واسا اٹک کا ناقص نظام شہریوں کیلئے دردِ سر ، حکومت پنجاب پر سوالیہ نشان 

واسا اٹک کا نیا بلنگ اور واٹر سپلائی نظام شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے مبینہ طور پر مشکلات کا باعث بن گیا، متعدد صارفین نے غلط بلوں، کیٹیگری میں مبینہ بے ضابطگیوں، ریکارڈ میں غلطیوں، کئی ماہ تک بل موصول نہ ہونے اور شکایات کے ازالے میں تاخیر کی شکایات کرتے ہوئے حکومت پنجاب اور واسا حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ شہریوں کے مطابق بلدیہ اٹک کے دور میں واٹر سپلائی کے بل ہر تین ماہ بعد باقاعدگی سے گھروں تک پہنچتے تھے، تاہم واسا کے نظام میں منتقلی کے بعد کئی صارفین کو دسمبر کے بعد متعدد ماہ تک بل ہی موصول نہیں ہوئے، جبکہ بعض صارفین کو موصول ہونے والے بلوں میں نام، ولدیت، علاقے، لوکیشن، مکان کی کیٹیگری اور واجبات سے متعلق مبینہ غلطیاں سامنے آئیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض کم رقبے کے سنگل اسٹوری گھروں کو ایسی کیٹیگری میں شامل کیا گیا جس سے بلوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا، جبکہ اپنی کیٹیگری اور ریکارڈ درست کروانے کے لیے شہریوں کو زمین کے کاغذات، رجسٹری، تصاویر اور دیگر دستاویزات لے کر واسا دفاتر کے بار بار چکر لگانا پڑ رہے ہیں۔ بلنگ ریکارڈ پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں، شہریوں کے مطابق بعض بلوں پر صارف کا نام درج ہے مگر ولدیت موجود نہیں، جس سے ایک جیسے نام رکھنے والے صارفین کی شناخت مشکل ہوجاتی ہے اور غلط بل جمع ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ بعض صارفین نے علاقوں اور لوکیشن کے غلط اندراج کی شکایات بھی کی ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ادارے کے سروے یا بلنگ میں غلطی ہو تو اس کی اصلاح کی ذمہ داری بھی ادارے پر ہونی چاہیے، شہری کو اپنی درستگی ثابت کرنے کے لیے بار بار دفاتر کے چکر لگانا نہیں چاہیے۔ کئی ماہ کے بل ایک ساتھ، عوام پریشان شہریوں نے بتایا کہ کئی ماہ تک بل نہ آنے کے بعد اگر طویل عرصے کا بل یکمشت جاری کیا جائے تو محدود آمدن رکھنے والے خاندانوں کے لیے ادائیگی مشکل ہوجاتی ہے، اس لیے حکومت کو ایسے صارفین کے لیے اقساط کی سہولت دینی چاہیے۔ بعض شہریوں کے مطابق واسا کے نظام سے پیدا ہونے والی مشکلات کے باعث لوگوں نے سرکاری پانی کے کنکشن ختم کروا کر اپنی مدد آپ کے تحت بورنگ کروانے کو ترجیح دینا شروع کردی ہے۔ مبینہ رشوت کا معاملہ بھی سامنے آگیا واسا اٹک کی کارکردگی پر سوالات کے درمیان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے 13 ستمبر 2026 کو واسا اٹک کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس کو نئے پانی کے کنکشن کے معاملے میں مبینہ طور پر 30 ہزار روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیے جانے اور مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ معاملہ زیرِ تفتیش ہے اور الزام ثابت ہونا عدالتی کارروائی سے مشروط ہے۔ شہریوں کا حکومت پنجاب سے فوری ایکشن کا مطالبہ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واسا اٹک کے بلنگ اور سروے نظام کا فوری آزادانہ آڈٹ کرایا جائے، ہر صارف کا ریکارڈ درست کیا جائے، مبینہ غلط کیٹیگریز کی دوبارہ تصدیق کی جائے، غلط وصولیوں کا ازالہ کیا جائے، کئی ماہ کے جمع شدہ بلوں کی ادائیگی کے لیے اقساط مقرر کی جائیں اور شکایات کے لیے ایسا مؤثر نظام بنایا جائے جس کے تحت شہریوں کو معمولی نوعیت کے مسائل کے لیے بار بار واسا دفاتر کے چکر نہ لگانا پڑیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، متعلقہ صوبائی حکام، محتسب پنجاب اور واسا انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اٹک میں واسا کے نئے نظام کی کارکردگی کا فوری جائزہ لیا جائے اور عوام کو درست بل، شفاف نظام، صاف پانی اور عزت کے ساتھ شکایت کے ازالے کی سہولت فراہم کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عوامی ادارے کا مقصد شہریوں کی مشکلات کم کرنا ہے؛ اگر ایک نیا نظام بلنگ کی غلطیوں، دفتری چکروں اور شکایات میں اضافے کا سبب بن جائے تو اس کی کارکردگی کا سنجیدہ جائزہ ناگزیر ہے