مفتی خالد عمران خالد
نکاح محض دو افراد کے درمیان ایک معاہدہ نہیں بلکہ دو خاندانوں، دو مستقبلوں اور ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔ اسلام نے نکاح کے معاملے میں جہاں پاکیزگی، حیا اور خاندان کی عزت کو اہمیت دی ہے، وہیں عورت کی رضامندی اور اس کے حقِ انتخاب کو بھی نظرانداز نہیں کیا۔
آج ہمارے معاشرے میں نکاح کے حوالے سے دو متضاد رویے سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف بعض والدین بیٹی کی مرضی جانے بغیر صرف ذات، برادری، دولت، جائیداد یا خاندانی وقار کی بنیاد پر رشتہ مسلط کرنا چاہتے ہیں، اور دوسری طرف بعض نوجوان محبت کے نام پر والدین، خاندان اور شرعی طریقۂ کار کو بالکل نظرانداز کرکے خفیہ تعلقات اور بھاگ کر شادی کو اپنا حق سمجھنے لگے ہیں۔
اسلام ان دونوں انتہاؤں کو قبول نہیں کرتا۔
*اسلام کا راستہ* رضامندی، مشاورت، حیا، ذمہ داری اور عدل کا راستہ ہے۔
عورت کی رضامندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
*﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ﴾*
’’انہیں اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے ہونے والے شوہروں سے نکاح کرلیں، جب وہ معروف طریقے سے باہم راضی ہوں۔‘‘
(البقرۃ: 232)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نکاح کے معاملے میں باہمی رضامندی کو شریعت نے معتبر قرار دیا ہے۔ ولی کا کردار حفاظت، خیرخواہی، مشاورت اور مصلحت کا ہے، بیٹی کی زندگی پر جابرانہ قبضے کا نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا:
*«لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ»*
’’بیوہ کا نکاح اس سے مشورہ کیے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔‘‘
صحابہؓ نے پوچھا کہ اس کی اجازت کیسے ہوگی؟ فرمایا:
«أَنْ تَسْكُتَ»
’’اس کا خاموش رہنا (حیا کی وجہ سے) اجازت ہے۔‘‘
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
یعنی اسلام نے عورت کی مرضی کو محض ایک غیر اہم معاملہ نہیں سمجھا بلکہ نکاح کے باب میں اسے واضح اہمیت دی ہے۔
*ولی بھی شریعت کا اہم حصہ ہے*
دوسری طرف یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ اسلام نے لڑکی کو خاندان اور ولی سے بالکل بے نیاز کرکے تنہا فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے:
*«لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»*
’’ولی کے بغیر نکاح نہیں۔‘‘
(سنن ابی داؤد، جامع الترمذی، سنن ابن ماجہ)
اسی طرح ولی کے بغیر *نکاح کے بارے میں بھی احادیث وارد ہوئی ہیں۔*
انہی دلائل کی بنیاد پر جمہور فقہاء، بالخصوص امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے ہاں ولی نکاح کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
البتہ یہاں علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ فقہ حنفی کے معتبر موقف کو بھی بیان کیا جائے۔ احناف کے نزدیک بالغ، عاقل عورت کے اپنے نکاح کے انعقاد کے بارے میں جمہور سے مختلف تفصیل موجود ہے، خصوصاً جب نکاح مناسب اور کفو شخص سے ہو۔ لہٰذا اس مسئلے کو یوں پیش کرنا درست نہیں کہ تمام فقہاء کا ایک ہی موقف ہے۔
یہ ایک معتبر فقہی اختلاف ہے، جسے علمی احترام کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔
*ولی محافظ ہے، مالک نہیں**
یہ بات سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ولی کی حیثیت معتبر ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے بیٹی پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا حق مل گیا۔
*باپ اپنی بیٹی کا خیرخواہ ہے،*
مالک نہیں۔
والدین کو حق ہے کہ وہ رشتے کے بارے میں تحقیق کریں، لڑکے کے دین، اخلاق، کردار، خاندان اور ذمہ داری کا جائزہ لیں، بیٹی کو مشورہ دیں اور اس کے مستقبل کی حفاظت کریں۔
لیکن محض:
ذات، برادری، دولت، جائیداد، خاندان کی انا یا معاشرتی دباؤ
کی بنیاد پر کسی مناسب رشتے کو روکنا بھی درست رویہ نہیں۔
قرآن کا حکم ہے:
*﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ﴾*
’’انہیں مت روکو۔‘‘
(البقرۃ: 232)
*جبری نکاح اسلام کا مزاج نہیں*
حضرت خنساء بنت خِذامؓ کا واقعہ ہمارے لیے ایک واضح سبق ہے۔ ان کے والد نے ان کی ناپسند کے باوجود نکاح کردیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے ان کے معاملے میں ان کی مرضی کو معتبر قرار دیا۔
(صحیح البخاری)
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ بیٹی کو ایک بے زبان شے سمجھ کر اس کی زندگی کا فیصلہ کرنا اسلامی مزاج نہیں۔
والدین کا احترام اپنی جگہ، لیکن نکاح زندگی بھر کا معاملہ ہے؛ اس لیے بیٹی کی رضامندی کو نظرانداز کرنا ظلم کا راستہ بن سکتا ہے۔
*کیا پھر بھاگ کر شادی جائز راستہ ہے؟*
ہرگز نہیں۔
یہاں بھی ہمیں جذبات کے بجائے شریعت، عقل اور قانون کی روشنی میں بات کرنی ہوگی۔
