
اللّٰہ تعالیٰ کی ہستی ایک ایسی ہستی ہے جو تمام مخلوقات کی معبود ہے ۔ تمام مخلوق اللّٰہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کی محبت اور قرب چاہتی ہے مگر یہ معبود ہستی خود کسی کی محبت میں گرفتار ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر میری محبت چاہتے ہو تو میرے محبوب کی پیروی کرو تمہیں میری محبت مل جائے گی” وہ محبوب جس کی محبت میں یہ دنیا جہان تخلیق ہوئے۔ وہ محبت جس کے لیے فرشتوں سے تکرار ہوئی۔ یہ کائنات تخلیق ہوئی ۔ زمین کا فرش سجایا گیا ۔ آسماں کو سائبان بنایا گیا ۔ یہ دریا ، پہاڑ ، سمندر بنائے گئے ۔ یہ صرف اور صرف اللّٰہ نے اپنے محبوب کی خاطر ، اپنے محبوب کی محبت میں سب کام انجام دیئے اور ہم سب کو بھی یہ حکم صادر فرمایا کہ میرے محبوب کی پیروی کرو اور واضح کردیا کہ میری خوشی میرے محبوب کی خوشی میں ہے ۔ محبت کا یہی نظریہ امر ہؤا ۔
"محبت" کہ جس کے وجود سے کائنات کی تخلیق ہوئی ۔ دنیا کی حسین وادی بنی۔ رنگوں کو آشکار کیا گیا ۔ خوشبو فضا میں بکھرتی گئی ۔ پھولوں کو طشتری میں سجایا گیا ۔ پھر یوں ہؤا محبت کے اوزار سے محبت کے ذیلی بت تراشنے کی کوشش شروع ہوئی ۔ آہستہ آہستہ یہ کوشش ثمربار ثابت ہوئی ۔نئی سوچ ، نئے کلیے ، نئے نظریات ابھرتے گئے اور محبت کے مختلف فرقے وجود میں آگئے ۔ ہر فرقے نے اپنے نظریات کے اوزاروں سے اپنی محبت کا بت تراش لیا اور بھر اس کی پوجا میں غرق ہوتا چلا گیا ۔ یہاں تک کہ خود مٹ گیا اور محبت کو امر کر گیا۔محبت ایک جذبہ ہے خود کو مٹانے کا ۔ محبوب کی ادا میں ڈھلنے کا ۔ محبوب کی خاطر فنا ہو جانے کا ۔ یہی جذبہ جب انتہا کو پہنچتا ہے تو امر ہو جاتا ہے ۔ یہ ہی وہ جذبہ تھا جس نے نہر کھود دی تو کہیں تھل میں سسی دفنا دی اور کہیں چناب میں سوہنی کو بہا دیا مگر یہ سب جذبہ محبت میں انجام پایا اور محبت کو امر کر گیا ۔
محبت انا کو مار دیتی ہے ۔ تکبر دور بھگا دیتی ہے ۔ محبوب کی منشا کے آگے سر جھکا دیتی ہے ۔ ہاں مگر فخر جو محبت عطا کرتی ہے ۔ محبوب کا فخر ، اس کی ہر ہر ادا کا فخر ، اس کے جسم وجان کا فخر ، اس کی چال کا فخر ، گویا محبوب پر فخر محبت کا انمول تحفہ ہے ۔ محبت دل میں جنم لیتی ہے اور پھر دماغ کا پلو پکڑ کر قدم اُٹھاتی ہوئی آنکھوں سے وارد ہوتی ہے اور اپنے محبوب کی انگلی پکڑ کر اپنے گھر تک لے جاتی ہے اور پھر پورا گھر اسے عنایت کر دیتی ہے ۔
محبت کے ہر فرقے کا یہ عقیدہ ہے کہ محبت دل سے پھوٹتی ہے اور بے قرار زندگی کو قرار پاتی ہے ۔ دل کی کھیتی جتنی زرخیز ہوگی محبت اس قدر ثمر بار ہو گی اور محبت کے پھل میں اتنی ہی چاشنی ہوگی ۔ جتنی اس کھیتی کی آبیاری ہو گی اتنا ہی پھل بھی ملے گا ۔ مگر افسوس کہ آج تو نہ ہمیں محبت کے بیج کی پہچان ہے اور ہی محبت کی کھیتی تیار کرنے کا ڈھنگ ۔ ہم وابستگی کی بنجر زمین میں محبت کا بیج بونے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں ۔
ہم محبت کی خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور ہم وابستگی کے بنجروں میں مقصد کی چھڑی تھامے رواں رہتے ہیں اور ہمیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ مقصد کی چھڑی ٹوٹنے والی ہے اور بہت جلد یہ چھڑی ٹوٹ جاتی ہے یوں ہم وابستگی کے بنجروں میں گر کر اپنا نقصان کر گذرتے ہیں ۔ وابستگی عارضی ہے جبکہ محبت امر ہے مگر آج کے دور میں ہمارے دل بنجر ہو گئے ہیں ۔ ہم محبت کی آس میں وابستگی کو گلے لگا لیتے ہیں ۔ ہمارا دنیاوی مفاد ہی ہماری محبت قرار پاتا ہے اور اس فائدے کے مدنظر ہم محبت کا واویلا کرتے ہیں ۔
ہم وابستگی کو محبت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کرتے ہیں اور جب ہمارا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو ہمارے راستے جدا ہو جاتے ہیں ۔ وابستگی سے محبت کا لبادہ اتر جاتا ہے اور ہم محبت کے دعویدار یک لخت نفرت کی پینگ پر الارے کھانے لگتے ہیں ۔ دراصل ہم نے محبت کی ہی نہیں ہوتی ۔ ہم تو اپنا مقصد پورا کر رہے ہوتے ہیں ۔ ہم تو مطلب کے پجاری ہیں اور ہم کسی خاص مقصد کے تحت محبت کے نام کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں ۔ ہماری اسی مطلب پرستی نے محبت کو بدنام کر دیا ہے ۔ محبت محبوب کے نقشِ قدم پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے مگر وابستگی جسے ہم نے محبت کا لبادہ پہنا دیا ہے یہ ہمیں محبوب کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے ۔ جیسے ایک ہی راستے پر دو مسافر آمنے سامنے سے آ رہے ہوں۔ وہ مسافر ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں ۔
مصافحہ کرتے ہیں ۔ حال احوال دریافت کرتے ہیں ۔ کچھ ٹائم گپ شپ بھی لگاتے ہیں اور بعض اوقات کچھ وقت ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بھی گزارتے ہیں مگر اس سب کے باوجود ان کی منزل مختلف ہوتی ہے ۔ ان کے راستے جدا جدا ہوتے ہیں ۔ان کا میل ملاپ ، ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا ایک خاص مقصد رکھتا ہے ۔ وہ تو کسی مقصد کے تحت اکٹھے بیٹھے رہے اور آخر کار اپنی اپنی منزل کو چل دیئے ۔ مگر محبت ہمیں ایک ہی منزل کی طرف محبوب کے نقشِ پا کی پیروی کرنے کی تلقین کرتی ہے اور محبوب کی ادا میں ڈھلنے کی ترغیب دیتی ہے ۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم منزل پا سکتے ہیں کیونکہ محبت امر ہے ۔