میرے بچپن کے شفیق دوست

قاضی بشیر احمد مرحوم و مغفورریٹائرڈ سیکرٹری ایجوکیشن، پنجاب
میرے بچپن کے شفیق دوست قاضی بشیر احمد مرحوم و مغفور سے میری دوستی کا تعلق تقریباً زندگی بھر قائم رہا۔ وہ عمر میں میرے ہم عمر تھے۔ میری پیدائش 4 فروری 1933ء کو ہوئی، جبکہ مرحوم کی پیدائش بھی اسی سال ڈھوک قاضیان میں ہوئی، جو میرے گھر کے بالکل قریب واقع تھا۔ مرحوم اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ جب اسکول جانے کے قابل ہوئے تو گاؤں کے قریب واقع ڈسٹرکٹ بورڈ پرائمری اسکول، موہڑہ دروغہ میں میرے ساتھ کچی جماعت میں داخل ہوئے۔ اتفاق سے مرحوم کے بڑے سوتیلے بھائی قاضی محبوب الٰہی اسی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔

انہوں نے ہم دونوں کو بڑی محبت اور شفقت سے اسکول میں داخل کیا اور ہماری تعلیم کا آغاز ہوا۔ اسکول میں داخل ہونے کے بعد ہم دونوں روزانہ اکٹھے اسکول جایا کرتے تھے اور واپسی پر کھیلتے کودتے ہوئے اپنے گھروں کو آتے۔ ہر دوسرے تیسرے دن کبھی بشیر احمد میرے گھر آتے اور کبھی میں ان کے گھر چلا جاتا۔ یوں بچپن ہی سے ہماری دوستی بہت گہری ہوگئی۔ ایک دن میں کچھ دیر سے اسکول پہنچا تو دیکھا کہ کلاس کے ایک کونے میں قاضی بشیر احمد بیٹھے رو رہے ہیں۔

میں نے پوچھا: بھائی جان! کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی قاضی محبوب الٰہی کا تبادلہ اسکول سے ٹیکسلا ہائی اسکول ہوگیا ہے اور وہ بھی ان کے ساتھ ٹیکسلا جانا چاہتے ہیں، لیکن انہیں یہ فکر تھی کہ اب وہ اپنی تعلیم کیسے جاری رکھ سکیں گے۔ ہم دونوں نے تیسری جماعت تک اکٹھے تعلیم حاصل کی۔ وہ زمانہ انگریز حکومت کا تھا اور غربت بھی عام تھی۔ بشیر احمد نے اپنے بڑے بھائی سے اصرار کیا کہ وہ بھی ان کے ساتھ ٹیکسلا جائیں گے اور وہاں اپنی تعلیم جاری رکھیں گے۔ چونکہ بشیر احمد شروع ہی سے تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق رکھتے تھے، اس لیے وہ اپنے بڑے بھائی کو اپنے ساتھ ٹیکسلا جانے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے ٹیکسلا اسکول میں پرائمری کا امتحان بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ اس کے بعد قاضی محبوب الٰہی کا تبادلہ ٹیکسلا سے کلر سیداں ہائی اسکول ہوگیا اور بشیر احمد بھی ان کے ساتھ کلر سیداں چلے گئے۔ کلر سیداں ہمارے گھر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور تھا۔