اگر کوئی لڑکی یا لڑکا والدین سے چھپ کر، ناجائز تعلقات قائم کرکے، گھر سے بھاگ کر اور خاندان کے اعتماد کو توڑ کر شادی کو مسئلے کا حل سمجھتا ہے تو یہ معاشرتی طور پر نہایت خطرناک راستہ ہے۔
اس سے صرف ایک نکاح کا معاملہ نہیں بنتا بلکہ:
خاندان ٹوٹتے ہیں، والدین کے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے، دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں، بعض اوقات جرائم جنم لیتے ہیں، اور لڑکی یا لڑکا دھوکے اور استحصال کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔
لیکن دوسری طرف اگر والدین کسی مناسب رشتے کو بلاشرعی وجہ سے روک رہے ہوں تو نوجوانوں کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ بھاگنے کو واحد راستہ سمجھ لیں۔
حل بھاگنا نہیں، حل اصلاح اور شرعی و قانونی راستہ اختیار کرنا ہے۔
خاندان کے سمجھدار افراد، معتبر علماء، ثالثی کا نظام اور جہاں ضروری ہو وہاں قانونی ادارے اس مسئلے کے حل کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
محبت کے نام پر بے حیائی بھی قابلِ قبول نہیں
*آج میڈیا، ڈراموں، فلموں اور سوشل میڈیا نے محبت کے تصور کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔* بعض اوقات ناجائز تعلقات کو محبت، خفیہ ملاقاتوں کو آزادی اور حیا کی حدود توڑنے کو ترقی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
قرآن کا واضح حکم ہے:
﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾
’’زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک یہ بے حیائی ہے اور برا راستہ ہے۔‘‘
(الإسراء: 32)
اس لیے غیر محرم سے خفیہ تعلقات، ناجائز خلوت، فحش گفتگو، تصاویر کا تبادلہ اور جذبات کے نام پر ایک دوسرے کا استحصال اسلامی معاشرت کے اصولوں سے متصادم ہے۔
اگر کسی سے نکاح کرنا ہے تو محبت کو نکاح کے پاکیزہ راستے میں لایا جائے، نکاح کو محبت کے بعد کا آخری مرحلہ نہ بنایا جائے۔
اور اگر جرم ہو تو انصاف ضرور ہو
کسی واقعے میں اگر اغوا، زبردستی، دھوکا، تشدد یا کوئی دوسرا جرم ہوا ہے تو اس کی مذمت ہونی چاہیے اور قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔
لیکن کسی بھی فریق کو صرف افواہ، جذبات یا سوشل میڈیا کی اطلاعات کی بنیاد پر مجرم قرار دینا بھی انصاف نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
*﴿اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾*
’’انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔‘‘
(المائدہ: 8)
اور فرمایا:
*﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا﴾*
’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو؛ انصاف کرو۔‘‘
(المائدہ: 8)
*لہٰذا کسی حالیہ یا مخصوص واقعے پر رائے قائم کرنے سے پہلے مکمل حقائق سامنے آنا ضروری ہیں۔*
اسلام میں الزام نہیں، ثبوت؛ انتقام نہیں، انصاف؛ اور جذبات نہیں، عدل معیار ہے۔
میرا موقف
*میں فقہِ حنفیہ کا پیروکار ہوں، لیکن اس مخصوص مسئلے میں امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ سمیت جمہور فقہاء کے دلائل کو بھی نہایت اہم سمجھتا ہوں۔*
میری رائے میں کنواری لڑکی کے نکاح میں اس کی واضح رضامندی کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے، اور والدین کو اپنی بیٹی کی مرضی اور مستقبل کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ بھاگ کر شادی کرنا، خفیہ معاشقوں کو فروغ دینا اور والدین و خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر قدم اٹھانا معاشرے کے لیے خطرناک راستہ ہے۔
ہمیں بیٹیوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ:
اپنا حق مانگو، مگر شریعت کے دائرے میں۔
اپنی پسند بتاؤ، مگر حیا کے ساتھ۔
نکاح چاہو، مگر پاکیزہ راستے سے۔
والدین سے اختلاف ہو تو دلیل، گفتگو اور اہلِ علم کا راستہ اختیار کرو، بغاوت اور فرار کا نہیں۔
اور والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ:
بیٹی آپ کی عزت ضرور ہے، لیکن وہ آپ کی ملکیت نہیں۔
اس کی زندگی کا فیصلہ اس کی مرضی کو روند کر نہ کریں۔
آخر میں ایک بات ہم سب کے لیے
ہم اپنی بیٹی کے لیے پاکیزہ رشتہ چاہتے ہیں، تو ہمیں دوسرے کی بیٹی کے لیے بھی پاکیزگی چاہنی ہوگی۔
ہم اپنی بیٹی کی عزت چاہتے ہیں، تو ہمیں دوسروں کی بیٹی کی عزت بھی کرنی ہوگی۔
ہم اپنی اولاد کے لیے وفاداری چاہتے ہیں، تو اپنی اولاد کو بھی وفاداری اور حیا سکھانا ہوگا۔
نہ جبری نکاح اسلام ہے، نہ بے لگام محبت اسلام ہے۔
نہ والدین کی اندھی انا درست ہے، نہ نوجوانوں کی جذباتی بغاوت۔
اسلام کا راستہ رضامندی، ولی کی خیرخواہی، حیا، عدل، مشاورت اور ذمہ داری کا راستہ ہے۔
بیٹی کو اختیارِ رائے دیں،
والدین کو عزت دیں،
ولی کو خیرخواہ بنائیں،
نوجوانوں کو حیا دیں،
اور نکاح کو محبت، پاکیزگی اور ذمہ داری کا مقدس عہد بنائیں۔
یہی وہ متوازن راستہ ہے جس میں قرآن کا عدل، سنت کی رحمت، خاندان کی عزت اور فرد کی عزتِ نفس سب محفوظ رہتے ہیں۔