقت کی قدر کریں ، ہمارے سرکاری ملازمین وقت کی قدر کریں ، ہمارے طالب علم وقت کی قدر کریں ، والدین وقت کی قدر کریں ، اساتذہ اکرام وقت کی قدر کریں ، ڈاکٹرز وقت کی قدر کریں ، تو ہم بھی آگلے دس سالوں میں دنیا کے ساتھ کھڑے ہو سکیں گے ورنہ اگلے دس سال بعد ہم کہاں کھڑے ہوں گے اس کا شاہد ہمیں اندازہ نہیں ،

اللہ تعالیٰ ہمیں وقت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ، ہمارے اندر احساس پیدا ہو جائے اور ہم دفتروں میں بیٹھ کر نہ اپنا اور نہ غریب عوام کا وقت ضائع کریں ، جو لمحہ گزر گیا وہ واپس لوٹ کر نہیں آئے گا ،آئیں بحثیت قوم اپنے رب سے اور اپنے آپ سے عہد کریں کہ ہم وقت کی قدر کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت زندگی کو ضائع نہیں کریں گے ،