اس زمانے میں وہاں آنے جانے کے لیے صرف ایک بس ہوا کرتی تھی جو کچی سڑک پر تقریباً دو گھنٹے میں کلر سیداں پہنچتی تھی۔ بشیر احمد عموماً ہر اتوار کو گھر آتے اور مجھ سے ملاقات کرتے۔ ہم کھیل کود کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا مقابلہ کرتے۔ کبھی وہ مجھ سے جیت جاتے اور کبھی میں ان سے بازی لے جاتا۔ ان دنوں کلر سیداں ہائی اسکول پورے ضلع کا ایک کامیاب اور معروف اسکول سمجھا جاتا تھا۔ اس کے ہیڈ ماسٹر چوہدری گل فراز تھے، جو ایک قابل اور کامیاب منتظم تھے۔ ان کے شاگردوں میں جنرل ٹکا خان مرحوم، نیوی چیف چوہدری عبدالعزیز، معروف وکیل سردار اسحاق خان اور دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں۔ بشیر احمد نے کلر سیداں ہائی اسکول میں بڑی محنت سے اپنی تعلیم جاری رکھی اور 1947ء میں پاکستان کے قیام کے وقت مڈل کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا۔ میں نے اپنی ابتدائی تعلیم موہڑہ دروغہ اسکول سے حاصل کی،

جبکہ مڈل کی تعلیم کے لیے مجھے ساگری مڈل اسکول جانا پڑتا تھا۔ اس دوران مجھے اپنے دوست قاضی بشیر احمد کی بہت کمی محسوس ہوتی تھی۔ آخرکار میں نے بھی 1947ء میں ساگری مڈل اسکول سے بسالی مرکز میں مڈل کا امتحان پاس کرلیا۔ اس کے بعد قاضی محبوب الٰہی کا تبادلہ کلر سیداں سے ساگری ہائی اسکول ہوگیا۔ مگر 1947ء میں آزادی کے فوراً بعد مسلمان اور سکھ و ہندوؤں کے درمیان فسادات شروع ہوگئے، جس کے باعث اسکول بندہوگئے۔ ہم تقریباً ایک سال گھر پر رہے۔ یہاں تک کہ ہمارا ساگری مڈل اسکول بھی سکھوں نے جلا دیا۔ایک سال گھر رہنے کے بعد بشیر احمد نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے دوسرے سوتیلے بھائی عبدالعزیز کے پاس راولپنڈی کے علاقے مریر حسن گئے اور ان سے کہا: میں نویں جماعت میں داخلہ لینا چاہتا ہوں۔

آپ میری مدد کریں تاکہ میں ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کرسکوں۔قاضی محبوب الٰہی انہیں راولپنڈی کے ڈینی ہائی اسکول لے گئے اور وہاں کے ہیڈ ماسٹر ریاض الدین صاحب سے داخلے کے لیے درخواست کی۔ چونکہ بشیر احمد بچپن ہی سے ذہین، محنتی اور تعلیم کے میدان میں بہت لائق تھے، اس لیے انہیں ڈینی اسکول میں داخلہ مل گیا۔ وہ اپنے بھائی عبدالعزیز کے ساتھ مریر حسن میں رہنے لگے۔اسی دوران میرے والد صاحب جو فوج میں تھے، انہوں نے مجھے خط لکھا کہ میں بھی نویں جماعت میں داخلہ لے لوں۔ تاہم مجھے ڈینی ہائی اسکول کے بجائے اسلامیہ ہائی اسکول، مری روڈ میں داخلہ ملا۔ میری اور بشیر احمد کی رہائش مریر حسن میں ہی ہوگئی اور ہم دونوں نے مل کر میٹرک کا امتحان پاس کیا۔بشیر احمد نے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ ان کے بھائیوں نے ہر لحاظ سے ان کی مدد کی اور انہوں نے گورڈن کالج، راولپنڈی میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لے لیا۔مجھے کالج میں داخلہ نہ مل سکا،

