موسمیاتی تبدیلی: وقت کا سب سے بڑا چیلنج

کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب محض بحث نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔گزشتہ روز بونیر اور پیر بابا کے علاقے میں ہونے والے کلاؤڈ برسٹ نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کس قدر سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اس اچانک اور غیر معمولی بارش نے نہ صرف انسانی جانیں لیں بلکہ ریسکیو کے لیے آنے والا ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوا۔ یہ حادثہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی کمزور انفراسٹرکچر اور محدود وسائل کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کبھی بدترین سیلاب، کبھی خشک سالی، کبھی گلیشیئرز کے ٹوٹنے اور اب کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موسم اب ہمارے قابو میں نہیں رہا۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی، زمین کے غیر منصوبہ بند استعمال اور ماحولیاتی آلودگی نے ہمارے ماحول کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں معمولی بارش بھی تباہی لے آتی ہے۔
ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ محض بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ قومی سطح پر ایک جامع ماحولیاتی پالیسی تشکیل دی جائے جس میں شجرکاری کو فروغ دیا جائے، ندی نالوں اور دریاؤں کی صفائی کو یقینی بنایا جائے، ہنگامی بنیادوں پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور وسائل فراہم کیے جائیں اور شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھا جائے۔ صرف حادثے کے بعد امداد پہنچانا کافی نہیں بلکہ اصل کام اس سے پہلے حفاظتی اقدامات کرنا ہے۔تاہم یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہر شہری کو چاہئے کہ وہ درخت لگانے کو اپنی عادت بنائے، پانی کے استعمال میں احتیاط کرے اور کچرا ندی نالوں میں پھینکنے سے گریز کرے۔ اگر ہم سب نے اپنی ذمہ داری محسوس نہ کی تو آنے والی نسلوں کے لیے زمین کو محفوظ رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔
درخت کٹ گئے تو برستے بادل بھی روئیں گے
گھروں کی چھت نہیں ہو گی تو بچے کیسے سوئیں گے

تنویر اعوان