اس لیے میں فوج میں بطور کلرک بھرتی ہوگیا۔ تقریباً چار سال بعد میں بیمار ہوگیا اور میڈیکل بورڈ کے ذریعے فوج سے ڈسچارج کردیا گیا۔دوسری طرف بشیر احمد نے گورڈن کالج میں اپنے دوستوں کی ایک ٹیم بنالی اور اپنی ذہانت اور محنت کی بدولت کالج میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ اگرچہ گریجویشن مکمل کرنے میں انہیں تین سال لگے، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور بالآخر 1958ء میں گریجویشن مکمل کرلی۔ گریجویشن کے کچھ عرصے بعد انہوں نے راولپنڈی تحصیل دار کی پوسٹ کے لیے مقابلے کا امتحان دیا۔ اس امتحان میں ضلع بھر کے اعلیٰ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار شریک تھے، مگر بشیر احمد اپنی قابلیت کی بنیاد پر کامیاب ہوگئے اور راولپنڈی کے تحصیل دار مقرر ہوئے۔ اس وقت میں کراچی کے منیر کینٹ میں تھا۔ بشیر احمد نے مجھے خط لکھ کر بتایا: بھائی جان! میں پنڈی کا تحصیل دار بن گیا ہوں اور آپ کو مبارک باد کا خط لکھ رہا ہوں۔ میں نے جواب میں انہیں لکھا کہ تحصیل داری کا محکمہ رشوت ستانی کے حوالے سے بدنام ہے، اس لیے انہیں اپنے عملے پر خاص نظر رکھنی چاہیے اور پوری احتیاط کے ساتھ اسے کنٹرول کرنا چاہیے۔ تاہم بدقسمتی سے وہ رشوت ستانی کے ماحول کو روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے

اور بالآخر انہوں نے تحصیل داری سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد ان کے قریبی دوست عبداللطیف الفت نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کا مقابلے کا امتحان دیں۔ بشیر احمد نے یہ مشورہ قبول کیا، امتحان کی تیاری شروع کی اور بہترین نمبروں کے ساتھ کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے مجھے کراچی میں خط لکھ کر اپنی کامیابی کی اطلاع دی۔ تاہم انہیں تقرری کا کال لیٹر ملنے میں خاصی تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھے۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے ماموں حکیم عبدالخالق صاحب سے ملیں، جو کہوٹہ میں حکمت کی دکان کرتے تھے، اور ان سے کہیں کہ وہ اس وقت کے ڈی سی لاہور راجہ حسن اختر سے سفارش کریں تاکہ کال لیٹر جاری ہوسکے۔ راجہ حسن اختر صاحب نے چیف سیکرٹری پنجاب سے بات کرکے بشیر احمد کا کال لیٹر جاری کروایا۔ یوں بشیر احمد نے لاہور سول سیکرٹریٹ میں سیکشن آفیسر، سمال انڈسٹریز پنجاب کی حیثیت سے اپنی سرکاری ملازمت کا آغاز کیا۔

اس دوران میں نے بھی ساگری اسکول میں تقریباً سات سال خدمات انجام دیں، جس کے بعد میرا تبادلہ مڈل اسکول راوت ہوگیا۔ وہاں میرے استاد قاضی شمس تبریز ہیڈ ماسٹر تھے۔ انہوں نے میرے تبادلے پر خوشی کا اظہار کیا اور مجھے اسکول کے تمام دفتری کاغذات کا انچارج بنا دیا۔ قاضی بشیر احمد سے میرا رابطہ خطوط کے ذریعے برقرار رہا۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اپنے گاؤں میں لڑکوں کے لیے ایک پرائمری اسکول قائم کرنے کی کوشش کروں۔ ان کی مدد اور رہنمائی سے میں نے یہ کام شروع کیا اور بالآخر ضلع راولپنڈی کے متعلقہ افسران سے اسکول کی منظوری حاصل ہوگئی۔ 1962ء میں پرائمری اسکول منظور ہوا اور کامیابی کے ساتھ چلنے لگا۔ اس اسکول کی بنیاد رکھنے میں میری ذاتی کوشش بھی شامل تھی۔ 1970ء میں علاقے کے لوگوں نے مشورہ دیا کہ پرائمری اسکول کو مڈل کا درجہ دلوانے کے لیے قاضی بشیر احمد سے درخواست کی جائے۔ انہوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا اور چیف سیکرٹری پنجاب سے مڈل اسکول کی منظوری دلوائی۔ اس کے ساتھ اسکول کی نئی عمارت بھی تعمیر کروائی گئی۔

اسی طرح قاضی بشیر احمد نے اپنے گاؤں میں برانچ پوسٹ آفس قائم کرنے میں بھی میری مدد کی۔ میں نے درخواست تیار کرکے علاقے کے لوگوں سے دستخط کروائے اور متعلقہ دفتر کو بھیج دی۔ قاضی صاحب نے بھی متعلقہ حکام سے ملاقات کی اور برانچ پوسٹ آفس کی منظوری حاصل کروائی۔ ان کے بڑے بھائی قاضی محبوب الٰہی، جو اسکول سے ریٹائر ہوچکے تھے، نے اس برانچ کو کامیابی سے چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ قاضی بشیر احمد علاقے کی ترقی کے لیے بھی مجھ سے مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔ ان کی کوششوں سے اسکول کے لیے گورنر پنجاب کے کوٹے سے دو اضافی کمروں کی منظوری ہوئی۔ اس طرح اسکول کی عمارت علاقے کی بہترین عمارتوں میں شمار ہونے لگی اور مقامی بچوں نے بھی اسکول میں داخلہ لینے میں بھرپور دلچسپی لینا شروع کردی۔ اسی دوران قاضی بشیر احمد کی شادی کا پروگرام بنا۔ ان کے بڑے بھائی قاضی محبوب الٰہی نے مجھ سے مشورہ کیا۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ بشیر احمد کی قابلیت، ملازمت اور مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی خاتون سے شادی ہونی چاہیے جو ان کی زندگی کی بہترین ساتھی ثابت ہو۔قاضی محبوب الٰہی نے مندرہ میں موجود بشیر احمد کے بہنوئی ڈاکٹر بشیر صاحب سے بھی مشورہ کیا۔

بالآخر بشیر احمد کی شادی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون سے طے ہوئی جو ڈاکٹر تھیں۔ بشیر احمد نے سیٹلائٹ ٹاؤن، راولپنڈی میں ایک مکان کرائے پر لیا اور شادی کے بعد ولیمہ بھی وہیں کیا۔ اس ولیمے میں انہوں نے اپنے بہت سے دوستوں کو مدعو کیا اور مجھے بھی خصوصی اہمیت دی۔ شادی کے بعد وہ اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر لاہور چلے گئے اور ان کے لیے کینٹونمنٹ بورڈ لاہور اسپتال میں بطور ڈاکٹر ملازمت کا انتظام کیا۔ دونوں نے کچھ عرصہ اسپتال کے اندر ہی رہائش اختیار کیے رکھی۔ میں بھی ان سے ملنے لاہور گیا تو مجھے دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوئی اور انہوں نے میری بڑی محبت سے مہمان نوازی کی۔ اس کے بعد قاضی بشیر احمد کی ملازمت کامیابی اور سکون کے ساتھ آگے بڑھتی رہی۔ وہ مختلف سرکاری محکموں میں اہم ذمہ داریاں انجام دیتے رہے اور بالآخر ایک کامیاب اور قابل افسر کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی۔ جب وہ بلدیات کے محکمے میں ممبر الیکشن کمیشن کی حیثیت سے تعینات ہوئے تو مجھے اپنے گاؤں کے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں حلقہ بندی کی شکایت لے کر لاہور جانا پڑا۔

ہمارے گاؤں کو ایسے علاقے کے ساتھ ملا دیا گیا تھا جہاں سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ہمارے لیے مشکل تھا۔میں نے قاضی بشیر احمد کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تو انہوں نے فوراً ڈی سی راولپنڈی سے رابطہ کرکے میری خواہش کے مطابق حلقہ بندی کروا دی۔ بعدازاں بلدیاتی انتخابات ہوئے اور ہمارے گاؤں کے عابد لطیف صاحب بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر یونین کونسل لودھرہ کے ممبر منتخب ہوگئے۔ یہ کامیابی قاضی بشیر احمد کی بروقت مدد اور خلوص کا نتیجہ تھی۔ شادی کے تقریباً دو سال بعد قاضی بشیر احمد کے ہاں ایک خوبصورت بیٹا پیدا ہوا۔ میرے مشورے پر اس کا نام خالد بشیر رکھا گیا۔ خالد بشیر نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور آج کل امریکہ میں کامیاب ڈاکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے بعد ان کے ہاں تین بیٹیاں بھی پیدا ہوئیں۔

ماشاءاللہ، تینوں نے کی تعلیم حاصل کی اور ڈاکٹر بنیں۔ ان کی شادیاں لاہور میں ہوئیں اور بعدازاں وہ بیرونِ ملک ڈاکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے لگیں۔ خالد بشیر کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہوا، جس نے تعلیم مکمل کرکے ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنا پیشہ اختیار کیا۔ قاضی بشیر احمد 1994ء میں ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے لاہور کینٹ، سرور روڈ، مکان نمبر 45/10 میں اپنی پرانی رہائش گاہ پر زندگی کے آخری ایام بڑی سادگی اور سکون سے گزارے۔ان کی مصروفیات میں بچوں کی تعلیم، پوتے پوتیوں سے ملاقات اور ان کے ساتھ وقت گزارنا شامل تھا۔

وقت کے ساتھ ان کا بیٹا امریکہ منتقل ہوگیا، جبکہ ان کی بیٹیاں بھی شادی کے بعد امریکہ اور برطانیہ میں مقیم ہوگئیں۔ ایک بیٹی، جن کی شادی اے سی لاہور کے ساتھ ہوئی تھی، لاہور ہی میں مقیم رہیں۔ ان کے شوہر احمد رضا سرور بعدازاں لاہور سے اسلام آباد منتقل ہوئے اور وزارتِ داخلہ میں سیکرٹری کے عہدے پر تعینات ہوئے۔ زندگی کے آخری حصے میں قاضی بشیر احمد کی اہلیہ بھی بیماری کے باعث معذور ہوگئیں اور وہیل چیئر تک محدود ہوگئیں۔مرحوم بشیر احمد کو دل کی بیماری کا عارضہ پہلے سے تھا اور تقریباً تیس سال قبل انگلینڈ میں ان کا دل کا بائی پاس آپریشن بھی ہوچکا تھا۔ بڑھتی ہوئی کمزوری کے باعث ان کی صحت بہت متاثر ہوگئی۔ اس کے باوجود وہ مجھ سے ہر دوسرے تیسرے دن فون پر رابطہ کرتے اور میرا حال احوال پوچھتے۔ اکثر کہتے: بھائی مشتاق! میں بہت کمزور ہوگیا ہوں، لیکن جب آپ سے بات کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری زندگی ایک دو ہفتے بڑھ گئی ہے۔

میں بھی ہر دوسرے تیسرے دن انہیں فون کرتا اور ان کا دل بہلاتا رہا، مگر قدرت کے فیصلے کے آگے انسان بے بس ہے۔ ایک رات وہ غسل خانے گئے تو کمزوری کے باعث گر پڑے اور ان کی ایک ٹانگ فریکچر ہو گئی۔ انہوں نے اپنے ملازم صداقت کو آواز دی۔ وہ فوراً پہنچا اور انہیں اسپتال لے گیا۔ خالد بشیر کے فون پر اسپتال کے ڈاکٹر بھی فوری طور پر جمع ہوگئے اور ان کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلستر کیا گیا۔ وہ تقریباً ایک ہفتہ اسپتال میں رہے۔ ایک دن ان کے ملازم صداقت نے مجھے فون کرکے بتایا کہ قاضی بشیر صاحب کی طبیعت بہت خراب ہوگئی ہے۔ میں نے قاضی صاحب کو فون کیا تو وہ